کوئٹہ چرچ حملہ اور کچھ ہی دیر میں ایک ٹاک شو       


اینکر: ناظرین جیسا کہ آپ سب کے علم ہے کہ آج کوئٹہ میں چرچ پر خود کش حملہ کیا گیا، جس میں چند قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ ہمارا ادارہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر تمام لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہے اور ا س کے سوا ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔ بہرحال آج کے واقعے کے تناظر میں، آج کے ٹاک شو کا موضوع ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کیسے کی جائے۔ موضوع پر اظہار خیال کے لیے ہمارے ساتھ صوبہ خواہ مخواہ کے حکومتی نمائندے کے ساتھ، حسب معمول ایک دفاعی تجزیہ نگار اور متاثرہ خاندان کا ایک فرد شامل ہے۔ سب سے پہلے میں اظہار خیال کی دعوت صوبہ خواہ مخواہ کے حکومتی نمائندے کو دیتا ہوں۔

 نمائندہ حکومت خواہ مخواہ: دیکھیے سب سے پہلے تو میں اس دل سوز واقعے پر اپنی جماعت اورحکومت کی جانب سے افسوس کا ظہار کرتا ہوں۔ ہماری جماعت کے چیئرمین کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے چاہئیں او ر ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے، تمام مقید دہشت گردوں کو رہا کردینا چاہیے اور اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا موقع دینا چاہیے، اسی طرح دہشت گردی کی روک تھام ہوسکتی ہے۔ جہاں تک ہماری صوبائی حکومت کا تعلق ہے تو ہم نے حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں، یہ فیصلہ کیاہے کہ صوبائی بجٹ کا بیس فیصد مدارس کے لیے مختص کردیا جائے تاکہ صوبے میں انتظامی اور حکومتی امور کو چلانے کے لیے حسب منشاء فتوے حاصل کیے جاتے رہیں۔ اگر ہم سب یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دہشت گردی کا سد باب ممکن ہے۔

اینکر: ناظرین آپ نے صوبہ خواہ مخواہ کے نمائندے کی رائے سنی، اب اظہار خیال کی دعوت محترم دفاعی تجزیہ نگار کو دیتا ہوں، جی جناب۔

دفاعی تجزیہ نگار: دیکھیں یہ تو ہونا تھا کیونکہ میرے مشورے کو اہمیت نہیں دی گئی، اگر میرے مشورے پر عمل کیا جاتا تو آج یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔

اینکر: جی جی آپ کے مشوروں کی ہی بدولت پاکستان کا اقوام عالم میں انتہائی بلند مقام ہے، ویسے اپنا مشورہ دہرا دیں تاکہ عمل میں آسانی ہو۔

دفاعی تجزیہ نگار: ” بھائی میں ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ ریاست کے ان باغیوں کو عسکری اداروں میں بھرتی کرلو، دہشت گردی ختم ہوجائے گی لیکن میرے مشورے پر کوئی عمل کرنے کو ہی تیار نہیں ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جب تک ایسے افراد کی شمولیت عسکری اداروں میں ہوتی رہی، وطن عزیز دہشت گردی سے محفوظ رہا۔“

اینکر: ارے بھائی آپ کہاں چل دیے؟ آپ تو متاثرہ خاندان کے فرد ہیں، اپنے جذبات کو تو اظہار کرتے جائیں۔

متاثرہ خاندان کا فرد: نہیں جناب میرا رکنا ممکن نہیں کیونکہ چرچ پر حملے سے قبل، فضا میں ایک عجیب سی بو محسوس کی تھی اور ویسی ہی بو، آپ کے اسٹوڈیو میں بھی محسوس ہورہی ہے، اس لیے میں تو چلا کیونکہ جب تک وطن عزیز کی فضا میں یہ بو باقی رہے گی، دہشت گردی کا سد باب ممکن نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں