جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی، وزارت عظمیٰ پر عمران خان کے لیے پرامید


گذشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشست کھونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین نے اپنی جماعت کا عہدہ بھی چھوڑ کر سیاسی ورکر کے طور پر خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے جہانگیر ترین کی اہلیت کے خلاف گذشتہ برس سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ انھوں نے اپنے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا اور وہ صادق اور امین نہیں ہیں۔

مزید پڑھیے

جہانگیر ترین کو نااہل کیوں کیا گیا؟

’کسی فیصلے کے لیے دباؤ نہیں، ہم کسی منصوبے کا حصہ نہیں‘

جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ سونا ہوگئی

سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا اور کہا کہ وہ صادق نہیں ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق جہانگیر ترین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سنیچر کی شام پارٹی سے الگ ہونے کا اعلان کچھ ان الفاظ میں کیا:

’میں نے تحریک انصاف کے سیکریرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس جدوجہد کا حصہ رہوں گا۔ عمران کو پاکستان کا اگلا وزیرِ اعظم دیکھنے کی امید ہے۔‘

اپنی ٹویٹ میں جہانگیر ترین نے اپنا مفصل بیان بھی اپ لوڈ کیا۔

جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کے نام اپنے مستعفی ہونے کے خط میں لکھا کہ انھیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی ہے تاہم وہ اس پر اپنا سر تسلیمِ خم کرتے ہیں۔

’بدقسمتی سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مجھے ایک قانونی نقطے کی توجیہہ پر نا اہل کیا ہے، یہ مایوس کن ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے رکن پارلیمان کو کمزور تکنیکی بنیادوں پر نا اہل کیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ میں بطور ممبر اسمبلی اہل نہیں ہوں تو میں اس حکم کی تعمیل میں سر تسلیمِ ختم کرتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی ساری زندگی اصولوں پر گزاری ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقی طور پر یہ درست نہیں کہ میں پی ٹی آئی میں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہوں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے پی ٹی آئی کے سیاسی کارکن کے طور پر ہر وقت حاضر رہیں گے۔

اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے پاکستانی سیاست میں اس جذبے کے ساتھ قدم رکھا تھا کہ وہ یہاں کے سیاسی کلچر سے کرپشن اور اقربا پروری کو ختم کریں اور پاکستان کو بہتر مستقبل دیں۔

انھوں نے کہا کہ بطور ایک کسان اور بزنس مین کے انھوں نے اپنے کریئر میں یہ سیکھا ہے کہ پاکستان اس وقت تک خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں ہو سکے گا جب تک اس کی سیاست کی بنیاد میں مافیا کا کلچر رہے گا۔

جہانگیر ترین کے استعفے کی آخری سطور میں درج تھا۔

’آپ مجھے ہمیشہ اپنا مخلص دوست پائیں گے، آپ کی دوستی اور لیڈر شپ ایک اثاثہ ہے، آپ کے لیے نیک تمنائیں، آپ کو پاکستان کا اگلا وزیراعظم دیکھنے کے لیے پرامید ہوں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5366 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp