ڈینگی برادران اور آہستہ آہستہ ہونے والا حادثہ


شیخ کی آنکھیں بند تھیں اور یہ الفاظ جیسے کوئی اور ان کے منہ سے ادا کر رہا تھا، فرمانے لگے ”اخلاق ہر انسان کے لیے بہت نفع کا باعث ہے لیکن اس کا بہت زیادہ فائدہ ان کے لیے ہے جنہوں نے لوگوں کے کاندھوں پہ سوار رہنا ہو‘‘۔ پھر تین دفعہ فرمایا، وہ شخص کامیاب ہے، وہ شخص کامیاب ہے، وہ شخص کامیاب ہے‘ جس نے زبان کی لگام اپنے دماغ کو سونپ دی اور اپنے لفظوں کو ایک مقدس امانت جانا اور بغیر غور کیے کبھی منہ نہ کھولا اور جس نے اپنے عیب جوئی کرنے والوں کی تعظیم کی اور جس نے حق بات اور نصیحت کو کھلے دل سے قبول کیا۔ پوچھا گیا، انسان با اخلاق کب ہوتا ہے؟ فرمایا، جب اپنی ذات کو کسی خاص سلوک کا مستحق نہ جانے، کیونکہ انا کی سرکشی سے وہ کبھی واقف نہیں ہو پاتا اور اسے چاہئے کہ لوگوں میں کسی کو خود سے کم تر نہ سمجھے چہ جائیکہ مخلوق کا تمسخر اڑایا جائے۔

عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال بنوایا، بہت اچھا کام کیا۔ یہ پاکستان کا پہلا کینسر ہسپتال تھا‘{ جہاں جدید ترین سہولیات میسر تھیں اور شروع کی سٹیج والے کینسر کے مریضوں کا علاج مفت ہوتا تھا۔ ایسی باتیں سننے میں آئیں کہ بہت سے مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کیا گیا۔ وہ ہسپتال کی اپنی پالیسی ہو گی، اس پہ بات نہیں کرتے۔ ایک ادارہ اپنی ساکھ بنانے کے لیے بہت سے ایسے فیصلے کرتا ہے جو عام انسان کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں‘ لیکن بہرحال وہ مجبوری ہوتی ہے۔ مثلاً ایک اسی سالہ بوڑھا کینسر کا مریض ہے اور بہت آگے کی سٹیج پر ہے تو کوئی بھی ادارہ اس کی نسبت کسی جوان مریض کو ترجیح دے گا کہ جسے اگر بچا لیا جائے تو اس کی بہت زندگی باقی ہو گی۔ پھر اس میں بھی مرض کی شدت دیکھی جاتی ہے کہ آیا اتنے وسائل لگانے کے بعد بھی مریض بچ سکے گا یا پھر یہی دوا یا علاج اس بندے کو دیا جائے کہ جس کے بچ سکنے کے چانسز نسبتاً زیادہ ہوں۔ تو ان ترجیہات کا پورا سیٹ کسی ادارے کی پالیسی کہلاتا ہے، وہی معاملہ یہاں بھی ہو گا۔

شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے اگر کوئی بھی چھوٹی موٹی بات کی جائے تو عمران خان اور ان کے ساتھی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک فلاحی کام کو سیاست میں گھسیٹ لیا، ہماری نیتوں پر شک کیا، یہ ایک شفاف ادارہ ہے، پاکستان کا واحد کامیاب ترین ادارہ، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ۔ بات بالکل درست ہے، کسی بھی فلاحی ادارے کو سیاست سے الگ رکھنا ہی اس کی کامیابی کا باعث ہوتا ہے۔ 29 سمبر 2015ء کو عمران خان نے پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح کیا‘ اور اسی تقریب میں فرمایا کہ نواز شریف جب وزیر اعلیٰ ہوتے تھے تو انہوں نے پچاس کروڑ کا فنڈ ایشو کیا لیکن کینسر ہسپتال نہ بنوا سکے۔ مجھے بھی تمام لوگوں نے کہا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا‘ لیکن میں نے کر دکھایا۔ تو جب خان صاحب خود اس تقریب میں سیاسی بات کرتے ہیں اور نواز شریف ادھر بھی ان کے دماغ پہ چھائے رہتے ہیں تو عام آدمی کس طرح اس پریکٹس سے بچ سکتا ہے؟

تاریخ گواہ ہے، جب خان صاحب اس ہسپتال کے لیے چندہ مانگنے نکلتے تھے تو کوئی بھی حکومت ہو کبھی روڑے نہیں اٹکاتی تھی۔ سب کو معلوم تھا فلاحی کام ہے، ہونے دو، کل کو اپنے ملک کے اثاثوں میں ہی اضافہ ہو گا۔ پھر اتنی برداشت سب میں ہوتی ہے کہ دشمن بھی بیمار انسانیت کا بھلا چاہے تو اسے کام کرنے دیا جائے۔ اسی تقریر میں انہوں نے چند دیگر سیاسی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، گیٹ کے باہر احتجاج کرنے والے اپنے ہی کونسلروں اور ناظمین سے بھی نمٹے کہ جو اسی پشاور میں کسی اور کام کے لیے فنڈز نہ ہونے کی دہائی دیتے تھے۔ اور پھر یہ تقریب مکمل ہو گئی۔ کبھی آج تک ہم میں سے کسی نے سنا ہو کہ عمران خان کو یہ نیک کام کرنے پہ کسی بھی سیاسی جماعت نے طعنہ دیا؟ حالانکہ یہ دونوں ہسپتال لوگوں کے عطیے سے بنے لیکن اس میں عمران خان کا جذبہ شامل تھا تو پوری دنیا اسے بنانے کا کریڈٹ انہیں دیتی ہے۔ حق بات ہے، دینا چاہئے۔

اب کیا ہوتا ہے کہ ادھر آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ایک وبا کا شکار ہو جاتا ہے۔ پہلے دو تین مریض ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں اس کے بعد تانتا بندھ جاتا ہے۔ صوبائی حکومت پہلے سال جتنا ممکن ہوتا ہے روک تھام کرتی ہے‘ اس کے بعد اگلے برس سے باقاعدہ ایمرجنسی کا ماحول بن جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں مچھر دانیوں سمیت آئسولیشن وارڈ بنتے ہیں، سری لنکا سے ماہر ڈاکٹر بلوائے جاتے ہیں جو وہاں اس وبا کو ڈیل کر چکے تھے، پورے پنجاب میں ہر لیبارٹری کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ بلڈ ٹیسٹ یکساں ریٹ پہ کریں (شاید نوے روپے)، ہنگامی بنیادوں پہ دوائیں خریدی جاتی ہیں، خون کے عطیات کا بندوبست کیا جاتا ہے، لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے، ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ ہوتی ہیں، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ریڈ الرٹ ہو جاتا ہے، دن رات کی سرویلنس ہوتی ہے، عوام کو بتایا جاتا ہے کہ اس سے بچنا کیسے ہے، ہر روز آدھا اخبار عوامی آگہی کے پیغامات سے بھرا ملتا ہے، ٹیمیں آج کے دن تک لوگوں کے گھروں میں جا کے چیک کرتی ہیں کہ ڈینگی مچھر کا لاروا تو کہیں موجود نہیں؟ ورکشاپ والے ٹائر رکھنے سے عاجز آ جاتے ہیں، نرسریوں والے اپنے پانی کے تالاب ڈھانک لیتے ہیں، مطلب اتنی سختی سے پنجاب حکومت اس پہ قابو پانے کی کوشش کرتی ہے اور عمران خان ان تمام کوششوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں ”ڈینگی برادران‘‘ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے، ڈینگی برادران اور ڈینگی سے چھپتے بچتے پریشان عوام برداشت کرتے ہیں۔

تین روز پیشتر خبر آتی ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سال خیبر پختونخوا میں ڈینگی وائرس سے ہلاکتوں کے سب سے زیادہ کیس ہوئے‘ جن کی تعداد 69 تک پہنچ چکی ہے۔ اور ان میں زیادہ تر اموات خون کی منتقلی میں تاخیر کے سبب ہوئیں۔ بات ہرگز یہ نہیں کی جا رہی کہ عمران خان نے بڑا بول بولا یا دوسروں کا مذاق اڑایا تو اس کی سزا انہیں مل گئی، انہیں کاہے کو ملی؟ جو ستر بندے مر گئے سزا تو انہیں ملی۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی آنیاں جانیاں سب کو ٹھیک سے نظر آ گئیں۔ کیا یہ مظلوم صوبہ کبھی عمران خان کی ترجیحات میں شامل رہا بھی ہے؟ اپنا علاقہ چھوڑ کے پوری دنیا میں دھرنے دئیے جائیں گے، ہر شہر میں ہر روز جلسے ہوں گے، سٹیج پہ چڑھ کے امریکہ سے لالو کھیت تک لوگوں کو للکارا جائے گا، اوئے ڈینگی برادران، موٹو، چھوٹو اور دنیا جہان کے رکیک جملے کہے جائیں گے، تو بھائی اپنی حکومت کو وقت کب ملے گا؟

شیخ نے بتایا کہ جان لو وقت ایک بہت بڑی طاقت ہے اور وہ ہمیشہ تمہارے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ فرمایا کہ اگر وقت کی قدر جاننی ہو تو اس برف کی ریڑھی والے کو دیکھو اور سبق لو کہ جو بازار میں ریڑھی چلاتا جاتا تھا اور آواز لگاتا تھا؛ رحم کرو اس پر کہ جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے، رحم کرو اس پر کہ جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کا سرمایہ خدا رحم کرے بہت تیزی سے گھلا جا رہا ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایسی کیا سٹریٹیجی تھی جو انہیں قریب چار برس سڑکوں پہ رولتی رہی اور بدلے میں پہلے اچھا خاصا نقصان دہشت گردوں کے ہاتھوں اٹھایا اور اب ایک مچھر… ویسے تو میں اس فلمی سین کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا جس میں ایک مچھر کے حوالے سے بات ہوئی تھی لیکن یہ بات بہرحال طے ہے کہ نفع نقصان کا حساب لگانے والوں کی ڈائری میں ڈینگی مچھر سے ہوئی ستر اموات بہت بھاری لکھی جائیں گی۔ اور اس سے پہلے کا بڑا واقعہ سانحہ اے پی ایس تھا، جس سے پہلے شادی پہ منتج ہونے والا دھرنا زور و شور سے جاری تھا۔ عرفان صدیقی نے کہا تھا؛
اچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا
یہاں ہوتا ہے ہر اک حادثہ آہستہ آہستہ

اگلے کسی بھی حادثے کو اوائیڈ کرنے کے لیے عقل والے اب بھی سبق لے سکتے ہیں۔ جو نہیں لینا چاہتے انہیں اپنی پسند مبارک!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 458 posts and counting.See all posts by husnain