پاؤلوکوئیلو: امید کا کیمیاگر


\"aqdas

کیا ہم کبھی خواب دیکھتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی خوابوں کی زبان سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ کیا کبھی ہم نا امیدی کے صحرا سے نکل کر امید کے گھنے درخت کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں؟ کیا اپنی روزمرہ کی مادی زندگی کی دوڑ سے ہم نے کچھ وقت اپنی روحانی زندگی کے لیے نکالا ہے؟ کیا کبھی ہم نے اپنی روح کی پکار سنی ہے؟ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ کائنات ہم سے کیا کہتی ہے اور ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟کیا محبت ایک آفاقی زبان ہے جو رنگ و نسل سے بالاتر ہے؟ کیا ذات کی پہچان میں ہستی کھو جاتی ہے یا وجود ذات تک لیکر جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاؤلو کوئیلو نے اپنی تحاریر میں اٹھائے ہیں۔ پاؤلو کوئیلو کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے اور سمجھے جانے والے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ ان کی کتابوں کا تقریبا بہتر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہر عمر اور ہر نوعیت کے لوگ ان کی تحریروں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

پاؤلو کوئیلو کی شہرہ آفاق کتاب \”الکیمسٹ \” یا \”کیمیا گر\” دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کا چھپن زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اس کی چھ کروڑسے زائد کاپیاں بک چکی ہیں۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں یہ سب سے زیادہ  زبانوں میں ترجمہ کی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ مصنف کا انداز ِتحریر اور موضوع کی انفرادیت اس کتاب کی بے پناہ مقبولیت کا باعث ہیں۔ پاؤلو کوئیلو نے اس کتاب میں سادگی اور دلچسپی کے پہلو کو مد نظر رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ کسی بھی موقع پر قارئین کی توجہ کتاب سے ہٹنے نہ پائے اور وہ کافی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ کسی بھی لکھاری کے لیے سادگی اور دلچسپی کو کتاب کے اختتام تک برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ، \”کسی بھی لکھاری کے لیے سب سے مشکل وہ کتاب ہوتی ہے جو پڑھنے والوں کے لیے سب سے زیادہ آسان ہو۔ \” پاؤلو کوئیلو کی کیمیا گر سے پہلے مجھے کبھی بھی فکشن میں دلچسپی نہیں رہی تھی مگر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے فکشن میں دلچسپی ہونے لگی۔ مجھے احساس ہوا کہ فکشن آپ کو ایک الگ دنیا میں لے جاتا ہے جہاں آپ مختلف لوگوں سے مل سکتے ہیں اور ان کی کہانیاں سن سکتے ہیں۔ فکشن آپ کو زندگی گزارنے کا ہنر سکھا سکتا ہے۔ یہ کتاب ایک اندلسی چرواہے سنتیاگو کے گرد گھومتی ہے جو ایک ایسے خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے جو اسے خواب  میں نظر آتاہے۔ یہ کہانی انسان کی روحانی جستجو کی داستان بھی ہے کہ کس طرح ہماری مادی اور روحانی زندگی ایک دوسرے سے متضاد ہیں اور اس تضاد کو ٖختم کرنے کے چار بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ ان چار بنیادی اصولوں میں  دل کی بات سننا، دنیا کے اشاروں کو سمجھنا، دنیا میں موجود چیزوں کے درمیان ربط کو سمجھنا اور اپنی ذات کے نہاں خانوں میں چھپے روحانی مقصد کو تلاش کرنا شامل ہیں۔ ان بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر چرواہا اپنے خواب کی تعبیر یعنی خزانے تک پہنچ جاتا ہے۔ ان چار اصولوں کو سمجھانے کے لیے پاؤلو کوئیلو نے تاریخ، جغرافیہ، روحانیت، فلسفہ اور نفسیات کی علامات کو استعمال کیا ہے۔ علم تاریخ کی جو علامات انہوں نے استعمال کی ہیں ان میں اہرامِ مصر اور لڑکی  کی موریوں کی طرح  آنکھوں کا ذکر کیا ہے ( موریوں نے آئیبریائی جزیرے پر قبضہ کیا اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے اور ان کی نسل اس علاقے میں پروان چڑھی)۔ اسی طرح اندلس، افریقہ، صحرائے سہارا،ریت کے ٹیلے، الفیوم نخلستان وغیرہ جغرافیائی علامات ہیں۔ سنتیاگو کی زندگی، آفاقی زبان، عناصر کی قوت فلسفی نظریات ہیں۔ علم مذہبیات سے جو علامات اخذ کی گئی ہیں وہ دنیا کی روح اور جنت ہیں اور سنتیاگو کے خود سے سوال و جواب اور امید اور نا امیدی کی کشمکش علم نفسیات سے لیے گئے ہیں۔

\"Paulo-Coelho-01\"کیمیا گری ایک کتب ستارے کی مانند ہے جو اس دنیا کی بھول بھلیوں میں کھو جانے والے انسانوں کی ان کے مقصد کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ بلا مقصد زندگی انسان کی روح کو کوکھلا کر دیتی ہے۔ انسان اور جانور کے درمیان فرق مقصدیت کا ہے۔ یہ مقصد کا ادراک اور پھر اس کی لگن ہی ہے کہ انسان صحراؤں کی خاک چھانتا ہے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتاہے، کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرتا ہے اور مشکل کو عسرت پر ترجیح دیتا ہے۔ مقصد کے ادراک کے لیے انسان کو اپنے من کی گہرائیوں میں ڈوبنا پڑتا ہے اور ان پرتوں کو اتارنا ہوتا ہے جنہوں نے من کا شیشہ میلا کیا ہوتا ہے۔ یہں سے ہمیں سراغِ زندگی اور مقصدِ حیات ملتا ہے۔

ایک دفعہ انسان جب اپنے من کی گہرائیوں میں ڈوب کر جب اس گوہرِ نایاب کو پا لیتا ہے تو پھر اسے چاہیے کہ اس کو کبھی کھونے نہ دے اور اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہو جائے۔ اپنی منزل کی تلاش میں خود کو دنیا و ما فیہا سے یکسر لا تعلق کر لے۔ پاؤلو کوئیلو نے منزل کی تلاش کو یوں بیان کیا ہے

\”کوئی غیر مرئی طاقت ایسی ہوتی ہے جو چاہتی ہے کہ انسان کو اپنی منزل تک پہنچائے۔ یہ طاقت انسان میں جینے کی خواہش کو ابھارنا چاہتی ہے۔ \”

کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ جسمانی طور پر تو زندہ ہوتے ہیں مگر ان کی روح نجانے کب سے مر چکی ہوتی ہے۔ ان الفاظ سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ منزل کی پہچان اور پھر منزل تک پہنچنے کی جستجو ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو روحانی موت مرنے نہیں دیتا۔ یہی وہ بھٹی ہے جو کندن کو سونا بناتی ہے۔ یہی وہ آب حیات ہے جو روحوں کو ابدیت بخشتا ہے۔ پاؤلو کوئیلو لکھتے ہیں کہ

\”منزل انسان کی روح کو بیدار کرتی ہےاور اس میں خواہش کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کائنات کا ایک سب سے بڑا سچ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو کوئی بھی اور کچھ بھی کرے لیکن جب وہ کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو کر رہتا ہے۔ اور یہ اس لیے ہے کہ خواہش اس کائنات کی روح ہے۔ اور یہی خواہش روئے زمین پر موجود ہر انسان کا مقصد حیات بھی ہے۔ اور جب انسان کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کائنات کی ہر شے اس کے حصول کے لیے انسان کی مدد کرتی ہے۔ \”

آخری جملے میں ارادے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اگر ایک دفعہ انسان تہہ دل سے اپنی منزل کی جانب پیش قدمی شروع کر دے اور آلام و مصائب کے باوجود پیچھے نہ ہٹنے کا ارادہ کر لے تو دنیا اس کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ آسانی بن جاتی ہے۔ کائنات میں موجود تمام عناصر اس کی مدد کو آجائیں گے۔ اگر سورج سے تپش مانگو گے تو تپش دے گا، اگر ہوا سے کہو گے کہ اتنا تیز چلے کہ صحرا میں طوفان آجائے تو وہ طوفان برپا کردے گی، اگر صحرا کی خاک سے کہو گے کہ قبیلے کے لوگوں کی آنکھوں میں گھس جائے اور وہ کچھ دیکھ نہ پائیں تو وہ کچھ وقت کے لیے ان کو اندھا کر دے گی، اگر اپنے وجود سے کہو  کہ وہ کائنات کی روح میں تحلیل ہو جائے تو وہ خود کو اس میں ضم کر لے گا۔

جہاں مصنف نے اس کتاب میں مقصد کے ادراک اور لگن کی اہمیت کو واضح کیا ہے وہیں اس نے ان عوامل سے بھی خبردار کیا ہے جو انسان کو منزل سے بھٹکا سکتے ہیں۔ جو انسان کی تلاش کو کھوٹا کر سکتے ہیں اور وہ تا حیات مادی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے۔ یہ مشکلات انسان کو اس کی معراج کو پانے سے روکتے ہیں۔ ناکامی کا خوف ان عوامل میں صف اول ہے۔ انسان کبھی کبھی اپنی تلاش اور جستجو کا آغاز صرف اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ناکامی سے ڈرتا ہے۔ ناکامی کا خوف اس پر اس قوت اور شدت سے مسلط ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل کی جانب قدم بڑھانے سے کتراتا ہے۔

پاؤلو کوئیلو نے ہمیں ناکامی کے خوف سے ان الفاظ میں خبردار کیا ہے \”منزل وہ خواہش ہے جس کے پورا ہونے کی کوئی ہمیشہ دعا کرتا ہے ہر شخص جانتا ہے کہ اس کی منزل کیا ہے۔ جب انسان جوان ہوتا ہے تو سب کچھ واضح اور قابل ِحصول نظر آتاہے۔ انسان جوانی میں خواب دیکھنے سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی ان کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے قیمت دینے سے گھبراتا ہے چاہے یہ قیمت کچھ بھی ہو۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے کچھ پر اسرار قوتیں اسے یقین دلاتی ہیں کہ اس کے لیے اپنی منزل تک پہنچنا نا ممکن ہے\”

بہت سے لوگ بوڑھے ہونے کو جسمانی اور روحانی موت سمجھتے ہیں، وہ اپنے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیتےہیں، خواہشوں کے پھولوں کو پنپنے نہیں دیتے، آرزوں کا خون کردیتے ہیں،جسمانی کمزوری کو روح کی  کمزوری سےتعبیر کرتے ہیں، منزل کو ایک سراب سمجھنے لگتے ہیں،اور موت کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ رویہ یکسر غلط ہے۔ اگر امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اورمنزل کی خواہش کو زندہ رکھا جائے تو یہ نہ صرف روح کو جلا بخشتی ہے بلکہ جسم کو بھی حرارت فراہم کرتی ہے، اور یہ حرارت سفر کو جاریرکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کیمیا گری میں بھی دو ایسے بوڑھے لوگوں کا ذکر ہے جو امید کو ترک کر دیتے ہیں اور مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کہیں کھو جاتے ہیں اور باقی عمر حسرت و یاس کی تصویر بن کر گزار دیتے ہیں۔ ایسی ہی مایوسی کا شکار تھا چرواہے سیتیاگو کا باپ، جو خود دنیا گھومنا چاہتا تھا مگر فکر معاش میں ایسا کھویا کہ ہر خواہش کوئی بھولی بسری یاد بن کر رہ گئی اور جب خیال آیا تو زندگی کے سفر کی شام ہونے کو تھی۔

\”جب اس کا باپ اسے اپنی دعاؤں سے رخصت کر رہا تھا  تو اسے اپنے باپ کی آنکھوں میں ایک دبی ہوئی خواہش نظر آئی۔۔۔ دنیا دیکھنے کی خواہش۔ اس نے اس خواہش کو دبانے میں عمر گزار دی تھی مگر وہ خواہش اب بھی اس کی آنکھوں سے عیاں تھی۔ یہ خواہش دو وقت کی روٹی کی تلاش کے نیچے دبی ہوئی ضرور تھی مگر ابھی تک زندہ تھی\”۔

دوسرا بوڑھا بیکری کا مالک تھا اور اسے بھی سیاحت کا شوق تھا، مگر اس نے یہ شوق صرف روزی روٹی کے چکر میں گنوا دیا۔ اس بوڑھے کا پاؤلو کوئیلو نے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے،

\”جب وہ نوجوان تھا \”بوڑھا بیکری والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو اپنی دکان کے دروازے میں کھڑا تھا،

\”تو اسے بھی سیاحت کا شوق تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے کاروبار کر کے کچھ پیسہ جمع کر لے اور پھر سیاحت کے لیے دنیا کے سفر پر روانہ ہوگا۔ اس کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کام کو وہ انجام دے جس کا وہ خواب دیکھتا ہے\”۔

جب بادشاہ چرواہے کو دو پتھر یوریم اورتھومیم دیتا ہے تو چرواہا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ پتھر اس کے سوالوں کا جواب دیں گے اور ان کی مدد سے وہ اپنی راہ متعین کرے گا  اور یہ فیصلہ کرے گا کہ اسے خزانے کی تلاش میں جانا ہے کہ نہیں۔ مگر پھر اسے بوڑھے نے نصیحت کی کہ وہ نشانیوں کو پہچاننا سیکھے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی ہمت پیدا کرے۔ چنانچہ اس لڑکے نے عہد کیا کہ وہ اپنے فیصلے ٖخود کرے گا۔

پاؤلو کوئیلو لکھتے ہیں کہ، \”فیصلے تک پہنچنا سفر کا پہلا قدم ہے۔ جب بھی کوئی فیصلہ کرتا ہے تو دراصل طوفانی لہروں میں چھلانگ لگاتا ہے جو اسے ایسی جگہوں تک بہا لے جاتی ہیں، جہاں سے اس کا گزر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہوتا\”۔ پاؤلو کوئیلو مزید لکھتے ہیں کہ،\”اپنے دل کی آواز سنو۔ اس کو قدرت   کے تمام تر رازوں تک رسائی حاصل ہے کیونکہ اس کا اپنا وجود کائنات کی روح سے نکلا ہے اور وہیں اسے ایک دن لوٹ کر جانا ہے \”۔

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “پاؤلوکوئیلو: امید کا کیمیاگر

  • 23-03-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    Paulo no doubt touch our soul. Beautifully written

  • 23-03-2016 at 7:48 pm
    Permalink

    الکیمسٹ ناول کا خوبصورت اور جاندار فکری جائزہ اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے.

  • 28-03-2016 at 11:09 am
    Permalink

    اس ناول کی چند اقساط کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ فاضل مصنفہ نے ناول پر بہ حسن و خوبی تبصرہ کیا ہے،جس کے لیے انھیں داد نہ دینا زیادتی ہو گی!

Comments are closed.