شام کا بحران



شام میں خانہ جنگی شروع ہوئے چھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لاکھوں لوگ جان کی بازی ہار چکے۔ انسانیت کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ مگر شام کا داخلی بحران ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ شاید اسے ختم ہونے نہیں دیا جاتا۔ ہر دور میں ہر زمانہ میں طاقتور ریاستیں چھوٹی اور مفادات سے جڑی ریاستوں کی جان نہیں چھوڑتیں۔ ایسا ہی معاملہ یہاں ہے امریکہ اور روس ہر گز شام سے اپنا اثر رسوخ کم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اس کے پس پشت ان کے کئی مقاصد ہوں گے۔

شام مغربی ایشیاء کا ایک اسلامی ملک ہے جسے انگلش میں(syria) کہتے ہیں۔ جس کے ہمسایہ ممالک میں ترکی، عراق، لبنان، اردن اور اسرائیل ہیں۔ 1967میں اسرائیل نے شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جو بعد میں کامیابی سے اسرائیل سے منسلک ہو گئے۔ شام کی اندرونی خانہ جنگی عرصہ دراز سے جاری ہے جسے ہر گروپ اپنی انا کی جنگ تصور کرتا ہے۔ ایک عرصہ قبل بشارالاسد جو شام کے مضبوط صدر ہیں کی طرف سے کچھ پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لئے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں شام پچیدہ صورتحال کی طرف رواں ہوا۔ پرامن مظاہرین بپھر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے خطرناک باغیوں نے جنم لے لیا۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اور بشارالاسد کی انا اور غلط پالیسیوں کی بدولت انتہا پسند تنظیموں کو بھی متحرک ہونے کا موقع مل گیا اور انتہا پسند تنظیموں نے باغیوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جنگ شروع کردی۔ ملکی حالات دن بدن بگڑنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام کے کردش بھی متحرک ہوگئے۔ حذب اللہ نے شامی حکومت یعنی بشارالاسد کا ساتھ دیا۔ وقت آیا کہ عراق میں موجود داعش نے شام میں بھی پنجے گاڑنے شروع کردیئے۔ کچھ عرصہ بعد انتہا پسند تنظیم داعش نے شام کے علاقہ النصر پر اپنا قلعہ جما لیا۔ ملک شام مکمل طور افراتفری کی لپیٹ میں لپٹا قتل و غارت کا منظر پیش کرنے لگا۔ باغیوں نے بھی قبضے جمائے، مگر داعش نے سب کو پس پشت ڈال کر اپنا تسلط جمانا شروع کردیا۔

ایسے میں ایران اور حزب اللہ بشارالاسد کے بڑے اتحادی رہے۔ جبکہ اسرائیل، امریکہ، اور ترکی باغیوں کو سپورٹ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ وہی اسلحہ پھر داعش کو بھی فراہم کیا گیا بلکہ امریکہ کی طرف سے داعش کو باقاعدہ تربیت بھی دی گئی۔ مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق داعش کی مدد کے لئے سعودی عرب، کویت اور قطر کی طرف سے بھاری دولت براستہ ترکی داعش تک پہنچائی جاتی رہی۔ ایسے میں مسلمانوں کی فرقہ وارانہ نفرت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ایران سمیت ان کے قریبی اتحادیوں کی طاقت اور خودمختاری کبھی پنپنے کا نام نہ لے، جبکہ ایران اور اس کے ساتھی یہ چاہتے ہیں کہ عالم اسلام میں صرف ان کا بول بالا ہو۔

مسلمانوں کے مسلکوں کی لڑائی سے امریکہ کو خوب فائدہ ہوا۔ اسی بدولت امریکہ نے عربوں کی سرمایہ کاری سے مسلمانوں کے ہی کچھ علاقوں میں اپنے مفادات کی جنگ لڑی۔ داعش سمیت بہت سی انتہا پسند تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ مغربی ایشیائی ممالک کی بربادی اور افراتفری سے ہی اسرائیل کے مفاد بھی منسلک ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ایشیائی بالخصوص مغربی ایشیائی ریاستوں کی موجودہ بحرانی صورتحال میں اسرائیل کا بڑا عمل دخل ہے اور امریکہ سمیت یورپی یونین بھی اسرائیل کو مکمل پنپنے کا محفوظ ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ تاکہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مکمل کر سکے۔

دوسرا بڑا فائدہ جو اٹھایا جا رہا ہے وہ یہ کہ عراق، لیباء، اور شام جیسے مسلم ممالک خام تیل کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ امریکہ اس جنگی بحران کے پس پشت ان ممالک سے تیل نکال رہا ہے۔ تمام تنازعہ علاقوں میں امریکہ اپنے تیل نکالنے کے مشن پر گامزن ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے داعش نے عراق اور شام کے کچھ علاقوں سے خام تیل نکال کر امریکہ کو فروخت کر کے اپنے مالی وسائل نہ صرف پورےکیے بلکہ اپنے آئندہ منصوبوں کے لئے محفوظ بھی کر لئے۔ روس بھی ایک مفاد پرست ملک ہے، اور دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عالمی حیثیت کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ روس نے بھی شام کی بحرانی صورتحال میں عمل دخل کیا روسی فورسز اور حکومت نے بشارالاسد کو سپورٹ کیا اور اسلحہ دیا مالی مدد کی۔ بشارالاسد کا پلڑا بھاری کرنے میں روس اور چائنہ کے اسلحے کا بھی بڑا کردار ہے۔

گزشتہ روز روسی صدر کی جانب سے شام کی خانہ جنگی کے ختم ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ شام مکمل طور پر آزاد ہے داعش ختم ہو چکی ہے۔ امریکہ کا موئقف ذرا مختلف ہے اور امریکہ ابھی شام میں مزیدعمل دخل چاہتا ہے۔ شاید بدلتی صورتحال میں امریکہ مسلم ممالک کو مزید غیر مستحکم کرنے کی پالیسیوں پر گامزن رہنا چاہتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق داعش کے بے شمار  کارندے بھاری اسلحے سمیت شام سے کہیں اور منتقل ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب ان کا اگلا پڑاؤ کہاں ہے؟ ان کے پاس مالی وسائل اور اسلحہ بھی موجود ہے۔

یہاں دو پہلو نکل سکتے ہیں۔ یا تو امریکہ کچھ دیر بعد پھر انہیں واپس شام کی طرف دھکیل دے گا یا پھر کسی اور اسلامی ریاست کی طرف قافلے رواں ہوں گے۔ ایسے میں ایشیائی ممالک کو بلکہ بالخصوص مغربی ایشیائی ممالک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا کیپیٹل نامزد کرنے کے بعد کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ کسی بھی مسلم ریاست کے حالات بہتر ہوں بلکہ وہ مسلم ریاستوں کو مزید افراتفری کی فضا میں جھونکنا چاہتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو بھی چاہیے کہ اپنی اندرونی معاملات جتنی جلد ہو سکے احسن طریقے سے نمٹائے تاکہ کوئی بھی دشمن ہمارے داخلی معاملات کو الجھانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جہاں تک شام و عراق کے جنگی بحران کی بات کی جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ سلسلہ کچھ وقت کے دھیما ہوا ہے امریکہ اسے پھر سلگائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں