اک ماں کا نوحہ


امسال جب میرا بیٹا پڑھائی کے لئے بیرون ملک گیا تو اس کی جدائی کا دکھ محض جذباتی نہیں تھا بلکہ اس نے مجھے جسمانی طور پر بھی نڈھال کر دیا۔ کئی مہینے گزر گئے لیکن دل ابھی نہیں سنبھلا۔ مگر اس مراعت یافتہ دکھ کا ان اذیتوں سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جو بچے کی موت کی شکل میں کسی ماں کو سہنا پڑتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ بچے کا نظروں سے دور ہو جانا یا اس کی جسمانی قربت سے محرومی سے محض جذباتی صدمہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے جسمانی دھچکا بھی لگتا ہے۔ درد کا احساس تو ختم ہو سکتا ہے مگر درد کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ آپ کے وجود کے اندر کبھی نہ بھرنے والا خلا پیدا کر دیتا ہے۔

پشاور آرمی پبلک اسکول میں 2014ء میں بچوں کے اجتماعی قتل کے بعد ’کبھی نہ بھلانے کا عہد‘ بے کار ہو چکا ہے۔ ہماری ریاست کو نہ صرف نسیان کا عارضہ لاحق ہے بلکہ اس نے جمہوریت دشمن، بلیک میلرز، دھرنا جہادی جو مذہبی متعصب اور موت کی دھمکیاں دینے والے ہیں، کو مطمئن کر کے اے پی ایس کے متاثرین کی یادوں کا مذاق اڑایا ہے۔ اے پی ایس کے المیے کا ماتم کرنے کی تاریخ گزر چکی ہے۔

علیحدگی، گمشدگی یا موت کی شکل میں اپنے بچے کو کھو دینے والے والدین کا مشترکہ دکھ یہ ہے کہ وہ خواہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لیں، اس کو بھلا نہیں سکتے۔ متاثرہ والدین کی جینے کی امنگ ختم ہو جاتی ہے اور ان کی بقیہ زندگی بچے کی یاد میں گزرتی ہے ۔ ان والدین کا حال تو اور بھی برا ہوتا ہے جن کا بچہ گم جاتا ہے، وہ تو ایک پرچھائیں کے تعاقب میں رہتے ہیں اور جسمانی طور پر اس کا ماتم بھی نہیں کر سکتے۔ وہ کیسے کھوئے ہوئے بچے کی تلاش ترک کر دیں، کیسے کتھارسس ہو، کیسے بھولنے کی کوشش کریں جب کہ ان کے پاس بچے کو کھو دینے کا کوئی طبعی ثبوت بھی نہیں ہوتا۔

اگر کسی حادثے یا دانستہ تشدد کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہو تو مظلوم والدین کی تسلی کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ انہیں انصاف ملے، ان کے وجود میں پیدا ہونے والے خلا کو انصاف سے ہی پر کیا جا سکتا ہے۔ والدین کو یہ جاننے اور سمجھنے کا حق ہے کہ یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس نے کیا؟ اموات خواہ حادثاتی ہوں، یا جانی بوجھی کارروائی کا نتیجہ ہوں یا ہدف کوئی اور تھا لیکن یہ وہاں موجود ہونے کی وجہ سے مارے گئے، ان سب اموات کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ ایک جیسی اور یکساں طور پر نا منصفانہ ہیں کا مطلب ایسے اقدامات کے مقصد، ذمہ داری اور فوائد سے انکار کرنا ہے۔ ان کو گڈ مڈ کرنے کا مطلب پریشان کن تفصیلات سے گریز کرنا ہے۔

آرمی پبلک اسکول پر حملے کے تین سال بعد بھی ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، ہمارا سیاسی نظام اس طرح کے کیسز کا ملبہ جمع کرنے پر کمر بستہ رہتا ہے، انہیں فائلوں میں ڈالتا ہے اور پھر افسر شاہی کے آرکائیوز کے قبرستان میں دفن کر کے بھول جاتا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام انہی قبائلی احساسات کی پیروی کرتا ہے جن سے کہ وہ برتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور ناکافی معاوضہ اور سزائیں دیتا ہے۔ مصالحت کرو اور بھول جاؤ۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ ٹھیک ویسا ہی بدلہ لیتی ہے اور وہ بیج بوتی اور سینچتی رہتی ہے جو عسکریت پسندی کو برقرار رکھتے ہیں۔ منتخبہ چیزیں بھول جاؤ۔

عوامی دانشور متضاد نظریات پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک عقیدے پر مبنی دہشت گردی جو دنیوی احتساب سے بالاتر ہے، اس میں اور اس ریاست میں کوئی فرق نہیں جو زور و جبر سے اپنا اقتدار برقرار رکھتی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ ریاست کو ختم ہونا چاہئے مگر اس کے ساتھ اسے جہادیوں کے مسلح ایکٹوازم کو ’پر امن‘ طور پر ختم کرنا چاہئے۔ ریاست کو دہشت گردی سے پیشگی بچاؤ کرنا چاہئے لیکن اسی سانس میں وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ ’’بیچارے مسلمان مردوں‘‘ اور مذہبی گروہوں اور مدرسوں پر شبہ کرنا، ان کا سروے کرنا یا ان پر کریک ڈاؤن کرنا اسلامو فوبیا ہے۔

آج کل اسٹریٹ پولیٹکس پر دھرنا جہادیوں کی ایک نئی نسل کی حکمرانی ہے۔ وہ زہر اگلتے ہیں اور من گھڑت اور بغیر کسی ماخذ اور حوالے کے اسلامی تشریحات پیش کرتے ہیں۔ ان کا کوئی سماجی اور اقتصادی ایجنڈا نہیں ہے۔ کچھ علما اپنے تبحر علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اسلامسٹ دراصل ’’عقلیت پسند مومن‘‘ ہیں جو مذہبی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اب وہ اس جواز کی بدولت پارلیمانی عمل کو تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ اور ریاست اور شہریوں کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے نچلے درجے والوں نے بھی ان مرکزی دھارے والی پارٹیوں کو بے مصرف بنا دیا ہے جن کے بارے میں قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ اسلامی جمہوریت کا ہراول دستہ ہیں۔ جن لوگوں نے مذہبی سیاست کی پھسلواں ڈھلوان کی نشاندہی کی انہیں لبرل، سیکولر فاشسٹ اور اسلاموفوبک اشرافیہ کہہ کے معتوب قرار دیا گیا۔ لیکن ان عذر خواہی کرنے والے علما جنہوں نے پرولتاری اسلامی پارٹیوں کے بارے میں ہمدردانہ تھیسس لکھے تھے سے حالیہ لبیک تحریک کے دوران پوچھا گیا ’اب تمہارا باپ کون ہے؟‘۔ بہرحال ہم نے اپنی دوغلی قوم پرستی کے بارے میں کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔ ہم اے پی ایس کے مظلوم بچوں کا ماتم کرنے کے لئے تو متحد ہو جاتے ہیں لیکن ملالہ جیسے بچ جانے والے بچوں کے بارے میں غصہ اور شبہات کا شکار رہتے ہیں۔ وہ جنہوں نے ہمیں ڈانٹا کہ ہم نے دوسری ملالاؤں یا تھر کے غذائیت سے محروم بچوں کا ماتم کیوں نہیں کیا، انہوں نے اس فہرست میں ایذا رسانی کا شکار احمدیوں یا ہزارہ بچوں یا غیر مراعات یافتہ مسیحی بچوں یا پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کو شامل نہیں کیا۔ انہوں نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جو یکساں تکلیفوں کی کتاب سے کم تر بچوں کو خارج کر دیتا تھا۔

اسلامی سیاست کا دفاع کرنے والوں کے لئے ایک چھوٹی سی نصیحت ہے، اگر کسی دن کوئی بچہ اسکول جاتا ہے اور خود مختارانہ، ناقدانہ طور پر سوچنے یا ایسا سوال کرنے کی جرات کرتا ہے جو اسٹیٹس کو کو چیلنج کرتا ہے، یا اسلامیات کے امتحان میں ہجوں کی غلطی کرتا ہے، یا بڑے ہو کر کسی ترقی پسند قانون کا مسودہ تیار کرتا ہے، یا کسی غلط سمجھے جانے والی نسل یا مذہب میں پیدا ہو جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ کسی کچلے ہوئے گروہ یا اقلیت کی حمایت کرتا ہے تو یہ آپ کے لئے پریشانی کی بات ہے، بہت زیادہ پریشانی کی بات ہے۔ اور اس بات کا جواب بھی تیار رکھئے کہ آپ کیوں کینیڈا یا ڈنمارک بھاگ گئے ہیں۔

ما بعد اے پی ایس: وہ منافقت جو ہمارے اخلاقی طور پر الجھے ہوئے قطب نما کی رہنمائی کرتی ہے، ہماری ریاستی ایجنسیوں کی سمت کو عیاں کرتی ہے۔ جو غیر نمائندہ بلیک میلرز کے غیر آئینی مطالبات سے ڈرتے ہیں لیکن اے پی ایس کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے یا مستقبل کے بچوں کی حفاظت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نا انصافیوں کا یہ خلا ہمیں پاتال کی طرف لے جا رہا ہے۔

(ترجمہ: مہ ناز رحمن )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عافیہ شہر بانو ضیا کی دیگر تحریریں
عافیہ شہر بانو ضیا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں