رہبر کا سفر، یوسف گوٹھ اور ہماری محبت


کبھی جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی بھی رشتے میں اپنے حصے کی ساری محبتیں کر چکے ہیں اب کسی مزید محبت عقیدت دوستی کی گنجائیش نہیں اب اس زمین میں کوئی پودا نہیں نکلے گا۔ غم روزگار غم جاناں پہ غالب آ جاتا ہے تب کہیں سے کوئی دروازہ بجاتا ہے کہتا ہے آو میرے ساتھ چلو تو آپ تھوڑا سا جھجک کے ساتھ چل پڑتے ہیں ان دیکھی محبت کی جانب۔ منزل کی طرف جانے والے راستے پہ آپ کو اپنے جیسے بھکاریوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب بھی۔ ؟ آپ حیرت سے سوچتے ہیں۔ پھر ایک رہنما دکھائی دیتا ہے جو خود بھی بھکاری ہے۔ ملنگ ہے۔ اس جیسے اور بھی اپنے اپنے ریوڑ کے ساتھ کھڑے ہیں سب کے راستے الگ لیکن منزل ایک ہے۔ یہ کچھ لینے نہیں دینے جا رہے ہیں۔ راستے بھر دل میں وسوسے سر اٹھاتے ہیں۔ کیا ہم اب بھی محبت کر سکتے ہیں۔

اپنے جیسے دوسروں سے مل کر حوصلے کچھ بلند ہوتے ہیں۔ یہ وہ ساری سوچیں ہیں جو مجھے گھیرے ہوئے تھیں جب میں نے سٹیزن فاؤنڈیشن کی رہبر پروگرام میں آنے کی میل پڑھی اور انٹروڈکشن پروگرام کے بعد رہبر کی شروعات کا پہلا ہفتہ تھا اور ہم اپنے اپنے کوارڈینیٹر کے ساتھ جمع تھے جہاں سے ہمیں یوسف گوٹھ کے اسکول اور باقی گروپس کو اپنے اپنے اسکولز جانا تھا۔ راستہ میرے لئے اجنبی نہ تھا کہ یہ راستہ میرے شہر خموشاں کی طرف جاتا ہے۔ یوسف گوٹھ مین شاہراہ فیصل سے زیادہ اندر نہیں تھا۔ ابھی چند گلیاں ہی گزریں کہ اچانک اسکول اگیا۔ اس اچانک اسکول آنے پر مجھے اچانک ہوٹل یاد اگیا۔ اسکول کی عمارت سٹیزن فاؤنڈیشن کے باقی اسکولوں کی طرح تھی وہی بناوٹ وہی رنگ کی ترکیب جو قیوم آباد کیمپس کی تھی اور تصاویر میں دکھائے گئے ملک کے باقی اسکولوں کی تھی۔

پہلے ہمیں لائبریری میں بٹھایا گیا اور ہمارے کوارڈینیٹر نے ہمیں پروگرام کے بارے میں سمجھایا پرنسپل سے ملوایا اور ہمیں بتایا کہ ہم اگلے چند ہفتوں کے لئے بچوں اور بچیوں کے بھائی اور باجی بننے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر بات کرنی ہے اور ان کے ساتھ بڑے بہن بھائیوں اور دوستوں والا تعلق بنانا ہے۔ ان کا مینٹور بننا ہے۔ سب سے ان کے رہبر پروگرام میں شامل ہونے کی وجوہات پوچھی گئیں۔ یہاں بھی سب ملنگ ہی نکلے۔ اچھی نیتیں اچھی سوچیں اور انداز انتہائی سادہ۔ لیکن سب کے کچھ اور مقاصد بھی تھے بچوں سے کچھ لینے والے۔ دنیا کی دوڑ میں جو کچھ کھویا ہے اسے بچوں سے پانے کے لیکن غالب سوچ بچوں کو دینے کی تھی۔ ملنگ کوارڈینیٹر نے ہمارے دل کا حال جان لیا اور یہی کہا کہ ہم یہاں بچوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ میرا دل چاہا کہ کہوں دل میں سختی آگئی ہے بچوں سے کچھ نرمی لینی ہے۔ لیکن پھر کچھ سوچ کہ نہ کہا اور وہی بتایا جو بچوں کے لئے سوچا تھا۔

پہلے ہفتے بچوں سے ملاقات نہ ہوئی اس لئے سوال اپنی جگہ برقرار رہا کیا ہم اب بھی محبت کر سکتے ہیں۔ ایک ہفتہ اسی تجسس میں گزرا۔ کوارڈینیٹر واٹس اپ گروپ کے ذریعے پورا ہفتہ رہنمائی کرتے رہے۔ اور پھر اگلا ہفتہ بھی آپہنچا۔ دو دو مینٹورز کے ساتھ چھے چھے بچوں کے گروپ بنائے گئے۔ خواتین رہبر بچیوں کے ساتھ اور حضرات بچوں کے ساتھ۔ میں اور میری بہت ینگ ٹیلبٹڈ چارٹرڈ اکاونٹنٹ کو۔ مینٹور اپنے بچوں سے ملنے کے لئے بےچین تھے۔ بالآخر ہم اپنے گروپ تک پہنچ گئے۔ آٹھویں جماعت کی 6 پیاری بچیاں ہماری منظر تھیں اور ہم سے زیادہ جوش میں تھیں۔ چونکہ ہر سال آٹھویں جماعت والوں کو رہبر پروگرام کرایا جاتا ہے اس لئے انہیں پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔

ہم نے اپنے کوارڈینیٹر کی ہدایات کے مطابق بچیوں سے مختلف موضوعات پر باتیں بھی کیں اور کچھ گیمز اور ایکٹیوٹیز بھی کیں۔ دن بہت اچھا گزرا۔ مٹی نرم بھی ہوئی۔ بچے بہت ذہین تھے ان کو دیکھ کر اپنا بچپن بھی یاد آیا۔

یوں اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اگلے ہفتے کی تیاری ملنگ کوارڈینیٹر نے واٹس اپ پر کروائی۔ ہم مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے انتہائی مصروف لوگوں کو اپنی مصروفیات کے باوجود اس ربط سے جوڑا کہ ہم ایک رہبر فیملی کا حصہ بن گئے۔ ایک ہفتے ہم بچیوں کے ساتھ ٹیکسٹائل مل دیکھنے گئے تاکہ بچیوں کو مختلف شعبوں سے متعلق آگاہی حاصل ہو۔ ایک ہفتے ان کے ساتھ ان کے محلے کا دورہ کیا اور ان سے محلے کے مسائل پر بات کی اور ان کے ممکنہ حل تجویز کروائے۔ اسی سلسلے کو آگے لے کر ایک ہفتہ پروجیکٹ پر کام کروایا جس میں ہمارے گروپ نے صفائی کی اہمیت پر بینر بنایا اور ایک ڈسٹبن بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ محلے میں صفائی کا فقدان ہے اور وہ صفائی کی آگاہی پھیلائیں گے۔

یوں مختلف مراحل سے گزر کر ہمارا آخری ہفتہ آپہنچا۔ بچوں اور بچیوں نے چھوٹے چھوٹے پروگرام پیش کیے جس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ہم رہبران نے بھی ایک ڈرامہ پیش کیا جسے بچوں نے بہت انجوائے کیا۔ ہمیں اپنی محبت کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے خوبصورت کارڈز دیے۔ آخری لمحات ہر رشتے اور ہر محبت میں ہونے والی جدائی کی طرح جذباتی ہی تھے لیکن اس میں کہیں دکھ نہیں تھا نا امیدی نہیں تھی بلکہ ایک امید تھی ان بچوں کے اچھے مستقبل کی اور امید تھی اپنے آپ سے کچھ اچھا کرنا جاری رکھنے کی۔ ملنگ کوآرڈینیٹر اور خوبصورت بھکاری ٹولے نے جو کچھ لینے نہیں دینے آیا تھا، آخر میں انور بلوچ ہوٹل میں لنچ کیا۔ رابطے میں رہنے کا عہد بھی اور اس پروگرام کو دوبارہ کر نے کے ارادوں کا اظہار بھی۔

اس وقت ملک بھر میں سٹیزن فاؤنڈیشن کے 1405 اسکول کام کر رہے ہیں۔ پڑھائی کی اہمیت کے ساتھ کیرئیر اور ہنر کی اہمیت اور شخصیت کی تربیت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیزن فاؤنڈیشن نے رہبر پروگرام ڈیزائن کیا۔ رہبر سٹیزن فاؤنڈیشن کا 6 ہفتوں کا والنٹئیر پروگرام ہے جس میں والٹئیرز کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے اور اسکول کا انتخاب کیا جاتا اور وہ گروپ اپنے کوارڈینیٹر کے ساتھ مل کر 6 ہفتے ہر ہفتے کا دن آٹھویں کلاس کے بچوں اور بچیوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ ان کی مختلف معاملات زندگی اور کیرئیر کے متعلق رہنمائی کی جاتی ہے۔ تاکہ وہ میٹرک کلاس کی اہمیت کو سمجھیں۔ تعلیم کے ساتھ ہنر کی اہمیت کو بھی سمجھیں۔

ان میں سے کئی بچے پڑھائی کے ساتھ اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے کے لئے کام بھی کرتے ہیں۔ ان کو خاص رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو رہبر کے ذریعے دی جاتی ہے۔ ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ زندگی میں آیا جمود ٹوٹتا ہے اور ہم ایک اور محبت کرنے کے لائق ہو جاتے ہیں۔ ایک انوکھی محبت جس کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ہمارا سفر یوسف گوٹھ کراچی سے شروع ہوا اب دیکھیں کہاں تک پہنچاتا ہے۔ آپ لوگ بھی اس سلسلے میں اپنے سفر کی تیاری کریں۔ آپ بہت اچھا محسوس کریں گے۔ انشاللہ
۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں