نٹکو کا ایک شیشہ ہم بھی توڑیں


ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن کا قیام 1974میں کمپنیز ایکٹ 1913کے زیر اثر ہوا اور اس کا دفتر لاہور میں بنایا گیا۔ 1976میں دفتر اسلام آباد منتقل ہوا اور اس کا مرکزی دفتر راولپنڈی میں میں بنایا گیا۔ جب رجسٹرار جوائنٹ سٹاک کمپنیز کا دفتر گلگت میں بنا تو نٹکو نے خود کو ولنٹیرلی ڈیزول کر دیا ۔ اور ریجسٹرر جوائنٹ سٹاک کمپنیز گلگت کے نام سے 23 فروری 1989 میں کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت رجسٹر ہوئی۔ اس کے بعد سے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کے زیر انتظام چل رہی ہے، گورنمنٹ سالانہ 12 کروڑ روپے اس ادارے کے لیے مختص کر تی ہے، مگر افسوس اس کا استعمال کہیں نظر نہیں آتا، نٹکو کا ادارہ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ ایوان اقتدار میں اس کا پرسان حال کوئی نہیں۔

اب زرا نٹکو کی بسوں کا جائزہ لیجیے۔ بٹن کے ذریعے ڈرائیور بڑے رعب کے ساتھ آٹومیٹک دروازہ کھولتا ہے۔ تاکہ مسافر سفر کے لیے کمر کس لیں،اندر اپنی نثست پر پہنچتے ہی پتا لگتا ہے کہ اس کی الاٹی سیٹ تو ٹوٹی ہوئی ہے۔ جب نظر بس کے اندرون گھومتی ہے تو بندے کو یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ اس میں پہلے سفر کرنے والوں کے نشان اب بھی باقی ہیں۔ بس کی ہائی جین کا اندازہ مسافر بس میں بیٹھنے سے پہلے ہی لگا لیتا ہے۔ حلیہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ ڈرائیور کے سامنے والی ونڈ سکرین ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے۔ مسافر کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ بس پہلے کسی خوفناک منظر کا سامنا کر چکی ہے۔ جسے کم ڈرائیور کی جوشیلی آواز کرتی ہے۔ بہرحال سفر شروع ہوتا ہے۔ بس کے مختلف حصوں کی منفرد آوازیں آنے لگتیں ہیں، ڈرائیور دائیں جانب کو موڑ کاٹ رہا ہوتا ہے اور ونڈ اسکرین بائیں جانب کو کھسک رہی ہوتی ہے۔ ڈرائیور کا اصل روپ تب پتا لگتا ہے جب بس کھانے کے وقفے کے لیے کسی ہوٹل پر رکتی ہے۔

سیکورٹی کے ساتھ ڈرائیور ایک کمرے میں گھس جاتا ہے اور مسافروں کو ہوٹل انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ جو من پسند ریٹ لگا کر مسافروں کے آئندہ سفر کی جستجو کو چکنا چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ کھانے کے بعد سفر دوبارہ شروع کر نے سے پہلے ڈرائیور ایک بار بس کا جائزہ لے لیتا ہے۔ بے رحم تارکول کی سڑک پر چلے پہیے کا اندازہ اس کے ٹکلے پن سے لگایا جاسکتا ہے۔ ڈرائیور کی انسپکشن کے بعد سفر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ مسافر کھانے کے بعد رہی کسر پوری کر دیتے ہیں اور تعفن زدہ ہواؤں کی لہر دوڑنے لگتی ہے مسافر جب اے سی آن کرنے کی فرمائش کرتے ہیں تو سیکورٹی گارڈ جو کہ بس کنڈکٹر کے فرائض بھی انجام دیتا ہے بس کی چھت پر بنے وینٹی لیٹر آدھے کھول دیتا ہے پورے اس لیے نہیں کھولتا کہ ٹوٹے ڈور گر نہ جائیں۔ پھر جا کے کہیں چین کی سانس آتی ہے۔ یہی نہیں سیکورٹی گارڈ پارٹ ٹائم ڈرائیور بھی ہوتا ہے اور ڈرائیور کو نیند آنے پر گاڑی چلاتا ہے۔ چلاس کی آخری آبادی پہنچتے پہنچتے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اب اس بس کا کوئی نہ کوئی شیشہ ٹوٹ کر بکھر جائے گا مگر سوچ سوچ ہی رہتی ہے اور یہ یقین ہوجاتا ہے کہ بس اس سڑک کی عادی ہے۔ یقین کی دھجیاں تب بکھرتی ہیں جب بس کا ٹائر پنکچر ہوجاتا ہیں، اور پہلے سے لگے پینتیس، چھتیس پنکچروں والا ٹیوب بدلتے خاصا وقت لگتا ہے۔ اور یوں مسافروں کو منظر کشی کا موقع متعدد بار مل جاتا ہے۔ مگر اب بھی اے سی کا کام ونٹی لیٹرز ہی دے رہے ہوتے ہیں، اگر کوئی مسافر پھر سے اے سی آن کرنے پر اصرار کرے تو ڈرائیور کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ 1100روپے میں اے سی نہیں چلتا۔

وہ تو شکر ہے ڈائیو کی کمپنی کا جس نے اپنی پرانی بسسیں نٹکو کو چیرٹی یا پیسوں پر دی ہوئی ہیں۔ جو ان مسافروں کے لیے اطمینان بخش تو نہیں مگر ان میں اے سی کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ علاوہ از جب تاریکی چھا جاتی ہے تو بس کی ٹمٹماتی لائٹس کے کسی بھی وقت بند ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بس جھولے کا کام بھی دیتی ہے۔ اخری نشستوں پر بیٹھے مسافروں کو کچھ زیادہ ہی جھلاتی ہے۔ سو وہ نیم مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ جب گلگت پہنچ کر جان بخشی ہو جاتی ہے تو اگلی بار سفر کا ارادہ نٹکو کے ساتھ ترک کرنے کا بندہ خود سے وعدہ کر لیتا ہے۔ جو کہ جہاز کے کرایے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے۔

جون ، جولائی میں گلگت بلتستان تا اسلام آباد،کراچی سفر کرنے والوں کا معاشی قتل کیا جاتا ہے 1500سو کی ٹکٹ 2200 پر پہنچ جاتی ہے، 3000 ہزار پر تو پرائیویٹ کار سروس بھی چلتی ہے مگر تیز رفتار چھوٹی گاڑی سے لوگ بس کو ترجیح دیتے ہیں، لہٰذا نٹکو کی کمائی کا سیزن شروع ہوجاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کی حکومتی اراکین اپنی لکژریز کو چھوڑ کر عام آدمی کے ساتھ اسی بس پر سفر کریں یا پھر ان تمام چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کو جامع حکمت عملی وضع کریں۔ نیز نٹکو حکام ڈرائیور مافیا کا بھی کھانا ایسے بند کریں کہ ان کی دل آزاری بھی نہ ہو اور مسافروں کا معاشی قتل بھی ان ہوٹلوں کے بل کی مد میں نہ ہو، اور سیزن کے حساب سے کرایے کی رقم زیادہ کر کے عوام کو تکلیف نہ دی جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

انیس الحسن بیگ کی دیگر تحریریں
انیس الحسن بیگ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں