Good luck vs Bad luck


سپریم کورٹ نے ایک دن میں کئی فیصلے سنا دیئے جو اگلے سال پاکستانی سیاست کی نئی سمت کا تعین کریں گے۔
نواز شریف اور شہباز شریف کی خوش قسمتی ملاحظہ فرمائیں۔ نواز شریف کو جنرل مشرف دور میں چودہ برس سزا ہوئی، اکیس سال کے لیے نااہل ہوئے اور اپنے تایا کا چالیس کروڑ روپے جرمانہ حمزہ شہباز نے نیب کو ادا کیا۔ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو نواز شریف نے چیلنج نہیں کیا۔ دس برس کی ڈیل کی اور باہر چلے گئے۔ واپس لوٹے اور سپریم کورٹ میں کیس دوبارہ کھلوا لیا۔ سب سزائیں معاف ہو گئیں۔

اب حدیبیہ کیس میں شہباز شریف کی خوش قسمتی ملاحظہ فرمائیں۔ سابق نیب چیئرمین قمر زماں چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ کے حدیبیہ کیس بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کی۔ پاناما کیس سماعت میں جج حیران ہوئے کہ آخر چیئرمین نیب نے کیوں اپیل نہیں کی؟ جسٹس کھوسہ نے کہا: یہ کیس دوبارہ کھلنا چاہیے۔ نیب لیت و لعل سے کام لیتا رہا۔اب جمعہ کو عدالت نے کہا: نیب نے وقت پر اپیل نہیں کی تھی‘ کیس ری اوپن نہیں ہو گا۔ نواز شریف کیس میں دس سال تک اپیل نہ ہوئی‘ پھر بھی اپیل سن لی گئی۔

عمران خان اور جہانگیر ترین فیصلے میں سپریم کورٹ نے اہم بات لکھی ہے کہ بہت سارے لوگ عدالتوں میں اپنے مخالفوں کو ڈس کوالیفائی کرانے آتے ہیں‘ ان کے اپنے غلط مقاصد ہوتے ہیں یا انہیں کوئی اور استعمال کر رہا ہوتا ہے ‘ اس رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔

پبلک آفس ہولڈرز اگر کرپشن کر رہے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر عدالت یہ فیصلے نہ کرے تو کون سا ادارہ ان کے خلاف کارروائی کرے؟

میں پچھلے سال پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اس اجلاس میں موجود تھا جس میں پاناما سکینڈل پر بریفنگ کے لیے سب اہم اداروں کو بلایا گیا تھا۔ خورشید شاہ صدارت کر رہے تھے۔ جونہی اجلاس شروع ہونے لگا تو سیکرٹری قانون کرامت نیازی بولے: پی اے سی پاناما کے معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی اور نہ ہی یہ کسی ادارے کو بلا کر پوچھ سکتی ہے۔کرامت نیازی کو کچھ دن پہلے ہی سیکرٹری قانون بنایا گیا تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کئی برسوں تک اسمبلی کے سیکرٹری رہے اور انہیں کنٹریکٹ ملتا رہا۔ وہ یہ حکم پارلیمنٹ کی اس کمیٹی کو دے رہے تھے‘ جس کے بنائے ہوئے قانون کی وجہ سے وہ کنٹریکٹ پر ستر سال کی عمر میں بھی دوبارہ نوکری پر لگ گئے تھے۔

چیئرمین نیب قمر زماں چوہدری سے پوچھا گیا کہ سرکار آپ بتائیں‘ اب تک پاناما پر کیا کارروائی کی ہے؟ انہوں نے بڑا مختصر سا جواب دے کر سب کا مکو ٹھپ دیا کہ ہم محض اخباری خبروں پر کارروائی نہیں کر سکتے۔ مطلب بڑا واضح تھاکہ نیب کارروائی نہیں کرے گا۔ اس کے بعد باری ایف آئی اے کے ڈی جی عملیش خان کی آئی۔ موصوف بولے: جناب والا قانون کے تحت ہم کسی بھی ایم این اے یا ایم پی اے کو ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔ یہاں تو وزیراعظم کی بات ہو رہی ہے۔سب کو سانپ سونگھ گیا۔

اس کے بعد چیئرمین ایف بی آر سے پوچھا گیا :آپ بتائیں کیا کارروائی کی ہے؟ وہ بولے: ہم نے کچھ لوگوں کو‘ جن کا نام پاناما میں تھا، نوٹس جاری کیے تھے لیکن انہوں نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ انہیں دوبارہ نوٹس جاری کریں گے اور جواب ملا تو آپ تک پہنچا دیں گے۔اس کے بعد ایس ای سی پی کے سربراہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے ایک لمبی رام لیلا سنا کر کہا کہ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت تک چھلانگیں لگا سکتے ہیں اور وہ لگا رہے ہیں۔ باقی ان سے کچھ توقع نہ رکھی جائے۔آخری باری سٹیٹ بینک کے گورنر کی تھی۔ بولے: جناب اس کی تفتیش کیسے کی جائے کیونکہ جو پیسہ باہر گیا ہے اس کے لیے بینک چینل تو استعمال نہیں کیا گیا لہٰذا ہم کیسے کسی کو ٹریس کر سکتے ہیں۔پوری کمیٹی چپ کر کے سن رہی تھی۔ اس پر شیخ رشید نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو فیصل آباد کے میاں منان اور لاہور کے شیخ روحیل اصغر ان سے الجھ پڑے کہ خبردار کوئی بات کی۔پی ٹی آئی کے عارف علوی نے حسین نواز کے حوالے سے پوچھنا چاہا تو ان پر بھی نواز لیگ کے ممبران چڑھ دوڑے۔ بے چارے شریف آدمی‘ علوی صاحب نے فوراً معافی مانگ لی۔
یہ وہ ماحول تھا جس میں پاناما کیس پر بریفنگ ہوئی اور معامہ ٹھپ ہوگیا۔

جب سب مل کر مک مکا کرچکے ہوں کہ ہم نے شریف خاندان کا احتساب نہیں ہونے دینا تو پھر آپ بتائیں پبلک آفس ہولڈرز کا کیسے احتساب ہو؟ پارلیمنٹ کو عزت نواز شریف دے سکتے تھے اگر وہ پارلیمانی انکوائری کمیٹی پر راضی ہوجاتے کہ وہ اس سکینڈل کی تحقیقات کرے۔ عمران خان بھی راضی تھے۔ چھ ماہ تک اجلاس ہوتے رہے اور پوری قوم کو لالی پاپ دیا جاتا رہا۔ آج ٹی او آرز طے ہوئے کہ کل طے ہوئے۔ چھ ماہ بعد اعلان ہوا: نواز شریف اور اسحاق ڈار ماننے کو تیار نہیں ہیں اور یوں عمران خان پٹیشن لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

جب کوئی بھی ادارہ کسی بڑے بندے کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہ ہو بلکہ یہ قانون ہو کہ ایف آئی اے کسی منتخب نمائندے پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی تو پھر کون سا فورم رہ جاتا ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ ان اداروں کے سربراہ کون لگاتا ہے؟نیب چیئرمین کا انتخاب وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر کرتے ہیں۔ اس لیے قمر زماں چوہدری کا یہ کہنا بنتا ہے کہ وہ اخبارات کی خبروں پر کوئی ایکشن نہیں لیں گے یا وہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔ اسی طرح ڈی جی ایف آئی اے بھی وزیراعظم اور وزیر داخلہ مل کر لگاتے ہیں‘ وہ کیسے وزیراعظم کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے؟ باقی اداروں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ جب سب ادارے کمپرومائز کر چکے ہوں‘کرائے پر دستیاب لبرلز قوم کو سمجھا رہے ہوں کہ جمہوریت میں کرپشن اور لوٹ مار ہونا فطری بات ہے اور اسے برداشت کرنا چاہیے تو پھر آپ بتائیں کیا حل ہے؟

سب اداروں کو اپنے ہاتھ میں کر لیا گیا ہے، کسی بچے کھچے ایماندار افسر نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی بھی تو اسے سخت سزائیں دے کر‘ سسٹم سے باہر کردیا گیا یا پھر اس کے خاندان اور دوستوں نے اسے سمجھایا کہ تم پاگل ہو، تمھیں کیا پڑی ہے کہ تم اپنا سر دیواروں سے مارتے پھرو۔

اس لیے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ایسے کیسز اور مقدمات عدالت تک نہیں آنے چاہئیں‘ جن میں پبلک آفس ہولڈرز ملوث ہوں۔ بات درست ہے لیکن یہ بات وہاں درست ہوگی جہاں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ‘ اپنی پارٹی اور تعلقات سے اوپر اٹھ کر‘ ملکی مفادات کا خیال کرتے ہوں۔ جیسے ہم لندن کی پارلیمنٹ میں دیکھتے ہیں‘ جہاں سیاستدان خود اپنے ساتھی سیاستدان کے سکینڈل آنے پر‘ خود ووٹنگ کر کے اسے پارلیمنٹ سے باہر پھینک دیتے ہیں کہ تم اس قابل نہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھو۔ ہمارے ادارے امریکی ایف بی آئی جیسے نہیں‘ جہاں اس کا سربراہ امریکی صدر کو جواب دیتا ہے کہ آپ مجھ سے وفاداری نہیں بلکہ ایمانداری کی توقع رکھیں‘ اور وہ نوکری سے برطرف ہوکر بھی نہیں گھبراتا۔ میں نے ہی پانچ سال پہلے یہ سکینڈل بریک کیا تھا کہ ایم این ایز اور سینیٹرز کی ایک بڑی تعداد نے پی پی پی دور میں کروڑں روپے کے ترقیاتی فنڈز دوسرے صوبوں میں ٹھیکیداروں کو بیچے تھے۔ اور تو اور، خواتین سیٹ پر چکوال سے ایک ایم این اے اور دوسری خاتون جو تھر سندھ سے تھیں، نے کروڑں روپے گیلانی صاحب سے لیے اور لکی مروت میں بیس لاکھ روپے فی کروڑ کے حساب سے بیچ دیے تھے۔

اب بھی یہ کام ہو رہا ہے۔ منتخب نمائندے ترقیاتی فنڈز کے نام پر مال بنا رہے ہیں۔ مرکز سے، صوبے اور ضلع تک سب ملے ہوئے ہیں۔ سب ان سے تعاون کرتے ہیں‘ جو تعاون نہیں کرتے وہ محمد علی نیکوکارا، آفتاب چیمہ یا پھر شارق کمال صدیقی کی طرح برطرف کر کے گھر بھیج دئیے جاتے ہیں۔وہ اپنے کولیگز کے لیے رول ماڈل بننے کی بجائے عبرت کا نشان بنتے ہیں۔

تو پھر جج صاحب! جب سب سیاسی اور سرکاری ادارے ہائی جیک ہو چکے ہوں تو پھر آپ کی عدالت میں نہ آئیں تو کہاں جائیں؟ یا پھر امریکی مصنف‘ ادکار اور فلم ڈائریکٹر اورسن ویلز کا جملہ پڑھ کر دل کو تسلی دے لیں:
No body gets justice. People only get good luck or bad luck.

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں