سولہ دسمبر اور دہشت گردی کا خاتمہ


16 دسمبر ہم پاکستانیوں کے دلوں میں ایک ناسور کی طرح پل رہا ہے اس دن ہم نے اپنا ایک بازو مشرقی پاکستان کھویا، اورت کوئی سبق نہ سیکھا۔ پے در پے غلطیاں کرکے ملک کو اس نہج پر پہنچادیا ہے جہاں اپنے سایے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ ملک دو لخت ہوا لیکن سنبھلنے کے بجائے مذہب کے نام پر ملک کو ایسے دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا جنھوں نے دہشت کا ننگا کھیل کھیلا، ہاں وہ سولہ دسمبر ہی تھی تین سال پہلے جب آرمی پبلک اسکول میں موت کا کھیل کھیلا گیا معصوم بچے زندگی کی بھیک بھی نہ مانگ سکے اور سینکڑوں ماؤں کی گود اجڑ گئی، لمحوں میں طالبعلموں کو خاک وخون میں نہلادیا گیا یہ سب کرنے والے اپنے آپ کو طالبان کہتے ہیں شاید یہ موت کے فرشتے کے نائب بن گئے ہیں ہر جگہ، ہر وقت اچانک نمودار ہوکر خون کی ہولی کھیلتے ہیں اور ڈھٹائی سے تسلیم بھی کرتے ہیں کہ یہ خونی کھیل انھوں نے کھیلا ہے۔

بے گناہوں کا خون بہاناس کس مذہب میں جائز ہے لیکن نہ جانے یہ کون ہیں جنھوں نے پاکستان کی سرزمین کو ناپاک قدموں سے میلا کردیا ہے اور اپنی دہشت گردی سے لہولہان۔ دہشت گردی کے خلاف مستقل آپریشن جاری ہے کیسے کیسے نوخیز، جوان رعنا اپنی شہادت کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، دہشت گردوں کے حضور، لیکن دہشت گرد باز ہی نہیں آرہے۔ پچھلے تیس دنوں میں ہم سولہ قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے۔ آزادی کی قیمت دھرتی کے بیٹے ادا کرتے رہیں گے ہم اتنا تو پوچھ ہی سکتے ہیں کب تک۔ یہ تو نادیدہ دشمن ہے پیچھے سے وار کرتا ہے آپ اسے پہاڑوں میں ہی نیست و نابود کر دیں، آپریشن ایسا ہو جو واقعی انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ ایسا نہ ہو جیسے ضرب عضب کی کامیابی کے ڈھنڈورے پیٹے گئے پھر ردالفساد نافذ کیا گیا کہ اب تو دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا جائے گا لیکن دہشت گردوں کو ہمارے عربی، فارسی پروگراموں سے کوئی دلچسپی نہیں وہ اپنا کام کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے ضرب عضب پہ ضرب لگائی اور ردالفساد کو رد کر دیا۔ ان دہشت گردوں کی جڑیں ہمارے اندر تک پھیلی ہوئیں ہیں جب تک ہم ان وجوہات کو، ان کے سہولت کاروں کو ختم نہیں کریں گے ہم اسی طرح نشانہ بنتے رہیں گے اور دہشت گرد دور پہاڑو ں سے چھپ کر ہمارے جوانوں کو نشانہ بناتے رہیں گے، اکا دکادہشت گرد مارنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ انھیں مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ یہ دہشت گرد ملک کے دائمی دشمن ہیں، چولا بدل بدل کر ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں کیوں؟ سخت ترین اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے کیوں جدید ٹکنالوجی کی مدد سے ان کے ٹھکانے معلوم کرکے انھیں نیست ونابود نہیں کیا جارہا، آخر ڈرون ٹکنالوجی کس لیے ہے۔ ہم کب تک لفظوں کے ہیر پھیر سے قوم کے زخموں پر مرہم رکھتے رہیں گے۔ اپنی آزادی کی قیمت ایک بار طے کرلیں تاکہ بار بار کا رونا ختم ہو۔

چند دن پہلے کی وہ تصویر اب تک نگاہوں میں گھوم رہی ہے جس میں میجر اسحاق کی بیوہ تابوت کے سرہانے حسرت ویاس کی تصویر بنی یک ٹک اس جوان رعنا کے چہرے کو تکے جارہی ہے ، بند لبوں پر ہزاروں سوال ہیں، آنکھ میں آنسو نہیں کیونکہ وہ شہید ہے اور شہید مرتے نہیں ان کے لیے رویا نہیں کرتے۔ قوم کی بیٹی تیری ہمت کو سلام لیکن تیری یہ جوان بیوگی دیکھ کر کلیجہ کٹ رہا ہے، تیری خاموشی میں چھپے الفاظ رونگٹے کھڑے کررہے ہیں، میرے مالک یہ منظر کب تک دیکھیں، ہر گھر میں دہشت گردی کا ایک نوحہ ہے، ہر دل زخمی ہے۔ کہیں عام لوگ ہیں، بچے ہیں، اور کہیں آرمی اور پولیس کے جوان، حسین مضبوط سپوت اس بے معنی دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بناتے رہیں گے۔ میرے ملک کی فضاوں میں اسلام کے نام پر پھیلایا گیا یہ زہر ہماری شہ رگ کے پاس پہنچ گیا ہے۔ یہ زہر ہمارے گھروں میں سرایت کر گیا ہے اٹھو اور اس زہر کے لیے سم قاتل بن جاؤ زہر کو زہر سے کاٹ دو، ورنہ ہماری آنے والی نسلیں پر امن اور پر سکون کا لفظ لغت میں ڈھونڈیں گیں کیونکہ امن وسکون تو ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ کاش کوئی ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو ان بچوں کی ماؤں کے کلیجے ٹھنڈے کردے جنھوں نے دہشت گردی کی اس جنگ میں اپنے بچے کھوئے ہیں کاش اب کوئی سولہ دسمبر نہ دہرائی جائے آمین۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں