سوروینو: وائنسٹین نے میرے کیریئر کو نقصان پہنچایا ہے


ہاروے وائنسٹین

Getty Images
پیٹر جیکسن کا کہنا ہے کہ ’قابل خواتین‘ کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئیں

اداکارہ میرا سوروینو کا کہنا ہے کہ وہ یہ جان کر افسردہ ہیں کہ ہاروے وائنسٹین کی وجہ سے وہ اہم کردار کھو سکتی تھیں۔ لارڈ آف دا رنگز کے ہدایت کار پیٹرجیکسن کا کہنا ہے کہ میرا واسوروینو اور ایشلے جڈ کی وائنسٹین کمپنی کے ساتھ بات چیت کےبعد ان کو’بلیک لسٹ’ قرار دیا گیا تھا۔ دونوں اداکاراؤں نے ہاروے وائنسٹین کی جانب سے انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا دعوی کیا ہے۔ وائنسٹین نازیبا حرکات اور اداکاراؤں کو بلیک لیسٹ کرنے کے الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ معروف فلم سیریز لارڈ آف دا رنگز ابتدائی طور پر وائنسٹین کی کمپنی میرامیکس کے پاس تھی جسے بعد میں نیولائن سنیما کو دیا گیا۔ Stuff.co.nz کو اسی ہفتے دیئے گئے ایک انٹرویومیں پیٹر جیکسن کا کہنا تھا کہ وہ اس مقبول سیریز کے لیے دونوں اداکاراؤں کو کاسٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

‘مجھے یاد ہے کہ میرامیکس نے ہمیں بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنا ایک ڈراؤنا خواب کی طرح ہے اور ہمیں ہر قیمت پہ ان سے بچنا چاہئیے۔ یہ شاید 1998 کی بات ہوگی۔’ جیکسن نے کہا کہ’اس وقت ہمیں یہ لوگ جو بتارہے تھے اس پہ سوال کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔’ ‘مجھے اب شبہ ہوتا ہے کہ ہمیں ان دونوں قابل خواتین کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ اور اس کا براہ راست نتیجہ یہ تھا کہ ان کے نام ہماری کاسٹ کی فہرست سے خارج کر دیےگئے۔’

‘ماضی پہ نظر دوڑاؤں تو احساس ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر میرامیکس کی طرف سے یہ غیر اخلاقی مہم بھر پور طریقے سے چلائی گئی۔’ سوروینو کا ایک ٹوئیٹ میں کہنا تھا کہ ‘جاگنے کے بعد یہ دیکھ کر، میں پھوٹ پھوٹ کررو پڑی۔’ ‘یہ رہی وہ تصدیق کہ ہاروے وائنسٹین نے میرے کریئر کو نقصان پہنچایا، جس کا مجھے شبہ تھا لیکن یقین نہ تھا۔ دیانتداری کے لیے پیٹر جیکسن آپ کا شکریہ۔ میں صرف افسردہ ہوں۔’

البتہ ایشلے جڈ نےاس وقت کو یاد کیا کہ کیسے ان کی شراکت داری اس حد تک ہوچکی تھی کہ جیکسن نے انھیں معروف فلم سیریز کی تیاری کا کام دیکھنے کے لیے مدعو کیا۔ انھوں نے ٹوئیٹ کیا کہ ‘مجھے اچھی طرح یاد ہے۔’ ایشلے جڈ نے کہا ‘انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ دونوں کرداروں میں سے کس کو ترجیح دوں گی اور پھر انھوں نے دوبارہ کبھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ میں سچ باہر آنے پر اس کی تعریف کرتی ہوں۔’

ایک بیان میں وائنسٹین نے سوروینو اور جڈ کو بلیک لسٹ کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لارڈ آف دا رنگز کے لیےکاسٹ کا انتخاب میرا میکس نے نہیں بلکہ نیو لائن سنیما نے کیا تھا۔ اسی بیان میں مزید کہا گیا کہ ایشلے جڈ کو مسٹر وائنسٹین کی دو دیگر فلموں میں کاسٹ کیا گیا اور ’ماریا سوروینو بھی دیگر فلموں کے لیے ہمیشہ زیر غور رہیں۔’

وائنسٹین کے انکار نے جیکسن کو مزید جواب لکھنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے لکھا کہ میرا سوروینو اور ایشلے جڈ سے متعلق ہاروے وائنسٹین کا انکار’ حقیقت سے دور’ ہے۔ ان کے اس جواب کو انٹرٹینمٹ ویکلی نے شائع کیا۔ جیکسن نے لکھا کہ’ 18 ماہ میں ہم نے میرا میکس میں لارڈ آف دا رنگز پر کام کیا۔ کاسٹ کے بارے میں ہاروے وائنسٹین، باب وائنسٹین اور ان کے ایگزیکٹوز سے ہماری کئی مرتبہ بات چیت ہوئی۔’ ‘کاسٹنگ سے پہلے ہی دراصل یہ فلمیں میرا میکس سے نیولائن کو دے دی گئی تھیں۔ لیکن چونکہ میرا میکس کی جانب سے ایشلے اور میرا کے بارے میں خبردار کر دیا گیا تھا، اور ہم اتنے سیدھے سادھے تھے کہ ہم نے سمجھا ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور ہم نے کاسٹنگ کے بارے میں نیولائن کی بات چیت میں ان کا نام نہیں لیا۔’

ہالی وڈ میں جنسی ہراسگی کے سکینڈل کے مرکزی کردار ہاروے وائنسٹین پر درجنوں اداکارائیں نازیبا حرکات کا الزام عائد کرچکی ہیں۔

واضح رہے کہ میراسوروینو اور ایشلے جڈ ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے اکتوبر میں ہاروے وائنسٹین پر پہلی بار جنسی طور پر ہراساں کرنے سے متعلق اپنے تجربات عوامی سطح پہ بتائے تھے۔

ہالی وڈ کے فلم پروڈیوسر ہاروے وائنسٹین نے رضامندی کے بغیر جنسی تعلق کے کسی بھی الزام کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6377 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp