سانحہ اے پی ایس اک زخم تازہ


دل درد سے لبریز ہے، آنکھیں ہیں اشکبار
وہ سانحہ تھا وہ، کہ فک روے بار بار

وہ غم کا سماں تھا، کہ فضا بھی تھی سوگوار
اسکول اک بنا تھا جب میدانِ کارزار

پھر سے ہوا گرم، ظلم و جبر کا بازار
لتھڑے ہوے تھے بچوں کے خوں سے درو دیوار

ہے لعل کدھر میرا، ہر اک ماں تھی بیقرار
رخصت کیا اسکول جسے، چوم کر رخسار

آنکھوں کا نور تھا، تو کوئی دل کا تھا قرار
ماں کا کلیجہ چھلنی تھا، دل بہنوں کے فگار

بھائی کو ڈھونڈتا تھا بھائی، ہو کے بیقرار
اور باپ پر تو ٹوٹ گیا غم کا کوہسار

ننھے سے پھول تھے، ابھی دیکھی نہ تھی بہار
معصوم فرشتوں سے تھے، طفلانِ ہونہار

آنکھیں کریں گی حشر تلک جن کا انتظار
وہ جانِ استقبال تھے، وہ قوم کے معمار

جو ہو گئے ہیں حرمتِ تعلیم پر نثار
افسوس! کام کر گیا، دشمن کا پھر سے وار

چالاک ہیں، عیار، دغا باز ہیں اغیار
کوئی بھی تو نہیں ہے یہاں اپنا طرفدار

مانگے ہے دعا دل سے یہ، اکرم سا گنہگار
ہے پنجتن کا واسطہ، سن لے تْو اب پکار

ہم بیچ ہیں منجدھار کے، تْو کر دے بیڑا پار
اللہ کرم کر دے، فقط تْو ہے مددگار

یا واحد القھار، یا عزیز یا غفار
یا واحد القھار، یا عزیز یا غفار

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
میجر اکرم رضا کی دیگر تحریریں
میجر اکرم رضا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں