حکونا مٹاٹا


azhar Khan

تحریر کا ٹائٹل پڑھ کر آپ لوگ ضرور چونک گئے ہوں گے، لیکن اوپر دیے گئے دو الفاظ اپنے اندر طلسماتی قوت رکھتے ہیں اور ان پر واقعی عمل کرنے سے آپ کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

“The Lion King” اگر آپ میں سے کسی نے مشہور اینی میٹیڈ فلم  دیکھی ہے تو آپ اس کے مرکزی کیریکٹرز “مُفاسا، سمبا اور سکار” سے بخوبی واقف ہوں گے۔ اس فلم میں “مفاسا” نامی شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے اور وہ اپنے بھائی “سکار” کی سازشوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے اور سکار یہ الزام” مفاسا”کے بیٹے ” سمبا” پر ڈال کر اس کو بھی جنگل سے بھگا دیتا ہے اور بعد میں خود جنگل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ دوران فلم جب بچپن میں” سمبا” جنگل سے بھاگ کر کہیں دوسرے جنگل جاتا ہے تو انتہائی پریشان رہتا ہے اس دوران اسے دو دوست ” ٹمن اور پمبا” ملتے ہیں جو اسے انتہائی پریشان دیکھ کر ایک  Hakuna Matata” گانا گاتے ہیں اور اس میں مسلسل وہ دو بول گاتے ہیں “No Worries” جس کا مطلب ہے نو پرابلم۔ یہ سواحلی زبان کے الفاظ ہیں جو کہ افریقن ممالک عموماً تنزانیہ اور کینیا میں بولی جاتی ہے۔ ان الفاظ سے “سمبا” کے دونوں دوست اسے ایک سبق سکھاتے ہیں کہ ماضی کے سارے واقعات کو بھول جاؤ کیونکہ تم اب ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے، ہاں حال میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو تبدیل کر سکتے ہو اگر تم “حکونا مٹاٹا” سیکھ جاؤ یعنی کہ پریشان ہو نا چھوڑ دو۔

ان دو الفاظ کے اندر وہ فلسفہ ہے جو ہماری پوری زندگی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ہم لوگ اکثر ماضی کی یادوں سے ہی نہیں نکل پاتے اور اسی وجہ سے حال میں بھی ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ بقول شاعر یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا ؂ ماضی میں گزرے ہوئے واقعات کو ہم ہر وقت ذہن پر سوار کرنے کی وجہ سے ذہنی دباؤ، الجھنوں اور اندیشوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم صحیح طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور اسی خوف اور پریشانی کے عالم میں دوسروں سے اپنے تعلقات بھی بگاڑ بیٹھتے ہیں، ہم یہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہم شاید ساری زندگی اسی پریشانی کا شکار رہیں گے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت ہمیشہ ایک جیسانہیں رہتا۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے اپنے غلام ایاز کو ایک انگوٹھی دی اور کہا کہ اس پر ایسا جملہ لکھ دو کہ اگر میں خوشی میں اس کو پڑھوں تو غمگین ہو جاؤں اورغمی میں پڑھوں تو خوش ہو جاؤں، ایاز نے اس پر لکھ دیا “یہ وقت بھی گزر جائے گا”۔ ہماری روز مرہ زندگی میں بھی ایسا ہی ہے ہر اندھیری رات کے بعد صبح کی روشنی ضرور نمودار ہوتی ہے اورہر پریشانی کے بعد خوشی بھی ضرور آتی ہے، لیکن ہم کسی غم یا پریشانی کو اتنا طویل کر دیتے ہیں کہ زندگی میں آنے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہی نہیں ہوتے۔

صرف ماضی کی تلخیوں کو سوچ سوچ کر ہم ہمیشہ پریشان رہتے ہیں ہم کبھی بھی اس بات کو سمجھ نہیں پاتے کہ حال کے اندر کبھی ماضی موجود نہیں ہوتا، ہم جو کچھ سوچ رہے ہوتے ہیں یا جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ صرف “حال” میں ہو رہا ہوتا ہے اور “ماضی” کی سوچوں سے ہم “حال” میں پریشان ہو کر اپنا “مستقبل” بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسان پر مایوسی، قنوطیت اور حزن و ملال کی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔ کسی بھی پریشانی سے متعلق زیادہ سوچنا بھی مزید پریشانیاں بڑھاتا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس واقعے کو کیسے سوچتے ہیں۔ کیا ہم ماضی میں گزرے کسی مسئلے کے بارے میں مسلسل سوچ کر اس پر مزید پریشان ہوتے رہیں یا پھر اس کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کر دیں؟

زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ ہم سب کو ایک ہی بار ملی ہے، اس مختصر سی زندگی میں اگر ہم صرف مسئلوں، الجھنوں، مشکلات اور مصائب کے متعلق ہی سوچتے رہے تو کامیابیاں، خوشیاں اور مسکراہٹیں ختم ہوتی جائیں گی۔ پرسکون اور خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف شکوہ کرنے کی بجائے شکر پر زیادہ توجہ دیں، ہم اپنے حال کو بھی تب ہی بہتر بنا سکتے ہیں جب ہم ماضی سے نکل کر حال میں جیئیں۔ جو غلطیاں ماضی میں ہو چکیں ان کو بھول کر یہ سوچیں کہ اب ہم خود کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے تبدیلی ہمیشہ اپنے اندر سے آتی ہے، آپ دنیا کی ہزاروں کتابیں پڑھ لیں، لیکن اگر ان پر عمل نہ کریں تو کوئی فائدہ نہیں۔ بابا بلھے شاہ نے فرمایا:

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں

(پڑھ پڑھ کے عالم فاضل بن گئے)

کدے اپڑیں آپ نوں پڑھیا ای نئیں

(کبھی اپنے آپ کو پڑھا ہی نہیں)

جا جا وڑدؤا مندر مسیتاں

(بھاگ بھاگ کر مندروں، مسجدوں میں گھستا ہے)

کدے من اپڑیں وچ وڑیا ای نئیں

(کبھی اپنے دل میں داخل ہوا ہی نہیں)

اس دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہو گا جو کسی نہ کسی مسئلے، مشکل یا مصیبت کا شکار نہ ہوا ہو لیکن دانشمند وہی ہوتا ہے جو ان مشکلات کو ذہن پر سوار نہ کرے۔ زندگی میں ہزاروں مشکلات آتی ہیں اور ہزاروں مواقعے آتے اور جاتے رہتے ہیں، کسی ایک واقعے کو لے کر ساری زندگی اس کے افسوس میں نہ گزاریں کیونکہ ایک واقعے میں پوری زندگی نہیں ہوتی، بلکہ زندگی میں بہت سے مواقعات اور آتے ہیں۔ زندگی کو بھرپور جوش اور جذبے کے ساتھ کھل کر جیئیں، اور کسی بھی پریشانی میں ہمیشہ دو الفاظ یاد رکھیں”حکونا مٹاٹا”۔ ۔ ۔ یعنی کہ “No Worries” جب آپ اس فلسفلے کو اپنے اوپر لاگو کریں گے تو آپ پرسکون طریقے سے پریشانی کا حل نکال کر آسانیوں کی طرف آنا شروع ہو جائیں گے۔ یاد رکھیے آپ کی تمام سوچوں کا محور آپ کا دماغ ہے اور اگر آپ نے اپنے دماغ پر تھوڑا سا کنٹرول کر لیا تو پھر کوئی بھی مسئلہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں رہتا، پھر آپ ہر مسئلے کو سوچ، سمجھ کر بہت آسانی سے سلجھا سکتے ہیں۔ پھر جو آپ چاہیں گے آپ کا دماغ وہی سوچے گا اور جن خیالات کو نکال دیں گے وہ آپ کے دماغ میں پھر کبھی نہیں آئیں گے، ایسا کرنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ذرا کر کے تو دیکھیے۔


Comments

FB Login Required - comments