خونچکاں پشاور اور سیاست کا جھرلو


zafar kakarخونچکاں پشاور پر لکھتے ہوئے اب تو انگلیاں فگار ہوئیں۔ تلخیاں سمیٹتے سانسیں زہر آلود ہوئیں مگر خدا کے لہجے میں کلام کرنے والے متکلمین زخموں پر پھا ہا رکھنے کی بجائے تقدس کا غلاف ڈالنے کے عادی ہیں۔ ایک نامعلوم یوٹوپیائی سحر ہے جس میں تلواروں کی جھنکار میں خون کے کئی دریا پاٹنے کے بعد امن اور خوشحالی کی نہریں بہتی ہیں۔ساحر لدھیانوی نے تو وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ،’مرے سرکش ترانے سن کر دنیا یہ سمجھتی ہے۔۔کہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہے‘۔ کچھ لوگوں کو مگر خون ریزی کے افسانوں سے رغبت ہے۔ انہیں ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہے۔ ان کے بہی خواہ’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘ کے مصداق نہ صرف اسی نامعلوم یوٹوپیائی منزل کے راہی ہیں بلکہ اسی خدائی لہجے میں کلام کے عادی ہیں۔ادھر پشاور میں بس دھماکے میں پندرہ انسان چیتھڑوں کی نذر ہو گئے اور درجنوں اپاہج ہو گئے ادھر صالحین خواتین بل سے اسلام کو بچا رہے ہیں۔ معرکہ ایک خاتون کی تصویر پلے کارڈ پر بپا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کی ہی تو بات ہے جب ان صالحین نے ایک انسان کی موت پر ہزاروں (بلکہ ان کے بقول لاکھوں) کے اجتماعات منعقد کئے تھے۔بہت دن کی بات نہیں ہے جب ایک پاکستانی خاتون کے لئے یہ لاکھوں کے اجتماعات منعقد ہوئے تھے۔ اچھی بات ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر ذی شعور کا فرض ہے۔ سوال لیکن ترجیحات کا ہے۔ اہل جبہ و دستار کی نظریں پورے کرہ ارض پر پہرہ دار ہیں۔ کشمیر، فلسطین اور افغانستان میں جبر پر قہر آلود غزل سرائی ہو جاتی ہے۔ عراق و شام کا غم بھی منا لیا جاتا ہے طرفین کے فرق و تکفیرکے ساتھ۔برما کے مسلمانوں پرہوتا ظلم نظر آجاتا ہے۔اسلام آباد اور کراچی کے وسط میں مظاہروں میں شعلہ بیانی ہو جاتی ہے۔حضرت اقبال کے شاہینوں کا خون گرمایا جاتا ہے۔حتی کہ ہندوستان میں خودسوزی کرنے والے نوجوان کی تصاویر ایک روہنگیائی مظلوم مسلمان کی تصویر قرار دے کر پلے کارڈوں اور فیس بک کی دیواروں پر چھاپ دی جاتی ہے۔ نظر چوکتی ہے تو پشاور میں قتل عام کے مجرموں پر سے چوکتی ہے۔جذبہ ایمانی وطن عزیز میں مذہب کے نام پر جاری دہشتگردی کے خلاف کمزور پڑ جاتا ہے۔چونکہ ، چنانچہ، اگر مگر کے بعد ایک مبہم سا مذمتی بیان سامنے آ جاتا ہے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کر سکتا اور مسلمانی کا وسیع تاثر برقرار رکھنے کے لئے وما علینا الا البلاغ کا لاحقہ آخر میں لگا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ پندرہ انسان مظلوم نہیں تھے؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاکستانی نہیں تھے؟پھر وہ کونسی ترجیحات ہیں جس نے پشاور کے خانہ انوری کو ایک مبہم مذمت کی نذر کر دیا اور خواتین بل پر امت جمع ہے؟ کوئی دن جاتا ہے جب آبرو امت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے نوید نہ ہو۔سنتے کانوں نے مگر ایک بار بھی نہ سنا کہ یہ سیسہ پلائی دیوارمذہبی شدت پسندوں کے سامنے بھی کھڑی ہونے کو ہے۔

تاریخ کا دھارا منہ زور دریا جیسا ہے۔ اپنا راستہ بنا کر چھوڑتا ہے۔پدر سری معاشروں کی پوری انسانی تاریخ عورت کے استحصال پر کھڑی ہے۔تلمود ایوری مینس میں رقم ہے، ’ ایک تلمودی فقیہ کہتا ہے جو شخص اپنی بیٹی کو تورات کی تعلیم دیتا ہے وہ گویا اسے فحاشی سکھاتا ہے‘۔ ایک اور یہودی فقیہ فرماتا ہے کہ تورات کا جملہ (Ye shall teach them your children) بہتر ہے آگ میں جلا دیا جائے بجائے اس کے کہ اس کی تعلیم عورت کو دی جائے۔بوکاشیو سے لے کر فولینگو تک اور رسل سے لے کر ول ڈیورانٹ نے تیرھویں صدی سے پندرھویں صدی کے یورپ کی عورت کی جو تصویر کھینچی ہے وہ سوائے مرد کی دلبستگی کے سامان کی اور کچھ نہ تھی۔ تو آج کیا مختلف ہے؟ میمری ٹی وی پر ابھی چند دن پیشتر ہی ایک علامہ نے جنت کے حوروں کی تعداد 72 سے بڑھا کر 19600کر دی۔ چلیں وہ حساب کے مضمون میں کمزور ہوں گے مگرپاکستان کے ایک نجی ٹیلی وڑن چینل پر لاہور کے ایک علامہ صاحب اور ایک دانشور صاحب آج بھی خواتین جنگی قیدیوں کو بطور جنسی غلام بغیر کسی نکاح اور رضامندی کے اپنے حرم میں رکھنے کے دلائل دے رہے ہیں۔ ان کو شاید معلوم نہیں ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ہے اور بین الاقوامی قانون انسانیت پر اپنی مہر ثبت کر چکا ہے۔کل ہی کی تو بات ہے جب بے نظیر بھٹو کو حکومت سے روکنے کے لئے عورت کی حکمرانی حرام قرار دی گئی تھی۔2006 کے قومی اسمبلی کے تحفظ نسواں بل پر استعفوں کی دھمکیاں دینے والے کون لوگ تھے؟ اسے اسلام کے خلاف قرار دینے والے کون تھے؟ یہ سوال کوئی دیسی لبرل نہ بھی اٹھائے تو جواب طلب ہے کہ سماج کے محروم و مظلوم طبقات کے بارے میں جب بھی قانون سازی ہوئی ہے، اسے آفاقیت کے اپنے پیمانوں پر تول کر چیختی آوازوں کی نظر کیوں کیا جاتا ہے جبکہ ہر جابر مطلق العنان کوکاندھا دینا ہو یا آٹھویں اور سترھویں ترامیم جیسی بنیادی حقوق پامالی کے قوانین ہوں ،حمایت کے فرائض آپ ہی نے ہی انجام دئیے ہیں۔

دوسری طرف اصطلاحات کی مکروہ تشریحات کی آڑ میں کچھ اہل دانش رقمطراز ہیں کہ طے شدہ امور کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ ایک زندہ معاشرے میں طے شدہ امور کیا چیز ہوتی ہیں؟ آئین بے شک ایک مقدس دستاویز ہے مگر اسی تہتر کے آئین میں اکیس ترامیم ثابت کرتے ہیں کہ زندہ معاشروں میں آئین کی حیثیت آفاقی اور ناقابل ترمیم نہیں ہوتی۔ سماج کی مجموعی فکری ارتقا کے ساتھ دساتیری پیمانوں کی طے شدہ حیثیت خود بخود بدل جاتی ہے۔اور پھر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ سماج میں آفاقیت یا مذہبی تابعداری کسی دستوری نظم یا سزا کے کسی مخصوص طریقہ کار کے نفاذ کے مرہون منت نہیں ہوتی۔اگر ایسا ہوتا تو دو برادر اسلامی ممالک میں ایک آفاقی دستور قائم ہے۔ کیا کہا جا سکتا ہے کہ جس نصب العین کی جدوجہد میں وطن عزیز کے آفاقی راہمنا مصروف ہیں وہ یہی ہے؟ زیادہ بہتر تفہیم کی خاطر اگر سوال بدل دیا جائے اور پوچھا جائے کہ کیا خدا کا منشا یہی ہے کہ ایک مخصوص مکتب فکر کی تشریح میں تشکیل پانے والا ایک آفاقی قرادادوں پر مشتمل دستاویز مرتب کر کے سماج پر مسلط کیا جائے تب ہی ایک مثالی مذہبی سماج ظہور پذیر ہو گا؟ مکرر عرض ہے کہ مثالی معاشرے کے عناصر چاہے آفاقی ہوں یا غیر آفاقی سماج کے اندر سے ظہور پذیر ہوتے ہیں وگرنہ تو پاکستان کے تمام مذہبی جماعتوں نے بار بار ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ تہتر کا دستور ایک اسلامی دستور ہے۔ایک اسلامی دستور کے ہوتے ہوئے ایک اسلامی جمہوریہ میں آخر مزید کی جدوجہد کس چیز کے لئے ہے؟ یہ خوف کیوں دامن گیر ہوا چاہتا ہے کہ آپ کی دلیل کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں؟ کچھ تو ہے جس سے یہ عنوان بار بار سامنے آ رہا ہے کہ’ جمہوریت کفری نظام ہے ‘۔کم ازکم یہ عنوان کسی غیر مذہبی طبقے نے تو نہیں باندھا۔

بات پشاور کے خون کی لکیر سے شروع ہوئی تھی۔ سوال بہت سادہ تھا۔پشاور کے مرنے والے پندرہ انسانوں کی مظلوم موت پر خاموش اہل کرم لاہور میں خواتین بل سے اسلام کو بچا رہے ہیں۔ بتانے کو کوئی تیار نہیں کہ ان انسانوں کے خون کا نوحہ اہم تھا یا خواتین بل پر احتجاج؟ اور احتجاج بھی ایسا کہ کوئی یہ بھی بتا نہیں پا رہا کہ آخر اس میں غیر اسلامی شق کونسی ہے؟ عافیہ صدیقی بے شک مظلوم ہے۔ فلسطینی، افغانی، شامی، عراقی بے شک مظلوم ہیں لیکن تھوڑے مظلوم پشاور کے باسیوں کو مان لیجیے۔ ایک آدھ جلسہ۔ کوئی ایک احتجاجی ریلی ان کی خاطر بھی نکال لیجیے۔ چلیں شرمین عبید مجرم سہی۔ میڈیا دجال سہی۔ لبرل فاشسٹ سہی۔ مگر امت کی سائبر ٹیمیں، صالحین کے سوشل میڈیا سیل، پرنور و پروقار اسلامی چینل ہی کبھی واعظین کے خطبات کے علاوہ باچا خان یونیورسٹی کے قتل عام پر، پشاور بس دھماکے پر، یا آئی ڈی پیز پر کوئی دستاویزی فلم بنائیں۔کچھ تو کیجیے جس سے یہ یقین ہو جائے کہ ترجیحات کا یہ کھیل سیاست سے زیادہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے۔ جاتے جاتے ایک لطیفہ سن لیجیے۔ بلوچستان اسمبلی میں اے این پی کے نو منتخب رکن نے کہا کہ میں پشتو میں حلف لوں گا۔ اس پر جے یو آئی فضل الرحمن کے ایک ایک رکن نے احتجاج کیا۔ کہا اگر یہ پشتو میں حلف لیں گے تو میں عربی میں حلف لوں گا۔ مولانا سے ہماری یاد اللہ تھی۔ ایک ملاقات میں عرض کیا مولانا۔ ان کی تو مادری زبان پشتو ہے آپ کیوں عربی پر بضد تھے؟ فرمانے لگے اسلام میں لسانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خبر ہے کہ پشاور بس دھماکے میں مرنے والے صرف ایک لسانی طبقے سے نہیں تھے کچھ عربی جاننے والے بھی تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “خونچکاں پشاور اور سیاست کا جھرلو

  • 22-03-2016 at 6:36 am
    Permalink

    Speechless

  • 22-03-2016 at 7:43 am
    Permalink

    آپ نے عمدہ لکھا ۔آپ درست فرماتے ہیں۔یہ لوگ اپنے جاہل متبعین کی دل بستگی کے لئے ہی خواتین بل پر گرد اڑا رہے ہیں کہ اسلام کی ٹھیکیداری کا حق ان کے پاس رہے ،تا کہ یہ اپنی طاقت اور پیسہ برقرار رکھ سکیں ،تا کہ یہ ممتاز قادری والے معاملے پر اپنے لوگوں کو مطمئن کردیں۔باقی اس زمین،اس کے باسیوں کی تکالیف اور دکھ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

Comments are closed.