سولہ دسمبر اور قوم کے ساتھ مذاق کرتے سیاسی بیانات


آج سولہ دسمبر ہے۔ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاورکے شہدا کی تیسری برسی۔ سیاسی رہنماؤں اور قومی اداروں کے بڑوں کو بیانات دینے کے لئے ملنے والا ایک نیا دِن۔ اس دن اور اس سے ملتے جلتے دنوں میں سامنے آنے والے بیانات داغنے سے کیا قوم کا کچھ بھلا ہونا ہے۔ ایک ہی قسم کے کاپی پیسٹ بیانات سے آپ قوم کی امنگوں کی ترجمانی تو کرنے سے رہے لیکن زخم کریدنے میں اپنا کردار بخوبی انجام دیتے ہیں۔

یہ بیانات ٹی وی چینلز اور اخبارات میں اپنے نمائندوں کے ذریعے چھپوا دینے سے آپ جو تیر مارتے ہیں وہ سیدھا قوم کے زخمی دلوں میں ترازو ہوتے ہیں۔ آپ کبھی ٹویٹر کی مجازی دنیا سے نکلیں۔ تھوڑی دیر کو ہمارے گھروں، گلیوں راستوں میں جھانکیں تو آپ کو عوامی ردِ عمل کا اندازہ ہوگا۔ آپ لوگوں میں سے کچھ خواتین و حضرات کے آج کے بیانات اور ان پر عوامی ردِ عمل ملاحظہ فرمایئے۔

1۔ وزیرِ اعظم : ”دشمنوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے“
عوام : ”آپ منطق کا مطلب جانتے ہیں۔ “

2۔ صدر ممنون حسین : ”قوم اے پی ایس کے شہیدوں کو یاد رکھے گی۔ “
عوام : ”قوم آپ کو بھی یاد رکھے گی، کبھی نہیں بھولے گی۔ “

3۔ عمران خان : ”آج کے دِن دہشت گردوں نے آری پبلک سکول کے معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ “
عوام : ”جنہیں آپ کروڑوں کا عطیہ دے رہے ہیں یقینآ وہیں سے یہ اطلاع ملی ہوگی آپ کو۔ “

4۔ وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک : ”اے پی ایس کے شہیدوں کے والدین کے دن کا چین اور رات کی نیند کھو چکی ہے۔ “
عوام : ”الحمدللہ آپ تو سکون سے سوتے ہیں۔ “

5۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف : ” قوم کبھی آپ کی عظیم قربانی نہیں بھولے گی۔ “
عوام : ”16 دسمبر کو کچھ اور بھی ہوا تھا حضرت، آپ سمیت پوری قوم کب کا وہ بھی بھلا چکی۔ “

5۔ مریم اورنگزیب : ”آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ “
عوام : ”وزیرِ اطلاعات کے طور پر آپ وار ٹائپ فلمیں دیکھتی ہوں گی۔ آخری دہشت گرد صرف فلموں میں ہی ہوتا ہے۔ “

6۔ گورنر سندھ زبیر احمد: ”بچوں نے جان دے کر دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔ “
عوام : ”زرا کؔھل کر بتائیں تو کہ اِن بچوں کو مارنے کے علاوہ اؔن دہشت گردوں کے اور عزائم آخر تھے کیا؟ “

7۔ بلاول بھٹو زرداری : ”اے پی ایس سانحے کے تین برس گزر گئے۔ ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ ہم واقعے کی جوڈیشیل ان کوائری نہ کرواسکے۔ نیشنل ایکشن پلان نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ ایسے واقعات دوبارہ پیش آنے سے روکنے میں بھی ناکام رہے۔ ہم بہتر کر سکتے ہیں۔ پی پی پی کی حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہوگی۔ “
عوام : ”جہاں تک ناکامیوں کی بات ہے تو آپ سے اتفاق ہے۔ باقی رہا کہ آپ کی حکومت اِن ناکامیوں پر قابو پانے میں کامیاب رہے گی تو وہ آپ خود پر ہونے وا الی دہشت گردی سے نمٹنے میں جس بری طرح ناکام ہوئے ہیں وہ آپ اپنی مثال ہے۔ “

تیسری برسی پر آئی ایس پی آر کی طرف سے ریلیز کیا گیا گانا سننے میں آتا تو اس کا عوامی ریویو بھی سامنے آجاتا۔

مکمل انسانوں کے دو بازو ہوتے ہیں؛ دایاں اور بایاں۔ ہر بازو کی اپنی زباں ہوتی ہے۔ سننے والے کان ہوں تو بازؤوں کا کہا سن لیتے ہیں۔ درج بالا تمام بیانات ہمارے کِس بازو کی آواز ہیں یہ یقینآ قارئین جانتے ہیں، مانتے ہیں کہ بھلے کمزور ہی سہی آواز تو ہے۔ لیکن، ہمارا دوسرا بازو شاید شل ہوچکا ہے، اس کی زبان گنگ ہوگئی ہے۔ وہ بولنے سے قاصر ہے۔ ہم ان کے لیے دعا گو ہیں اللہ اس بازو پہ اپنا کرم فرمائے۔

پارلیمنٹ سے لے کر انصاف مہیا کرنے والے اداروں تک؛ شہروں کی حفاظت سے لے کر سرحدوں کی حفاظت پر مامور تمام ادارے ہمارے لیے قابلِ عزت و احترام ہیں، لیکن ان کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم عوام اور ہمارا دیا گیا ٹیکس ہے تو آپ سب کے اللے تللے چل رہے ہیں۔ بیانات اور گانے بجانے کی حدوں سے آگے بڑھ کر ان خوفناک مسائل سے ہماری جان چھڑائیں۔ بچے مائیں تکلیف سے جنتی اور باپ اپنا خون جلا کر اس لیے نہیں جوان کرتے کہ کوئی بھی پاگل جانور کہیں بھی ان کو بھنبھوڑ کر کھا جائے۔ سولہ دسمبر پہ بیانات جاری کرنے کی بجائے اپنا بیانیہ درست کریں۔ تین سال پہلے جس غلط کو سب نے غلط کہا اس کو آج بھی غلط مانیں، اور کیوں کہ یہ غلط ہے، تو اس کو مٹا کر رکھ دیں برائے خدا اسے صحیح کرنے کی کوشش نہ کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں