اسلامی دعوت یا اسلامی ریاست – منزل ہے کہاں تیری؟


usman Qazi

برادرم عزیزم فیض اللہ خان مصرع خوب اٹھاتے ہیں، مگر جوش کی شدت میں طرح کو نظر انداز کر کے اکثر بحر ہزج کی جگہ بحر رمل میں کشتی (واضح ہو کہ یہاں کاف بالفتح ہے) لنگر انداز کر بیٹھتے ہیں۔ اب ان کے تازہ مضمون کو ہی لے لیجئے۔ بھائی مہمیز ہوۓ ہیں ایک تصویر سے جس میں کوئی خاتون ’ملاؤں‘ کو دعوت مبارزت دے رہی ہیں۔ سچ یہی ہے کہ یہ تصویر اس سے پہلے ہماری نظر سے نہیں گزری تھی اور اگر برادرم فیض اللہ خان یہ مضمون نہ لکھتے تو ہمیں یہ بھی علم نہ ہو پاتا کہ ’ملاؤں‘ نے اس کے جواب میں ’سینہ بہ سینہ، شانہ بشانہ‘ مقابلے کی ٹھانی ہے۔ آج تک ہم سمجھتے آئے تھے کہ ’سینہ بہ سینہ‘ کا مطلب معلومات کو منہ زبانی آگے تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اور ’شانہ بہ شانہ‘ سے مراد متحد ہو کر کوئی کام کرنا ہوتا ہے۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ تحریر میں مذکور (اگر چہ نا معلوم) ملاؤں نے مقابلے کے بجائے زبانی مکالمے کا عندیہ دیا ہے اور اس کے نتیجے میں اتفاق رائے سے خواتین کے حقوق کی جد و جہد میں ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے۔ یہاں تک پڑھ کر ہماری نگاہوں میں قرون اولی کے وہ ایمان افروز مناظر دوڑ گئے جب بدوؤں کے ظالمانہ پدر سری سماج میں خواتین کو زبردستی کی شادی سے تحفظ، وراثت میں حصہ، گواہی کا صواب وغیرہ جیسے حقوق، جاہلیہ کے رواجات کے اصنام کو پاش پاش کر کے تفویض کیے جا رہے تھے۔سونا اٹھآئے، اکیلی خاتون کے صحرا میں بلا خوف سفر کو یقینی بنایا جا رہا تھا۔۔ علی هذا القیاس۔۔۔

مگر افسوس ۔۔ آئے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔۔ آگے پڑھا تو پتا چلا کہ مذکورہ محاوروں میں لسانی اجتہاد کر کے انہیں مکالمے اور تعاون کی کے بجائے محاربہ و مقاومہ کے طور پر برتا گیا۔ اس لسانی رجعت قہقری پر تو خیر اہل زبان ہی درست رائے دے پائیں گے، ہمیں برادرم فیض اللہ خان کے مضمون کے مندرجات میں سے کچھ پر بات کرنا ہے۔ ہمیں زیر نظر مضمون میں جو نکتہ سب سے بڑھ کر خوش آیا، وہ صاحب مضمون کا، ابتدا میں، غلبہ اسلام کے اصل طریقے یعنی ’دعوت‘ پر زور دینا ہے۔ یہ دیکھ کر بھی مسرت ہوئی کہ برادرم نے، کم از کم آغاز مضمون میں، اسلام اور مسلمانوں کے چند نادان دوستوں کی طرح اغیار کے اسلام پر بزور شمشیر پھیلائے جانے کے الزام کو تقویت نہیں دی، ورنہ خود ساختہ ’اسلامسٹ‘ دوست اکثر و بیشتر ’محبت کا بیاں ہو جا، اخوت کی زباں ہوجا‘ کے بر عکس ’کاٹ کر رکھ دیۓ کفار کے لشکر ہم نے‘ پر غرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

تحریر میں آگے چل کر کچھ سخن گسترانہ نکات در آئے ہیں جو یا تو زور بیان کا نتیجہ ہیں یا فکری خلجان کا۔۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ خاتون کی تصویر میں مذکور ’جنگ‘ کی ابتدا کس کی جانب سے ہوئی۔ صوبائی حکومت نے جن قبیح اور غیر اسلامی حرکات کے سد باب کے لئے جو مسودۂ قانون پیش کیا تھا، اس پر سنجیدہ بحث کے بجائے اس کے مویدین کو ازراہ تمسخر ’زن مرید‘ کا خطاب دینا، کسی عقلی و نقلی دلیل کا تکلف کیے بغیر اسے خلاف اسلام قرار دینا، یا اس کی حامی کسی خاتون کو فاحشہ قرار دینا مختلف درجوں میں اشتعال انگیزی کے زمرے میں آنے والے اقدامات ہیں۔ محترم مضمون نگار نے اس پیرایہ اظہار سے خفیف سی بیزاری کا اظہار ضرور کیا ہے مگر اس بد تمیزی کے آغاز کی ذمہ واری کے تعین کے بارے میں سکوت فرمایا ہے۔ اسی جگہ ’ملاؤں‘ کو ’اسلام‘ کا ہم معنی ٹھہرا کر سراسر سبقت قلم کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ہماری راۓ میں تو ملائی ذہنیت کے باب میں سب سے زیادہ سخت کلامی کلام اقبال میں پائی جاتی ہے جو ملا کے اسلام کو مذہب جمادات و نباتات کا مذہب، اس کا کام فی سبیل اللہ فساد اور اس کی اذان کو بے تاثیر قرار دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام میں ’دعوت الی اللہ‘ ہر مسلمان مرد و زن کا کام ہے اور قرون اولی سے ملوکیت کے آغاز کے دور تک، ہمیں تاریخ اسلام میں اس کام کے لئے کسی مخصوص طبقے کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ چنانچہ ملا کو شعائر اسلامی کا تقدس عطا کرنا ایک بدعت سے زیادہ کچھ نہیں۔

کئی خود ساختہ ’اسلامسٹ‘ دوست دوسروں کی نیت اور دلوں کے حال پر حکم لگانے کے شائق پائے جاتے ہیں۔ بظاہر اس ’صحبت طالح‘ کا کچھ ناگوار اثر محترم مضمون نگار کی تحریر میں بھی در آیا ہے۔ فرماتے ہیں، ’آپ میں سے بیشتر کا پس منظر یا تو فرقہ ورانہ ہوگا یا پھر دین اسلام سے خدا واسطے کی چڑ رکھتے ہوں گے‘۔ اس ’ہو گا‘ کے بلا ثبوت گمان کی روشنی میں یہ فتوی بھی جڑ ڈالا کہ، ’ملا کی آڑ میں اسلام پہ طنز کے نشتر چلاتے ہیں‘۔ ہمیں تو اس کے بر عکس اکثر یہ تجربہ ہوا کہ کچھ دوست فرسودہ اور ظالمانہ پدر سری اقدار کو، جن کا دین حنیف کی اصل سے کوئی تعلق نہیں، تقدس کا لبادہ پہنا کر تجزیہ و تنقید سے ماورا بتانا چاہتے ہیں۔ ہم خدانخواستہ دلائل کی اس قدر اسفل سطح پر اترنے پر خود کو آمادہ کر پاتے تو ایسا گمان زبان قلم سے پھسل جاتا کہ عورت کے حقوق کی بازیابی سے خوف زدہ ہونا مردانہ کمزوری کے شعوری یا لا شعوری احساس کی پیداوار ہے، مگر ہم واضح ثبوتوں کی موجودگی میں بھی ایسا حکم اس لئے نہیں لگائیں گے کہ نیتوں اور دلوں کے حال کا محرم صرف اللہ کی ذات کو سمجھتے ہیں۔

خادم کی رائے میں سب سے سنگین فکری مغالطہ آخر میں در آیا ہے جس میں برادر عزیز نے دعوت کے ناقص ہونے کا سبب ’اسلامی ریاست‘ کی عدم موجودگی کو ٹھہرایا۔ ہے۔ بہ الفاظ دیگر، پہلے اسلامی ریاست قائم ہو گی پھر اس ریاست کے وسائل دعوت کے نقائص دور کرنے کے لئے استعمال کر کے دعوت کا حق ادا کیا جآئے گا۔ فی الوقت ’اسلامی ریاست‘ کی بدعت پر بحث سے صرف نظر کرتے ہوۓ اس خیال میں پنہاں تاریخی اور عملی اشکال کی جانب اشارہ مقصود ہے۔ جیسا کہ برادر عزیز نے خود اشارہ کیا، قرون اولی میں اسلام کی دعوت کو سب سے زیادہ اور کٹھن رکاوٹوں کا سامنا تھا، اور مسلمانوں کو ریاست تو درکنار، پناہ تک بمشکل میسر تھی۔ مگر قبول اسلام کے معجزاتی اور بہترین پھیلاؤ کا زمانہ بھی یہی ہے۔ نسبتا حال کی جانب آئیں تو دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی کے حامل خطے یعنی انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگا پور، مالدیپ اور برونائی وغیرہ میں کبھی مسلمان فاتحین نہیں پہنچے۔ اگر برادر عزیز کی بیان کردہ منطق درست ہوتی تو سب سے زیادہ اور سب سے راسخ العقیدہ مسلمان وہاں ہونے چاہییں جنہیں مسلمانوں نے فتح کیا۔ اعداد و شمار اور تاریخی حقائق اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ماضی قریب اور حال میں ’اسلامی ریاست‘ کے دعوے داروں نے انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے دنیا بھر میں اسلام کا جو تاثر پھیلایا ہے، اس کے تو ہم آپ عینی شاہد ہیں، اور ہر سلیم الطبع مسلمان اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے ۔اہم تر بات یہ کہ برادر عزیز کا بیان کردہ کلیہ نہ نہ کرتے ہوۓ بھی بیان کو اسی دلدل میں لے جاتا ہے۔ جس سے وہ شروع میں دامن بچا رہے تھے، کہ جہاں فروغ اسلام ، زور شمشیر کا مرہون منت ٹھہرتا ہے۔

بطور تتمہ عرض ہے کہ خادم سواد اعظم کے علما کی اس رائے سے خود کو متفق پاتا ہے کہ اسلام کا بنیادی مخاطب فرد ہے اور فرد کا تزکیہ نفس، اور اس راہ سے، فکر آخرت اور فلاح دنیا کے امتزاج پر مشتمل سماج کا قیام، اس کا ہدف ہے۔ ریاست کی قوت قاہرہ زیادہ سے زیادہ اپنے زیر نگین افراد کو ظواہر کی پابندی پر مجبور کر سکتی ہے، ذہنی تطہیر اس کے بس کی بات نہیں، نہ ہی یہ اس کا میدان ہے۔۔۔ جو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتح زمانہ۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “اسلامی دعوت یا اسلامی ریاست – منزل ہے کہاں تیری؟

  • 21-03-2016 at 11:37 pm
    Permalink

    A very comprehensive and logical response.

  • 22-03-2016 at 12:13 am
    Permalink

    آپ لکھتے ہیں کہ : ’’یہ دیکھ کر بھی مسرت ہوئی کہ برادرم نے، کم از کم آغاز مضمون میں، اسلام اور مسلمانوں کے چند نادان دوستوں کی طرح اغیار کے اسلام پر بزور شمشیر پھیلائے جانے کے الزام کو تقویت نہیں دی، ورنہ خود ساختہ “اسلامسٹ” دوست اکثر و بیشتر “محبت کا بیاں ہو جا، اخوت کی زباں ہوجا” کے بر عکس “کاٹ کر رکھ دیۓ کفار کے لشکر ہم نے” پر غرہ کرتے نظر آتے ہیں۔‘‘
    جب کہ حقیقت یہ ہے کہ موصوف اپنے ہی کسی گزشتہ کسی مضمون میں دھڑلے سے یہ لکھ چکے ہیں کہ : ’’مکے میں دعوت سے شروع ہونے والا مذہب مدینے میں دین کی صورت میں ریاستی انداز میں نافذ ہوتا ہے اور نیک نیتی کیساتھ اسکی دعوت کی وسعت کے بارے میں منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پہ قیصر و کسریٰ کو پہلے دعوت دیجاتی ہے وفود بھیجے جاتے ہیں اور اسلام کے آفاقی پیغام کو ٹھکرانے کے بعد جنگ کے میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے ( اب یہ مت کہئیے گا کہ اسلام تلوار سے ہی پھیلا بلکہ سری لنکا ملائشیا انڈو نشیا سمیت کئی خطے فقط دعوت سے زیر ہوئے)۔‘‘
    موصوف بزور شمشیر اسلام پھیلنے کا عقیدہ رکھتے ہیں اس لئے آپ زیادہ خوش نہ ہوں۔

  • 22-03-2016 at 11:46 am
    Permalink

    راشد صاحب، خادم کو مضمون نگار کے دوسرے مضمون سے کسب فیض کا موقع نہیں ملا. درج بالا گزارشات صرف ان کے تازہ ترین مضمون کی روشنی میں لکھی گئیں. آپ کی کی گئی نشاندہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ “اسلامو فوبیا” کے صنم خانے کو “اسلامسٹ” کعبے سے نگہبانوں کی فراہمی روز افزوں ہے… چوں کفر از کعبہ بر خیزد، کجا ماند مسلمانی.. ویسے خادم اس امر میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ جو اسلامسٹ دوست در حقیقت مستشرقین کے اسلام پر بزور شمشیر پھیلنے کے الزام کے قائل ہیں، وہ بغیر لگی لپٹی اپنا موقف دلائل کی روشنی میں بیان فرمائیں، تاکہ اس پر مکالمہ ہو اور کچھ سیکھنے کا موقع ملے.

  • 22-03-2016 at 8:37 pm
    Permalink

    ایک ناقابل اشاعت مضمون جو فیاض اللہ صاحب کے جواب میں لکھا تھا:
    جناب فرنود عالم اور فیض اللہ خان صاحبان کی فکری نشست سے خاکسار کو ’’مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات‘‘ یاد آگئی۔سوچا ہم بھی اس علمی بحث میں کودتے ہیں۔
    جناب فیض اللہ خان صاحب رقمطراز ہیں: “
    ہم سب” مسلمان ہی ہیں تا آنکہ تبدیلی مذہب کے عمل سے گزر نہ جائیں۔ پھر مسئلہ کیا ہے اور اختلاف کہاں پیدا ہوتا ہے ؟ جناب والا معاملہ ہے ریاست کے مسلمان ہونے کا۔ یہی وہ تبدیلی کا نقطہ ہے جہاں سے ہمارے آپکے راستے جدا ہوتے ہیں اور اس بابت سیرت سے سبق لیا جاتا ہے کہ کس طرح مکے میں دعوت سے شروع ہونے والا مذہب مدینے میں دین کی صورت میں ریاستی انداز میں نافذ ہوتا ہے اور نیک نیتی کیساتھ اسکی دعوت کی وسعت کے بارے میں منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پہ قیصر و کسریٰ کو پہلے دعوت دیجاتی ہے وفود بھیجے جاتے ہیں اور اسلام کے آفاقی پیغام کو ٹھکرانے کے بعد جنگ کے میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے ۔
    فیاض صاحب دراصل مودودی فکر ہی کے خوشہ چیں ہیں۔اب اصل میں تو یہ الزام پہلے پہل مخالفین اسلام اور مستشرقین کی جانب سے لگتا رہا ہے اور ہم یہی سمجھتے رہے کہ یہ دراصل مخالفین ہی ہیں جو اسلام جیسے پرامن،اور آشتی کے مذہب پر تلوار سے دین کے پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں مگر ہمیں کیا خبر تھی کہ درونِ خانہ بھی ایسی چہ میگوئیاں ہیں جو مخالفین کے ہاتھ مضبوط کرنے والے ہیں۔
    عقائد کا اختلاف تو دنیا میں ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور انسان اس بارہ میں کلیۃً آزاد ہے کہ اپنے دلی یقین کے مطابق جوعقیدہ چاہے اپنائے اور اپنی نجات جن نظریات میں چاہے تصور کرے مگر یہ حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا کہ اپنے عقائد کو جبراً کسی پر ٹھونسنے کی کوشش کرے یا ایسے عقائد کے مطابق عمل پیرا ہو جو ظلم اور تعدی کی تعلیم دیتے ہوں۔یہ طریق جب بھی اختیار کیا جائے گا ایک لامتناہی فساد اور خون ریزی کا نا تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
    آنحضرت ﷺ کی اشاعتِ اسلام کے طریق کے بارہ میں دنیا میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:
    ۱)معاندین اسلام (اور چند محبین بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں) کے نزدیک آنحضرتﷺکی جنگیں جارحانہ تھیں اور اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔
    مگر
    ۲)غیر جانبدار تحقیق یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے کبھی اشاعت اسلام کی غرض سے تلوار نہیں اٹھائی اور آپ کی تمام جنگیں مدافعانہ تھیں۔اسلام پھیلا ہے تو محض آپ کی روحانی اور اخلاقی طاقتوں سے۔
    ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بعض مسلمان ’’رہنما‘‘ جبروتشدد کے نظریہ کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ بانی اسلامﷺ کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے دین اور اسکی قوت قدسیہ کو بھی اپنے کھوکھلے دلائل اور کرم خوردہ قوتوں کی طرح ایسا کمزورجانتے ہیں کہ گویا اگر تلوار اس کے قبضئہ قدرت میں نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی وہ عظیم روحانی تبدیلی پیدا نہ کر سکتا جو عرب سے پھوٹنے والے اس روحانیت کے سرچشمہ نے چند سالوں میں کرکے دکھا دی تھی۔
    مولانا مودودی صاحب واشگاف الفاظ میں لکھتے ہیں:
    ’’رسول اللہﷺ ۱۳ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے ۔وعظ وتلقین کا جو مؤثر سے مؤثر انداز ہوسکتا تھا اسے اختیار کیا ۔مضبوط دلائل دئیے،واضح حجتیں پیش کیں،فصاحت وبلاغت اور زور خطابت سے دلوں کو گرمایا ۔۔۔لیکن آپ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپ کی صداقت کے روشن ہوجانے کے باوجود آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکارکردیا۔۔۔لیکن جب وعظ وتلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے تلوار ہاتھ میں لی۔۔۔تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی وشرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔طبعیتوں سے فاسد مادے خودبخود نکل گئے۔‘‘
    یعنی وہ گندہ اور سخت بہیمانہ الزام جو اسلام کے اشد ترین متعصب دشمنوں کی طرف سے اسلام اور بانی اسلام پر لگایا جاتا رہا ہے جسے یورپ کے یاوہ گو مستشرقین گزشتہ صدی تک عیسائی دنیا میں اچھالتے رہے اور اسلام سے دلوں کو متنفر کرتے رہے وہ آج خود ایک مسلمان ’’رہنما‘‘ کی طرف سے اس مقدس رسول کی ذات پر لگایا جارہا ہے۔گو الفاظ کو میٹھا بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر گولی وہی کڑوی اور ناپاک اور زہریلی گولی ہے جو اسلام دشمنوں کی طرف سے رسول اللہ پر پھینکی جاتی تھی۔یہ وہی پتھر ہے جو اس سے پہلے جارج سیل ،سمتھ اور ڈوزی جیسے مستشرقین نے آنحضرت پر پھینکا تھا۔یہ وہی الزام ہے جو بے خبر گاندھی نے لگایا تھا۔گاندھی کے الفاظ میں:’’اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا جس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور آج بھی تلوار ہے۔‘‘مگر اسی گاندھی کو اپنا یہ عقیدہ بدلنا پڑا جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
    مستشرق ڈوزی لکھتا ہے:محمد کے جرنیل ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر تلقین کرتے تھے۔‘‘
    سمتھ لکھتا ہے:محمد ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر مختلف اقوام کے پاس جاتے ہیں۔‘‘
    ان سب مخالفین کی آوازوں کو سنئے اور پھر مولانا مودودی کی مندرجہ بالا عبارت عبارت کا مطالعہ کیجئے۔کیا یہ بعینہ وہی الزام نہیں جو اس سے پہلے بیسیوں دشمنان اسلام نے رسولِ معصوم کی ذات پر لگایا تھا۔ان سب میں اور مودودی صاحب میں یہ بات مشترک ہے کہ انہیں انسانی فطرت کے اس رازسے ہی آگاہی نہیں کہ کسی چیز کو زبردستی منوایا ہی نہیں جاسکتا۔جو چیز تلوار سے منوائی جائے وہ دل میں کہاں اترتی ہے؟کیا آپ کے جاں نثاران جو آپ پر اپنےماں باپ کو قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور محبت وعشق کی انتہائی مقام پر تھے، ان کے اندر یہ محبت واخوت تلوار نے پیدا کی تھی؟یہ محبت تلوار کے زور سے پیدا کی جاسکتی ہے؟دلوں کے زنگ تلوار سے کہاں اترتے ہیں؟جس حقیقت سے مودودی صاحب بے خبر تھے اس حقیقت کو پروفیسر رام دیو صاحب پاگئے۔موصوف لکھتے ہیں:’’لیکن مدینہ میں بیٹھے ہوئے محمد صاحب نے ان میں جادو کی بجلی بھر دی۔وہ بجلی جو انسانوں کو دیوتا بنا دیتی ہے۔۔۔اور یہ غلط ہے کہ اسلام محض تلوار سے پھیلا ہے۔یہ امرِ واقعہ ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے کبھی تلوار نہیں اٹھائی گئی۔اگر مذہب تلوار سے پھیل سکتا ہے تو آج کوئی پھیلا کر دکھا دے۔‘‘
    اس آخری فقرہ میں کیسی لازوال سچائی بھری ہوئی ہے۔داعش ،القاعدہ،بوکوحرام اور اس قبیل کی دوسرے دہشت گردگروہ لاکھوں انسان کو تہہ تیغ کرچکے مگر کیا کہیں بھی بزور بازووشمشیر یہ مذہب کو پھیلا سکے ہیں؟اپنی سوچ کو پھیلا سکے ہیں؟بلکہ جتنے زیادہ ان کے مظالم بڑھ رہے ہیں اسی قدر دنیا ان سے بیزار ہوکر ان پر لعنت ملامت کررہی ہے۔مذہب تو دور کی بات ایک نظریہ تک بزور شمشیر پھیلانا ناممکن ہے کجا یہ کہ کروڑوں انسانوں کو تلوار کے زور سے اپنا ہمنوا بنالیا جائے۔
    مسٹر گاندھی کو بھی آخرکار اپنی رائے بدلنی پڑی۔کہتے ہیں :’’میں جوں جوں اس حیرت انگیز مذہب کا مطالعہ کرتا ہوں حقیقت مجھ پر آشکارا ہوتی جاتی ہے کہ اسلام کی شوکت تلوار پر مبنی نہیں۔‘‘
    گاندھی جیسے سیاستدان کو بھی اس بات کی سمجھ آگئی جسے مودودی جیسا مسلمان بھی سمجھنے سے قاصر رہا۔اسلام اپنی محبت،الفت،دعوت اور کردار کے زور پر پھیلا۔
    فیاض اللہ خان صاحب بھی یہی کچھ کہہ رہے ہیں: ’’اسی سلسلے کی کڑی کے طور پہ قیصر و کسریٰ کو پہلے دعوت دیجاتی ہے وفود بھیجے جاتے ہیں اور اسلام کے آفاقی پیغام کو ٹھکرانے کے بعد جنگ کے میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے۔‘‘
    مندرجہ بالا پیراگراف کو دوبارہ سہ بارہ پڑھیں ہر دفعہ یہی معنی نکلتے ہیں کہ اسلام نے جس کو بھی دعوت دی اگر اس نے وہ دعوت قبول نہیں کی تو اسکے خلاف جنگ کا میدان گرم کردیا گیا۔جو بھی اسلام کے پیغام کو ٹھکرائے اسے زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔یا تو وہ اسلام قبول کرے یا پھر جنگ کے لئے تیار رہے وگرنہ اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔
    اگر اسلام اس چیز کا نام ہے کہ ہر بندہ،گروہ،جماعت،ملک جو دعوت کا انکار کرے تو اسے تہہ تیغ کردو تو ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ کا کیا مطلب ہوا؟اسلام امن کا دین ہے تو پھر کھوکھلا نعرہ ہوا۔پھر تو داعش اور طالبانی فکر ہی دین کی بہترین شکل ہے ۔پھر تو اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے کہنے میں کیا حرج ہے۔موصوف بریکٹ میں لکھتے ہیں۔( اب یہ مت کہئیے گا کہ اسلام تلوار سے ہی پھیلا بلکہ سری لنکا ملائشیا انڈو نشیا سمیت کئی خطے فقط دعوت سے زیر ہوئے) جناب جب دین اسی کانام ٹھہرا کہ پہلے کسی کو دعوت دو اگر نہ مانے تو تہہ تیغ کردو تو پھر اسلام کو تلوار کے زور پر پھیلانے سے ہچکچاہٹ کیوں؟سری لنکا،ملائیشیا،انڈونیشیا جیسے خطے خوش قسمت تھے جو فقط دعوت سے زیر ہوئے وگرنہ انہیں بھی تلوار کے کاری وار سے دین کے دائرہ میں داخل کیا جاتا اور ان کی عاقبت سنواری جاتی۔
    آنحضرتﷺ کی طرف سے لڑی جانے والی جنگوں کا اگر اک نظر بھی مطالعہ کرلیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ یہ تمام جنگیں دفاعی جنگیں تھیں۔ہر جنگ میں آپ کو لڑائی کے لئے مجبور کیا گیا۔آپ نے کبھی بھی لڑائی میں پہل نہیں کی،بلکہ مکہ میں جب آپﷺ اور آپ کے اصحاب پر مظالم کی انتہا کی گئی تو اس وقت آپ کو جنگ کرنے کی اجازت ہی نہیں ملی اور صرف ہجرت کی اجازت ملی تاکہ ان مخالفین سے جان چھوٹ جائے،مگر مدینہ جاکر بھی ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں جاری رکھیں تب جنگ کی مشروط اجازت ملی۔سورۃ حج کی ان آیات کا ترجمہ یہ ہے جس میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی:
    ’’ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جارہا ہے،لڑائی کی اجازت دی جاتی ہے۔کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔یعنی وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا ،محض اس بنا پہ کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی ۔‘‘

    کتنی واضح اور بغیر کسی لگی لپٹی کے یہ آیت لڑائی کی وجہ بیان کر رہی ہے۔مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکالنے کی وجہ سے انہیں دفاعی لڑائی کی اجازت دی جارہی ہے۔اور اگر اس لڑائی کی اجازت نہ دی جاتی تو یہودونصاری کی عبادت گاہیں بھی مسمار ہوجاتیں ۔یعنی ان لڑائیوں کے ذریعے مسلمانوں کو مذہبی آزادی قائم کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔
    چنانچہ آنحضرتﷺ اور آپ کے اصحاب نے ہمیشہ اس اجازت کے تحت ہی اپنا دفاع کیا اور جہاں تک قیصروکسری پر میدان جنگ میں فتح حاصل ہونے کی بات ہے تو یہ صرف ایک دعوی بلا دلیل ہے۔ان کو دین کی دعوت آنحضرتﷺ نے اپنی زندگی میں ہی دے دی تھی اور ان کے انکار پر ان سے کوئی لڑائی نہیں کی گئی،بلکہ کسری نے جب آپ ﷺ کا خط پھاڑ ڈالا تو آپ نے صرف یہ کہنے پر ہی اکتفا کیا کہ اللہ تمہاری سلطنت کو بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کرے ۔
    روم وایران پر فوجی حملہ خلفائے راشدین کے دور میں ان کی طرف سے حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں اور باغیوں کی مدد کرنے پر کیا گیا اور جب فتح حاصل ہوئی تو کسی کو بھی جبراً مسلمان نہیں کیا گیا بلکہ مذہبی آزادی قائم کی گئی۔

  • 23-03-2016 at 11:18 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا راشد صاحب

  • 24-03-2016 at 12:20 am
    Permalink

    بہت اچھے عثمان بھائی

Comments are closed.