غریب عورتوں کی ماہواری؛ اکشے کی فلم پیڈ مین کا پہلا ٹریلر (ویڈیو اور تفصیلات)


دنیا بھر میں کم آمدن والی بہت سی خواتین حیض کے دنوں میں سینیٹری پیڈ تک رسائی نہیں رکھ پاتیں۔ انہیں کئی غیر صحت مندانہ چیزیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ کئی لڑکیوں کو سکول سے چھٹی کرنا پڑتی ہے یا وہ سکولوں سے بہت زیادہ غیر حاضری پہ نکالی بھی جاتی ہیں۔

جھاڑ کھنڈ، بھارت میں یہ مسئلہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہر ماہ بچیاں سکول سے دو چھٹیاں اسی لیے کرتی ہیں۔

بالی وڈ کی آنے والی فلم، “پیڈ مین” اسی مسئلے سے جنگ کرتی دکھائی دے گی۔ اکشے کمار اس فلم کا مرکزی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ اکشے اس وقت انڈیا کے نیشنل آئیکون کے طور پہ جانے جاتے ہیں اور وہ پہلے بھی سماجی آگاہی کی فلموں از قسم “ٹوائلٹ ایک پریم کتھا” میں کام کر چکے ہیں۔ امیتابھ بچن، سونم کپور اور رادھیکا آپٹے اس فلم کی دیگر نمایاں کاسٹ میں شامل ہیں۔

موروگنتھام انڈیا کے “مینسٹرل مین” کہلاتے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2000 میں کم خرچ سے ماہواری کے پیڈ بنانے والی مشین ایجاد کی تھی۔ یہ مشین بازار میں دستیاب پیڈز کی نسبت ایک تہائی خرچے پہ نئے پیڈز بنا دیتی ہے۔ وہ اس مشین کو دنیا کے 106 ملکوں میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ فی الوقت یہ مشین انڈیا کی بیس ریاستوں میں کام کر رہی ہے۔

انہیں یہ مشین بنانے کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ حیض کے ایام میں گھر کے پرانے میلے کپڑے بطور پیڈ استعمال کر رہی تھیں۔ بقول ان کے، یہ ایسے کپڑے تھے جنہیں وہ کبھی اپنی موٹر سائیکل صاف کرنے کے لیے بھی استعمال نہ کرتے۔ خاتون کا موروگنتھام کو جواب یہ تھا کہ اگر وہ یا ان کی بہن دوران ماہواری ایسے کپڑے استعمال نہ کریں تو بچوں کے دودھ کی مختص رقم میں سے پیسے کاٹ کے اس کام پہ لگانے پڑتے ہیں۔

وہ چاہتے تھے کہ اس ان چھوئے موضوع پہ ایک ایسی فلم بنائی جائے جو لوگ اپنے بچوں کو ساتھ لے جا کر سینیما میں دیکھ سکیں لیکن شروع میں کوئی بھی اس موضوع پہ فلم بنانے کو تیار نہیں تھا۔ یہاں تک کے وہ ایک کانفرنس میں ٹوئنکل کھنہ سے ملے۔ پروڈیوسر ٹوئنکل کھنہ کے مطابق یہ فلم اس ایجاد اور خواتین کی زندگی آسان بنانے پہ بات کرے گی۔

ان کے مطابق یہ فلم ایک کوشش ہے کہ انڈیا میں لڑکیاں حیض کو ایک شرم ناک چیز نہ سمجھیں اور کھل کے اس موضوع کو جان سکیں، اس پہ بات کر پائیں۔ فلم کے سٹوری رائٹر کے مطابق اس فلم میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ مردوں کو اپنی ساتھی خواتین کے لیے سینیٹری پیڈ کی خریداری میں شرمانا نہیں چاہئیے۔

پیڈ مین اگلے برس 26 جنوری کو ریلیز ہو گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں