انڈیا: کابینہ کتی جانب سے تین طلاق کو جرم قرار دینے کی مجوزہ قانون کی منظوری


مسلم خواتین

Getty Images
حکومت کا موقف ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے ان حقوق کا تحفظ کر رہی ہے جن کی انہیں آئین میں ضمانت دی گئی ہے

انڈیا کی وفاقی کابینہ نے ایک ہی نشست میں تین طلاق کی روایت کو قانوناً جرم بنانے کے لیے ایک مجوزہ قانون کی منظوری دیدی ہے جسے اب پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

اس قانون کے تحت ایک ساتھ تین طلاق کہہ کر شادی ختم کرنے والے شوہر کو زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔ بل منظور ہوجانے کے صورت میں فوری طلاق ایک ناقابل ضمانت جرم بن جائے گا، چاہے طلاق زبانی دی گئی ہو، تحریری شکل میں یا ایس ایم ایس وغیرہ پر۔

’تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے والوں کو سال قید کی سزا‘

’نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنا جرم ہے‘

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اب یہ بل پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو جعمہ ہی سے شروع ہوا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے فی الحال حکومت کے فیصلے پر کئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ بورڈ کے رکن ظفریاب جیلانی کے مطابق مجوزہ قانون کے مضمرات پر غور و فکر کے لیے سترہ اگست کو بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس کے بعد ہی اس بل پر بورڈ کی رائے کا اظہار کیا جائے گا۔

اس سے پہلے اگست میں سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی قرار دیے دیا تھا لیکن اس فیصلے کے باوجود طلاق کے اس متنازع طریقے کو استعمال کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔

مسلم تنظیموں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے کوئی درخواست داخل نہیں کی ہے۔ مسٹر جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن ’اگر کوئی مناسب موقع آتا ہے‘ تو عدالت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی جائے گی۔

لیکن ان کا الزام ہے کہ حکومت یکسان سول کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے اور مسلمانوں کی پرسنل لا میں مداخلت کر رہی ہے۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے ان حقوق کا تحفظ کر رہی ہے جن کی انہیں آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔

مسلم خواتین

Getty Images
بل منظور ہوجانے کے صورت میں فوری طلاق ایک ناقابل ضمانت جرم بن جائے گا، چاہے طلاق زبانی دی گئی ہو، تحریری شکل میں یا ایس ایم ایس وغیرہ پر

وفاقی حکومت نے تقریباً دو ہفتے قبل بل کا مسودہ ریاستی حکومتوں کو بھیج کر ان سے ان کی رائے معلوم کی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی فوری طلاق کے واقعات کی خبریں آتی رہی ہیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نیا قانون وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت عورتوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ طلاق کی صورت میں پولیس میں شکایت درج کرانے کے بعد اپنے بچوں کی تحویل، اور گزر بسر کے لیے اپنے شوہر سے رقم حاصل کرنے کے لیے میجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4200 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp