قطبی ریچھ کا جگر کھانے سے پرہیز بہتر ہے


براعظم جنوبی انٹارکٹکاکے برف زاروں میں عام پایا جانے والا قطبی ریچھ بھی ایک ایسا جانور ہے جس کا گوشت ان علاقوں میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے لیکن اگر کوئی غلطی سے اس جانور کا جگر بھی کھا بیٹھے تو انجام بہت خوفناک ہوتا ہے۔ ویب سائٹ ’ہاؤ سٹف ورکس‘ کے مطابق قطب جنوبی کے علاقوں میں بسنے والے لوگ قطبی ریچھ کا گوشت تو کھاتے ہیں مگر اکثر لوگ جانتے ہیں کہ اس کی کلیجی کو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہئیے۔ اسے کھاتے ہی جسم میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے ، بینائی متاثر ہونے لگتی ہے ، الٹیاں آنے لگتی ہیں اور پھر جلد جسم سے الگ ہونے لگتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ قطبی ریچھ کے جگر میں پائی جانے والی وٹا من اے کی قسم ریٹی نول ہے جس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ وٹا من اے کی یہ بھاری مقدار انسان کے جسم میں جانے کا نتیجہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔ قطبی ریچھ کے جگر میں وٹامن اے کی اتنی زیادہ مقدا ر ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمندری جانور سیل کو کھاتے ہیں، جس میں بے تحاشا وٹا من اے پایا جاتا ہے ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں