خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی


(آرمی پبلک سکول کے اس حوصلہ مند بچے کی کہانی جو چہرے پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد اس کی شناخت ہوئی اور اس کے گھر والوں کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے)۔

مردہ خانے میں جگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بچوں کی لاشیں برآمدے میں رکھی گئی تھیں۔
ہر لاش سفید چادر سے چھپائی گئی تھی۔ اس وقت آرمی پبلک سکول کے حملے میں مارے گئے تقریبا 80 بچوں کی لاشیں ایک قطار کی صورت میں پڑی تھیں۔

مشال ریڈیو کے رپورٹر زوار خان کو وہ منظر بھی دیکھنا پڑا جب ایک ماں اپنے بچے کی تلاش میں ایک ایک لاش سے چادر ہٹاتی اور آگے بڑھتی ہے اور جب اس نے آخری لاش سے چادر ہٹائی تو اپنے بیٹے کے مردہ چہرے کو دیکھ کر وہی بھی سن ہوگئی۔

ڈاکٹروں نے تیرہ سالہ زخمی محمد ولید کو بھی مردہ سمجھ کر لاشوں کے اسی طویل قطار میں رکھ دیا تھا۔
ولید جسمانی طور پر بظاہر مرا ہوا نظر آرہا تھا مگر حقیقت میں وہ زندہ تھا۔

اس نے بولنے کی کوشش کی لیکن لفظ دم توڑ چکے تھے۔ ہلنے کی کوشش کی تاکہ ڈاکٹر اس کی حرکت دیکھ سمجھ جائیں کہ وہ تو زندہ ہے لیکن جسم میں ہلنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔
ڈاکٹر جب اس سے چھوڑ کر چلے گئے تو ولید کو تھوڑے سے فاصلے پر کھڑی نرس کو اپنے زندہ ہونے کا پیغام پہنچانے کا واحد راستہ یہ نظر آیا کہ وہ لمبی لمبی سانسیں لیں۔

جب اس نے گہری سانسیں لیں تو اس کے منہ میں جمع خون بلبلوں کی صورت کی میں باہر نکل آیا۔
نرس کی اس پر نظر پڑی اور ڈاکٹر کو آواز دی کہ وہ دیکھو وہ بچہ اب بھی زندہ ہے۔
یوں اس سے ایمرجنسی روم لے جایا گیا۔
خون کے بلبلوں نے ایک طرح سے ولید کی جان بچائی۔

ولید خان وہ پہلا طالب علم تھا جسے شدت پسندوں نے آرمی پبلک سکول میں داخل ہوتے ہوئے گولیاں ماری تھیں۔
اس سے آٹھ گولیاں لگی تھیں جن میں سے چھ اس کے چہرے میں پیوست ہوگئی تھیں۔
اس کا جبڑا، ناک کی ہڈی اور دانت ٹوٹ کر گر چکے تھے۔ گویا اس کا چہرہ آدھا رہ گیا تھا۔
ایک حملہ آور یہ یقین کرنے کے لئے کہ وہ زندہ ہے یا مردہ نے اس کے سینے پر لاتیں ماریں۔
وہ سن رہا تھا کہ جب ایک حملہ آور دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ ان سبھی کے سروں میں گولیاں مارتے رہیں۔

جب حملہ آور ہال چھوڑ کر نکل گئے تو ولید بھی اٹھتے گرتے باہر چلے گئے۔
اس وقت ہر سو چیخیں تھیں، گولیوں کی آوازیں اور بچوں کی دوڑیں۔

ولید نے مدد کی درخواست کی پر کسی نہ سنی کیونکہ بھاگنے والوں کو خود بھی مدد کی ضرورت تھی۔
ولید نے دیوار کا سہار لیا، تھوڑی دور چلا اور پھر گر گپڑا۔ پھر اٹھا اور جوں ہی دایاں پاؤں پہلی سیڑھی پر رکھ کر چڑھنے لگا کہ دھڑام سے نیچے گر گیا۔ اس وقت ولید کو پتہ چلا کہ اس کے پیر میں بھی گولی لگی ہے۔

اب وہ سیڑھیوں کے پاس اوندھے منہ پڑا ہے اور خوف کے عالم میں بھاگنے والوں کے پیروں کا خاشاک بنا ہے۔ جو بھی آتا ہے ولید پر پسے گزر کر سیڑھی چڑھتا ہے۔
اب اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ وہ کھسکا اور گھٹنوں کے بل ساتویں جماعت کی کلاس تک پہنچ کر ڈھیر ہوگیا۔
وہ تھک چکا تھا لیکن اس سے یہ خوف تھا کہ اگر اس نے آنکھیں بند کردیں تو کہیں ریسکیو والے اس سے مردہ سمجھ کر یہیں چھوڑ نہ دیں۔

خود کو ہوش میں رکھنے کے لئے اس نے اپنے زخمی پیر کو مکوں سے مارنا شروع کردیا۔ تاکہ درد کا احساس ہو۔
بلاخر دس منٹ بعد ریسکیو والے پہنچے اور اس سے سی ایم ایچ لے گئے۔
زندگی تو بچ گئی لیکن شناخت چھین گئی۔

ولید سات دن تک بے ہوش پڑا تھا اور گھر والے اس سے پہچان نہیں پارہے تھے وجہ یہ تھی کہ اس کا پورا چہرہ پٹی سے ڈھانپا ہوا تھا۔
گھر والوں نے ایک ایک لاش دیکھی، ہر زخمی بچے کو دیکھا لیکن بلاخر اس کے والد نے رات کے ساڑھے دس بجے اس سے بنیان سے پہچانا۔ یہ بنیان اس کے والد صاحب دو دن پہلے اس سے دے چکے تھے۔ مگر اس کے باوجود گھر والوں کو اس کے ولید ہونے کا یقین نہیں تھا۔

جب ایک ہفتے بعد اس سے ہوش آیا تو ڈاکٹر نے پوچھا، آپ ولید ہیں تو اس نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا۔
لیکن موت کے منہ سے لوٹنے والا ولید آج سر ہلا کر نہیں بلکہ پہلے کی طرح منہ اور زبان کھول کر بات کرتا ہے۔
آدھے چہرے کا وہ ولید اب مسکراتا ہے اور اپنی کہانی سنا بھی سکتا ہے۔

وہ ولید جو زخموں سے چور ینگتے رینگتے آرمی پبلک سکول کی ساتویں جماعت میں ڈھیر ہوکر زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا آج یونیورسٹی آف برمنگھم سکول کی کرکٹ ٹیم کا کیپٹن اور اسی سکول کی ہینڈ بال اور ہاکی ٹیم کا کھلاڑی ہے۔

شدت پسندوں نے اس سے آرمی پبلک سکول چھیننے کی کوشش کی لیکن آج وہ برمنگھم کے سکول میں سٹوڈنٹ کونسل کا ہیڈ بوائے ہے۔
ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے۔
(عبدالحئی کاکڑ مشال ریڈیو پراگ سے منسلک ہیں۔ تحریر مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں شائع ہوئی تھی)۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی

Comments are closed.