تعلیم کا معیار، سکولوں کی حالت زار اور سیاسی جماعتوں کا کردار


سال 2013 سے تسلسل کے ساتھ الف اعلان نام کے ایک ادارے کی طرف سے سالانہ پرائمری اور مڈل سطح کے تعلیمی معیار اور سکولوں کی حالت پر ایک جائزہ رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔ اپنی نوعیت کی اس منفرد رپورٹ کو مرتب کرنے کے لئے ایک خاص طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس میں ایک خاص دائرہ کار کے بارے میں مختلف ذرائع سے اعداد و شمار جمع کرکے تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔

جہاں اس رپورٹ نے تعلیم اور سکولوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے اداروں اور لوگوں کو بڑی مدد فراہم کی ہے وہاں اب ملک میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں نے اپنی کارکردگی کے ثبوت کے طور پر اس رپورٹ اور اس میں موجود اعداد و شمار کا حوالہ دینا شروع کیا ہے جو سیاسی مکالمے کے شواہد اور حقائق پر مبنی ہونے کی طرف جانے کا اشارہ بھی ہے۔

 ملک میں پرائمری اور مڈل سطح کی تعلیم کے میعار اور سکولوں کی صور تحال پر الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی کی چوتھی سا لانہ رپورٹ برائے سال 2016 شائع ہو گئی ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں اداروں کے علاوہ کئی دیگر ویب سائٹس پر دستیاب ہے جو اردو، انگریزی اور سندھی زبانوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

وقت اور پڑھنے والوں کی دلچسپی کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے اس رپورٹ کے صرف دو پہلو یعنی میعار تعلیم اور سکولوں کی حالت کا جائزہ مختصراً پیش کیا جاتا ہے ۔

پرائمری سطح کے تعلیمی میعار میں اول نمبر پر اسلام آباد (وفاقی دارالحکومت کا علاقہ جس میں اسلام آباد شہر اور دیہات شامل ہیں) دوئم آزاد کشمیر، سوئم پنجاب، چہارم میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ، سندھ، فاٹا اور بلوچستان بالترتیب پانچویں، چھٹی، ساتویں اور آٹھویں پوزیشن پر رہے ہیں۔

پرائمری تعیمی میعار کے ضلعی درجہ بندی میں سر فہرست اسلام آباد رہا اس کے بعد پنجاب ہےجس کے 36 میں سے 33 اضلاع پہلے پچاس اضلاع میں شامل ہیں اور آزاد کشمیر کے دس کے دس اور گلگت بلتستان کے سات میں سے چھ اضلاع اس فہرست میں شامل ہیں۔ اس فہرست میں آخر میں رہنے والے اضلاع میں بلوچستان اپنے 31 میں سے 29 اور سندھ 26 میں سے 18 اضلاع کے ساتھ رہا۔ خیبر پختونخواہ کے تین اضلاع مالاکنڈ، مردان اورہری پور پہلے 25 میں شامل ہیں جبکہ ٹانک اور کوہستان فہرست کے آخر میں ہیں۔ کوہاٹ کے علاوہ فاٹا کی تمام ایجنسیاں بھی آخری درجے پر رہیں۔

مڈل کی سطح پر تعلیمی میعارکے انڈیکس میں آزاد کشمیر کے دس میں سے آٹھ اضلاع پہلے دس اضلاع میں شامل ہیں جن میں ضلع بھیمبر پہلے نمبر پر رہا، بلوچستان کا ضلع پنجگور چوتھے نمبر پر اور گلگت بلتستان کا ضلع ہنزہ نگر آٹھویں نمبر پر ہے۔ بلوچستان کا ضلع واشک سب سے آخر میں ہے جبکہ فاٹا کی کرم ایجنسی 36 ویں نمبر پر، پنجاب کا فیصل آباد بارہویں اور سندھ کا کراچی پندرویں نمبر پر رہا ۔

 اس رپورٹ کا دوسرا حصہ سکولوں کے انفرا سٹرکچر کے بارے میں ہے جس میں سکول کی عمارت کے علاوہ پانی، بجلی، بیت الخلاء، اور چاردیواری کی سہولیات کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس درجہ بندی میں پرائمری سکولوں میں پنجاب اول نمبر پر رہا اسلام آباد دوسرے اور خیبر پختونخواہ تیسرے نمبر پر رہا۔ سندھ کا نمبر چوتھا اور گلگت بلتستان پانچویں نمبر پر ہے۔ فاٹا، بلوچستان اور آزاد کشمیر بالترتیب درجہ بندی میں چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر رہے۔

پچھلے سال (2015) کی نسبت رواں سال (2016) میں فاٹا اور پنجاب کے سکولوں کی حالت میں بہت بہتری اور خیبر پختونخوا میں معمولی سے بہتری دیکھی گئی جبکہ اسلام آباد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سندھ، گلگت بلتستان، اور آزاد کشمیر میں پچھلے سال کی نسبت بدتری جبکہ بلوچستان میں بہت زیادہ بدتری دیکھی گئی۔

پرائمری سکولوں کی حالت کی درجہ بندی میں پنجاب کے سب اضلاع پہلے پچاس درجوں میں ہیں سوائے ڈیرہ غازیخان کا ضلع جو 54ویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے پہلے پچاس کی فہرست سے باہر ہے۔ خیبر پختونخواہ کے پانچ اور اسلام آباد بھی پہلے پچاس اضلاع میں شامل ہوسکے ہیں۔ تعلیمی میعار میں پنجاب سے آگے کھڑے ہونے والے آزاد کشمیر کا انفرا سٹرکچر میں سب سے بہتر ضلع میر پوراس فہرست کے 96 ویں نمبر پر ہے، تعلیمی معیار میں چوتھے نمبر کے گلگت بلتستان کا سب سے بہتر ضلع ہنزہ نگر 59 ویں نمبر پر ہے جبکہ بلوچستان کا نوشکی ضلع 85 وین نمبر پر ہے۔ سندھ کا ضلع لا ڑکانہ ۵۲ نمبر پر ہے اور کراچی 57 ویں نمبر پر رہا جو پچھلے سال پہلے پچاس اضلاع میں میں شامل تھا۔

مڈل سکولوں کی حالت میں بھی درجہ بندی زیادہ مختلف نہیں سوائے اس فرق کے ساتھ کہ خیبر پختونخواہ کا ضلع مردان 25 ویں نمبر پر رہا اور اسلام آباد 43 ویں پوزیشن پر رہا۔ دیگر صوبوں میں سندھ حیدر آباد 53 ویں نمبر پر رہا اور گلگت بلتستان کا ہنزہ نگر 64 ویں نمبر پر۔ شمالی وزیرستان 56 ویں، میر پور آزاد کشمیر 72 ویں اور بلوچستان کا ضلع ہرنائی 66ویں نمبر پر رہا۔

پرائمری سکولوں کی دیگر سکولوں سے تناسب میں کمی میں اسلام آباد سر فہرست ہے جس میں پرائمری سکولوں کا دیگر سکولوں سے تناسب 69فیصد ہے جبکہ گلگت بلستان اور آزاد کشمیر بالترتیب 62 اور 70 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ سندھ میں یہ تناسب سب سے زیادہ ہے جہاں پرائمری سکول دیگر سکولوں کا 90 فیصد ہیں اس کے بعد فاٹا ہے جہاں یہ تناسب 85 فیصد ہے۔

پورے ملک میں تقریباً 30 فیصد سکول ایسے بھی ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے ۔ ایسےا یک استاد کے ساتھ چلنے والے سکولوں میں سر فہرست بلوچستان ہے جہاں 55 فیصد سکولوں میں صرف ایک استاد ہے اس کے بعد سندھ کے 47 فیصد سکولوں میں صرف ایک استاد ہے اور تیسرے نمبر پر گلگت بلتستان ہے جہاں 35 فیصد سکول ایک استاد کے ساتھ چلتے ہیں۔ فاٹا اور آزاد کشمیر میں سات فیصد سکولوں میں ایک استاد ہے جبکہ خیبر پختونخواہ میں یہ تعداد 19 فیصد اور پنجاب میں پندرہ فیصد ہے ۔ اسلام آباد میں کوئی ایسا سکول نہیں۔

پورے ملک میں سکول صرف ایک استاد سے ہی نہیں 16 فیصد سکول ایک کمرے میں بھی چلتے ہیں ۔ ایک کمرے کے سکولوں میں بھی سندھ سر فہرست ہےجہاں 27 فیصد سکول صرف ایک کمرے میں ہیں۔ بلوچستان 26 فیصد کے ساتھ دوسرے اور آزاد کشمیر 17 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ چوتھے نمبر پر خیبر پختونخواہ ہے جہاں 12 فیصد سکول ایک کمرے میں ہیں جبکہ گلگت بلتستان 11 فیصد ایک کمرے کے سکولوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے ۔ پنجاب میں ایسے سکول 6 فیصد ہیں جبکہ فاٹا میں 2 فیصد ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ایسے سکول بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

تعلیمی میعار میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے بعد آزاد کشمیر کی سکولوں کی حالت خراب ہونے کے باوجود پنجاب سے مقابلہ رہا ہے اور گلگت بلتستان نے بھی اپنے خراب حالت کے سکولوں کے ساتھ مسلسل اپنی چوتھی پوزیشن برقرار رکھی ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہاں تعلیم کی طرف توجہ دی جائے تو نتائج اس سے بھی کئی گنا بہتر آسکتے ہیں۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ پچھلے سالوں کی نسبت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں کے سکولوں کی حالت زار میں بدتری آئی ہے جس کی ذمہ دار وہاں کی حکومتیں ہیں۔

سندھ جو پیپلز پارٹی کا مرکز ہے اور نوجوان بلاول بھٹو نوجوانوں کی قیادت کا دعویدار بھی ہے اس کے لئے اس صوبے کی تعلیمی زبوں حالی کا فوری نوٹس لیا جانا چاہئے۔ پنجاب کی برتری کے گو کہ اور بھی عوامل ہیں مگر یہ رپورٹ ہر پہلو سے شہباز شریف اور اس کی حکومت کی کارکردگی کی ایک ناقابل تردید ثبوت ہے جو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس چیلنج کا عمران خان نے خیبر پختونخوا میں اپنی قدرے بہتر کارکردگی اور پانچویں پوزیشن پر سندھ سے آگے رہنے کی کامیابی کے ساتھ جواب دیا ہے مگر پیپلز پارٹی کی خاموشی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔

فاٹا گزشتہ برسوں میں امن و آمان کے سنگین مسائل کا شکار رہا ہے مگر بلوچستان کا تواتر کے ساتھ آخری سطح پر رہنا وہاں کی صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے لئے باعث تشویش ہو نا چاہئے۔ اب یہ وہاں کی سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنان کی ذمہ داری ہے جو اپنی سیاسی قیادت کی توجہ اس طرف دلائیں کہ ان کے صوبے میں ایسا کیوں ہے کہ وہ تعلیمی معیار میں فاٹا کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے یا گلگت بلتستان جیسے کم وسائل کے نیم صوبے سے بھی پیچھے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 155 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan