زیتون کا تیل۔ ایک پوری، ادھوری حکایت


محمود فیاض

mfpp

حکایت ہے کہ۔۔۔ اور حکائیتیں اکثر اصل قصے سے کوسوں دور ہٹ جاتیں ہیں، لیکن سنانے والا آپ سے امید رکھتا ہے کہ آپ اس سے وہ نتیجہ اخذ کریں جس کے لیے اتنا  تردد کیا گیا ہے۔  میری بھی آپ سے یہی خواہش ہے۔

حکایت ہے کہ دور کسی ویرانے میں کسی جوگی سنت فقیر کی کچی جھونپڑی تھی۔ جھونپڑی کیا تھی، ایک تیاگی اور دنیا کی موہ مایا سے دور رہنے والے کی واحد ساتھی تھی۔ کچی دیواریں، چٹائی، کٹورا، لکڑی کے کانپتے در، اور رسی والی کنڈی۔ فقیر کی جھونپڑی سے کسی نے کیا لینا تھا، یہ سارا “اہتمام” بھی محض اس لیے تھا کہ آوارہ جانور دھیان گیان میں خلل نہ ڈالیں۔ رات کو ایک ٹمٹماتا دیا  جھونپڑی اور فقیر کی نشانی بن چکا تھا۔

دنیا داروں کا اس ویرانے سے گزر کم ہی ہوتا تھا، لیکن ہفتے، پندرہ دن میں کوئی قافلہ ادھر پاس کے کچے راستے سے گزر ہی جاتا تھا۔ اکثر مسافروں نے جھونپڑی والے فقیر کو کبھی اندر تو کبھی دروازے کے باہر سمادھی لگائے ہی دیکھا۔

کچھ سال اور کئی قافلے گزرے، مسافروں کی کہانیوں اور سننے والوں کی عقیدتوں نے جھونپڑی والے فقیر کا حال دور دور تک پھیلا دیا۔دنیا کے کتے، دنیا کی لالچ میں فقیر کے پاس رکنے لگے۔ فیض تو مانگنے والے کی نیت میں چھپا ہوتا ہے، سو کسی کو فیض ملا کسی کی نیت نے راہ کھوٹی کر دی۔

“بابا جی ! آپ کو بڑی گھور تپسیا کے بعد گیان ملا، ہے نا؟”، عقیدت مند متجسس رہتے۔ بابا کی خاموشی راز کو اور گہرا کر دیتی۔قافلہ آگے بڑھ جاتا تو جوگی کو اپنی تنہائی واپس ملتی، اور وہ پھر سے دھیان گیان میں لگ جاتا۔

پھر ایک دن ایک قافلے کے جانے کے بعد جوگی نے محسوس کیا کہ ایک متجسس اور کھوجی لڑکا قافلے سے پیچھے رک گیا ہے۔

“تم کیا کر رہے ہو؟ تمہارا قافلہ جا چکا۔ ” ، جوگی نے اسکو بتایا۔

“میرا سفر یہیں تک تھا، بابا جی! میں اب آپ کی خدمت کروں گا، آپ مجھے اپنائیں یا نہ اپنائیں، میں نے کہیں نہیں جانا اب۔۔۔ “، لڑکے کی بات میں کچھ تھا کہ جوگی خاموش ہو گیا۔ بابا گرو بن کر جھونپڑی  کے اندر چلا گیا، اور لڑکا چیلا بن کر جھونپڑی کے سامنے بیٹھ گیا۔

کچھ دن گزرے، چیلے نے گرو سے سوال کیا، “بابا جی ! واقعی آپ کی رب جی سے بات ہوتی ہے، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں؟”

“بات کی میری اوقات کہاں، بس کوئی حکم ملتا ہے، اشارہ ملتا ہے، وہی دنیا کو بتا دیتا ہوں۔ ہم تو بس چٹھی والے ہیں، جیسا رقعہ آئے ویسا بیان کر دیتے ہیں۔”، بابا جوگی نے چیلے کو اختصار سے بتایا۔

“حکم کیسے ملتا ہے بابا جی؟ اشارہ کب ہوتا ہے؟ کتنے برس میں چٹھی آنے لگتی ہے؟” ، چیلا بے صبرا  ہوا  پھر ادب کا خیال آڑے آیا، اور خاموش ہو گیا۔

“یہ تو اسکی مر ضی ہے بچے!۔۔۔ پر اکثر رات کو جب چاند اس پیپل کی سب سے اونچی ٹہنی سے نیچے آنے لگتا ہے، اور پورب سے پچھم والی ہوا دھیرے سے چلنے لگتی ہے، تو میرے دھیان میں کوئی آکر اپنی بات ڈال جاتا ہے۔ پھر وہ بات میرے کانوں میں، دل میں اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے، تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ اشارہ ہو گیا ہے۔”

چیلا گرو کی باتوں میں کھوگیا۔ شائد خیالوں میں وہ اس اشارے کو خود سن رہا تھا۔ اب اس کو اندازہ ہوگیا کہ اسکا گرو ہر صبح ایک نیا حکم، ایک نیا اشارہ کہاں سے لے کر آتا ہے۔

پچھلے جمعے کو بابا جی نے سب کو ایک ہی سبق دیا ” اک توں، اک توں” ، سب کی مرادیں اسی کے ورد سے پوری ہو گئیں۔  پھر سوموار کو بابا جی نے فرمایا ” سب توں، جگ توں” ، اور کل سے بابا جی کو حکم ہوا تھا “رب جانے، سب جانے”۔ چیلے کو یوں لگا جیسے کوئی اسکے کان میں بھی چپکے سے کہہ رہا ہو ” اٹھ جا، اٹھ جا” ، لیکن اسنے ہنس کر ٹال دیا، میں کیا میری اوقات کیا۔

اگلے دن چیلا پہلے سے بھی زیادہ خدمت گزار بنا ہوا تھا۔ شائد رات کی باتوں کا اثر تھا۔ بھاگ بھاگ مسافروں کا خیال، رکھ رہا تھا۔ پھر قافلے کے جانے پر بابا جی کی جھونپڑی کی صفائی ستھرائی میں لگ گیا۔

اس بات کو چوتھا دن تھا۔ جوگی فقیر کا رنگ فق تھا، کبھی باہر جاتا کبھی اندر۔ کسی پل چین نہیں آرہا تھا اسکو۔  بار بار ایک ہی بات دہرائے جا رہا تھا، “یہ کیسے ہو گیا ؟ کیا ہو گیا ؟”

چیلے کو بھی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہوگیا؟

جوگی نے اپنے بالوں کو جھٹکا، چلتے چلتے  وہ ایک دم رکا، پھر گردن موڑ کر چیلے کی طرف دیکھا، “تم کو میں نے کشف کی کچھ باتیں  بتائیں تھیں، تم نے کہیں راز افشا تو نہیں کر دیا؟ کسی کو بتا تو نہیں دیا؟”

چیلے نے خوفزدہ ہو کر سر ہلایا، ” نہیں ، نہیں، گرو جی،  میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے کچھ نہیں کیا۔”

“نہیں، کچھ تو ہوا ہے، جس دن سے میں نے تم سے بات کی ہے، حکم آنا بند ہو گیا ہے، اشارہ بھی نہیں مل رہا،  کچھ تو ہوا ہے، کچھ تو ہوا ہے۔۔۔” ، جوگی بابا اپنے آپ سے بات کیے جا رہا تھا، ” حکم بند، اشارہ بند۔۔۔ خاموشی، ویرانی، دل کی ویرانی، قلب کی۔۔۔”

چیلا اور خوفزدہ ہو گیا، “میں قسم کھاتا ہوں جی، میں نے کسی سے بات نہیں کی” ۔

بڑی دیر خاموشی چھائی رہی، پھر جوگی نے سر اٹھا کر چیلے کی طرف دیکھا، اور آہستگی سے   بولنا شروع کیا۔

“دیکھ بیٹا! ایسا کبھی نہیں ہوا، جب سے میں اس راہ پر نکلا ہوں۔  برسوں بیت گئےاب تو ۔  جب سے میں یہاں اس جنگل کے کنارے  جھونپڑی ڈال کر بیٹھاہوں، مجھے حکم ملنے لگا، اشارہ ہونے لگا۔۔۔”، جوگی نے  رک کر خوفزدہ لڑکے کو دیکھا، اور یہ دیکھ کر اطمینان کیا کہ وہ پوری کھلی آنکھوں سے اسکی طرف متوجہ ہے۔

“۔۔۔ تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہواکہ اتنے دن تک اشارہ نہ ملے، اتنے دن تک حکم نہ ہو۔ میں نے اپنے اندر بہت کھوجا، بہت تلاش کیا کہ کہیں موہ مایا، نفس پرستی کا کوئی خیال میرے اندر سے نہ گزر گیا ہو۔ کہیں اس دھوکے کی بنی دنیا کی کوئی بات میری تپسیا بھنگ نہ کر گئی ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ “

جوگی سانس لینے کو رکا اور پھر گویا ہوا، ” تو اب۔۔۔ رہ گئے تم۔ تم بھی اب میری عبادت اور کشف کے رازدار ہو، تمہاری کسی دنیاوی خواہش کا سایہ بھی اس حادثے کی وجہ ہو سکتا ہے۔ تو تم خوب سوچ کر جواب دو اگر کوئی ایسی خواہش تمہارے دل کو چھو کر گزری ہے تو میں اسکا کوئی حل نکالوں ، کوئی چلہ کھینچوں۔”، جوگی نے امید کی نظر لڑکے پر ٹکائی۔

“نہیں بابا جی، نہیں، قسم ہے مجھے سچے رب کی، اب کوئی دنیاوی خیال آتا ہی نہیں ، بس اب تو آپ کی طرح اشارے کی آرزو ہے۔ حکم کریں تو اشارے کی آرزو بھی نہ کروں؟”، چیلا گھٹنوں کے بل جھک گیا۔

“کھوٹ ہے،کھوٹ۔ تمہارے دل میں کھوٹ ہے۔ “، سنت فقیر جلال میں آ گیا، ” میں نے خود دیکھاہے، اس دن اس قافلے کی ایک لڑکی کتنی دیر تمہارے ساتھ بات کرتی رہی۔ اتنا تو کوئی نہیں رکتا ہماری جھونپڑی کے دروازے پر۔ ضرور تمہارے دل میں تمنا جاگی ہو گی۔ “

لڑکا روتے روتے جوگی کے پاؤں پر گر گیا، “آپ دلوں کے بھید جان لیتے ہو، جو بات میرےدل میں آئی اور مجھے پتہ نہ چلا آپ کو پتہ چل گئی۔ میرے جیسے گناہگار کبھی منزل نہیں پاسکتے۔ مجھے اپنے ہی دل کا پتا نہ چلا۔ آپ کہتے ہیں تو ضرور تمنا جاگی ہو گی، مگر آپ کی محبت کی قسم، مجھے پتہ نہ چل سکا۔”

اب لڑکا روتے روتے اپنا بیان دے رہا تھا، ” مجھے پتہ ہی نہ چلا کب تمنا جاگی۔ ویسے تو معصوم لڑکی تھی وہ، کہتی تھی ڈھیر سارا زیتون کا تیل لائی ہوں، اپنے باغ کے زیتون سے۔ بابا جی کےسارے دیے آج رات میرے زیتون سے جلیں گے۔ وہ دیے میں تیل ڈالتی رہی اور میں اسکو دیکھتا رہا۔ آپ ٹھیک فرماتے ہیں تبھی تمنا نے میرے نفس کو پھانس لیا ہو گا۔”

لڑکے نے سر اٹھایا، بازو سے بہتے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی، پھر بولنے لگا، ” بابا جی، وہ لڑکی معصوم تھی، میرے اندر کا شیطان ہی نہ مر سکا، وہ تو بس آپ سے حکم لینے آئی تھی۔ جب سارے دیے تیل سے بھر گئے تو کہنےلگی کہ ابھی بھی تیل باقی ہے، اسکا کیا کروں، تو میں نے کہہ دیا کہ جھونپڑی کے دروازے کے قبضوں میں ڈال دو، رات کے پچھلے پہر جب ہوا چلتی ہے تو کواڑ چوں۔ ۔ٹھک۔۔ چوں ۔۔ٹھک کی آواز دیتے ہیں۔ جب باباجی دھیان لگاتے ہیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ان کی عبادت میں خلل پڑے”


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “زیتون کا تیل۔ ایک پوری، ادھوری حکایت

  • 23-03-2016 at 1:14 pm
    Permalink

    kia baat hai, tail ney wo kar dikhaya jo bohat sey scholars na kar sakey. wah ji wah

    • 24-03-2016 at 7:53 pm
      Permalink

      کاکا! آپ اسکو صرف تصوف کے تناظر میں مت دیکھو، ہر شعبہ زندگی میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جن کے علم کا سرچشمہ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے، اور اپنے ساتھ وہ کئی چیلوں کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔

Comments are closed.