دسمبر جگنوﺅں کا قبرستان ہے


 یہ کہانی دسمبر کے ایک یخ بستہ رات سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وحشت لاکھوں انسانوں کی زندگی لے کر ختم ہو چکی ہے۔ سنومیا کے ایک ویران ریلوے اسٹیشن پر ستون سے ٹیک لگائے ایک چودہ سالہ لڑکا بھوک سے نڈھال ہے۔ رات کے آخری پہر جب جمعدار اس کا ٹنڈ منڈ جسم ٹٹولتا ہے تو ٹین کے ایک کاسنی ڈبے کے سوا گوشت کی اس پوٹلی سے کچھ اور برآمد نہیں ہوتا۔ اس ڈبے میں کیا تھا؟ راکھ اور ادھ جلی ہڈیوں کا سفوف اور بس۔ بھوکے کو مردے سے کیا ملتا؟ جمعدار نے ڈبہ ایک ویران میدان میں پھینک دیا۔ ایک منظر بدلتا ہے مگرکیا قیامت کا منظر ہے۔ ڈبے سے ایک نوجوان لڑکے کی روح پرواز کرتی ہے۔ اس کے پیچھے اس کی چھوٹی بہن کی ننھی سی روح نکلتی ہے اور اس کے پیچھے جگنوﺅں کا ایک بادل بہتا چلا جاتا ہے۔

یہ کہانی کا آغاز ہے۔ جنگوں کی کہانیاں نسلوں کا روگ ہوتی ہیں۔ جاپانی ناول نگار اکیوکی نوساکا (akiyuki nosaka)  نے اس روگ کا نام’ جگنوﺅں کا قبرستان‘ رکھا۔ چودہ سالہ سیاتا اوراس کی چھوٹی بہن، چار سالہ سیٹسکو اپنی ماں کے ساتھ جاپان کے شہر کوب شہر میں رہتے ہیں۔ باپ جاپانی نیوی میں کیپٹن ہے۔ ایک دن شہر پر امریکی جنگی جہاز نیچی پرواز کرتے ہیں تو سیاتا کی ماں، سیٹسکو کو سیاتا کے حوالے کر کے کسی بم شیلٹر میں پناہ کی جگہ ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے۔ سیاتا کو بتایا گیا کہ اس کی چار سالہ بہن کا واحد آسرا اب وہی ہے۔اتنے میں امریکی جہاز شہر پر بمبار ی شروع کر دیتے ہیں۔آگ، خون ، دھواں اور باردو کی باس، شہر پر قیامت گزر گئی۔ ماں واپس نہیں پلٹی، جانے زندہ ہے یا نہیں؟سیاتا اپنی بہن کی انگلی تھام کر ماں کی تلاش میں نکلا۔ سکول میں قائم ایک عارضی کلینک میں ماں، نیم مردہ سر سے پاﺅں تک پٹیوں میں بندھی ہوئی ہے۔ اس کا جسم بری طرح جلا ہوا ہے۔ گھڑی کی سوئیاں درد کے لمحوں میں بدل جاتی ہیں۔ چند دردوں کے پرے ماں کا جسم لاش میں تبدیل ہوتا ہے۔ دفنانے ،جلانے کو ہزاروں انسان پڑے ہیں۔ ماں کو کون جلائے دفنائے۔

سیاتا، سیٹسکو کا ہاتھ تھامے خالہ کے دروازے پر جا کھڑا ہوتا ہے۔ جنگ زدہ علاقے میں زندگی مشکل اور اناج کم ہے۔ سیاتا کی ماں اچھے کپڑے پہنتی تھی۔ خالہ انہیں گھر میں رکھنے پر تیار ہے اگرسیاتا اپنی ماں کے کپڑے چاولوں کے بدلے بیچ دے۔ ماں نہ رہی تو کپڑوں کا کیا کرنا۔ کپڑوں کا چاول تمام ہوا توخالہ کا رویہ تلخ ہونے لگا۔ بالاخرسیاتا کو خالہ کا گھر چھوڑنا پڑا۔ وہ سیٹسکو کو لے کر ایک بم شیلٹر میں پناہ لے لیتا ہے۔ شیلٹر میں رات کو اندھیرا چھانے لگا تو چھوٹی سیٹسکو ڈرنے لگی۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ اس نے ٹین کا ایک چھوٹا ڈبہ کھولا۔ اس میں سے ایک ایک کر کے جگنو اڑنے لگے۔گھپ اندھیرے میں جگنو بھی روشنی کی نوید ہوتے ہیں۔ دکھوں کی طرح راتوں کو بھی بہلانا پڑتا ہے۔ اداس رات بہل گئی۔ صبح سیٹسکو نے دیکھا کہ سارے جگنو مر چکے ہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ مرنا کیا ہوتا ہے۔ اسے بس اتنا پتہ ہے کہ مرتے ہوئے تکلیف بہت ہوتی ہے۔ مرتے ہوئے ماں بہت تکلیف میں تھی۔ سیٹسکو نے بہت احتیاط سے ایک ایک جگنو اٹھایا۔ اپنے ننھے ہاتھوں سے مٹی کا ایک گھروندہ تعمیر کیا اور جگنوﺅں کو اس گھروندے کے آنگن میں دفنا دیا۔

 دو چار دنوں کی بات تھی سیاتا اور سیٹسکو کے پاس اناج ختم ہو ا۔ سیاتا نہ اپنی بہن کو اکیلا چھوڑ سکتا ہے اور نہ جنگ زدہ علاقے میں کام دستیاب ہے۔ سیٹسکو بیمار پڑ جاتی ہے۔ سیاتا اسے اسکول والے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہے۔ ڈاکٹر بتاتا ہے کہ بچی خوراک کی کمی کا شکار ہے مگر خوراک کہاں ہے اس کا جواب ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں ہے۔ سیاتا کویاد آتا ہے کہ اس کی ماں کا بینک میں ایک اکاونٹ تھا۔ وہ سیٹسکو کو شیلٹر میں چھوڑ کربینک جاتا ہے۔ اسے کچھ پیسے ملتے ہیں۔ وہ ڈھیر سارا راشن خریدتا ہے۔راستے میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ جاپان جنگ ہار چکا ہے۔ اسے اپنا باپ یاد آتا ہے۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جاپان جنگ کبھی نہیں ہارے گا۔ جاپان جنگ ہار گیا تو بابا کو پلٹ کر آنا چاہیے۔ بابا کہاں ہے؟ یہ سوال پوچھتے پوچھتے وہ بابا کی خبرلینے قریبی معلوماتی دفتر جاتا ہے۔ اسے علم ہوتا ہے کہ اس کے بابا کا جہاز ڈوب چکا ہے۔ سیاتا ٹوٹ سا جاتا ہے۔ چودہ سال کی عمر میں ہے۔ ماں کو مرے صرف چند ہوئے ہیں۔ ادھر بابا بھی نہ رہے۔ اور ہاں! سیٹسکو بھی تو بیمار ہے۔ سیٹسکو کا خیال آتے ہی وہ فوراَ شیلٹر کی راہ لیتا ہے۔ وہ شلیٹر پہنچا توبخار میں تپتی سیٹسکو ہذیانی کیفیت میں مٹی کے ایک ڈھیلے پر زبان پھیر رہی ہے۔ یہ لو بھیا چاول ، وہ مٹی کا ڈھیلا سیاتا کی طرف بڑھاتی ہے۔سیاتا فوراَ اسے تربوز کا ایک ٹکڑا کھلاتا ہے۔ سٹسکو تربوز کھا کر آنکھیں موند لیتی ہے ۔ اس کے بعد اس کی آنکھیں کھل نہیں پاتیں۔ بہت دیر تک سیاتا ننھی سیٹسکو کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے، بابا سمندر میں غرق ہوئے۔ ماں کی راکھ دفنا نہیں سکا۔ سیٹسکو کی چتا جلائے بغیر کیسے چھوڑوں؟ ادھر ادھر سے لکڑیاں جمع کر کے سیاتا اپنی بہن کی چتا کو جلا دیتا ہے۔ گھنٹوں بعد اس کی راکھ کو ٹین کے اسی کاسنی ڈبے میں ڈال ڈیتا ہے جس میں سیٹسکو کے جگنو تھے۔سیاتا کو آخری مرتبہ بس اتنا یاد ہے کہ وہ بھوک سے نڈھال تھا اور سنومیا کے ویران ریلوے اسٹیشن پر ایک ستون کے سہارے سیٹسکو کے جگنو سنبھالے ہوئے تھا۔

طویل راتوں والے دسمبر کی اکثر کہانیاں درد کے تاروں سے بنی جاتی ہیں۔ ایک کہانی اے پی ایس پشاور کی ہے جب اندھیرے کے پاسبان بچوں کے مقابل اتر آئے۔ دسمبر ہی کی ایک کہانی ’ راکھ‘ کے پنوں پر مستنصر نے لکھی ہے۔ بوڑھا ملاح کہتا ہے ’یہ ٹھہرا ہوا پانی ہے، اس میں مچھلیاں اور مینڈک مرتے رہتے ہیں۔۔ اور رات کو سور بھی یہیں آتے ہیں پانی پینے کے لئے۔ ملاح نے ”سور“ کا لفظ نہیں بولا بلکہ ” باہر والے“ کہا تھا تاکہ اس کی زبان پلید نہ ہو جائے‘۔ یہ کہانی دسمبر 1971 کی ہے۔ اسی کہانی کا دوسرا پنا میجر جنرل خادم حسین راجا نے لکھا ہے۔”باہر والوں“ کے بارے میں ایک لیفٹیننٹ جنرل کا جملہ نقل کیا ہے’ میں اس حرامزادی قوم کی نسل بدل دوں گا‘۔ بوڑھا ملاح سور کہنے سے اپنی زبان پلید نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ملاح کیا جانے قوم کی آزادی کی قیمت۔ قوم کی آزادی کی قیمت تو محمدپور کی تیرہ سالہ خدیجہ ہی جان سکتی ہے۔ قوم ٹھہرا ہوا پانی ہے اس میں مچھلیاں اور مینڈک مرتے رہتے ہیں۔

 مدت پہلے ہرارے نے کہا تھا’ وطن، قوم، عقیدہ قابل احترام سہی مگر انسانی جان کے مقابلے میں خوشنما افسانے ہیں ۔ دکھ آئے تو وطن کے کسی منطقے کو درد نہیں ہوتا ماﺅں کے کلیجے پھٹتے ہیں۔ جنگ چھڑے تو تکلیف قوم نامی کسی مخلوق کو نہیں ہوتی، گردنیں انسانوں کی کٹتی ہیں۔ عقیدے سلامت رہتے ہیں لہو انسانوں کا بہتا ہے‘۔ انسان مگر افسانوں کا شیدائی ہے۔ ان افسانوں میں محمد پور کے تیرہ سالہ خدیجہ کی عزت تار تار ہوتی ہے، پشاور کی چھ سالہ خولہ کا لنچ بکس خون آلود ہوتا ہے، کوب کی سیٹسکو بھوک سے مرجاتی ہے۔ ہم عقیدتوں میں رچے بسے انسان جگنوﺅں کے قبرستان میں کھڑے ہو کر ترانے تخلیق کرتے رہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 174 posts and counting.See all posts by zafarullah