ڈکیتی کے اور لٹنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں


تم نے کمال کیا ہے یہ انٹرویو کر کے، ویل ڈن۔ بہت جلدی لے آئے تم یہ کیسے کیا۔ کیسے کا کیا مطلب میں نے دوست کو ساتھ لیا کیمرہ مین پکڑا اور کر کے آ گیا۔ تم خود گئے تھے؟ ظاہر ہے خود ہی جانا تھا۔ تمھیں پتہ ان دنوں وزیرستان جانا کتنا خطرناک ہے۔ ”زہ اس دے نکو تہ بہ سہ وائیو“، اب اسے کیا سمجھائیں اپنے دل میں بولا۔

تمھیں پتہ ہے کہ خوف کی فضا میں کیا کرنا چاہیے۔ گورا باس چپ کدھر ہو رہا تھا اس نے پھر پوچھ لیا۔
بالکل پتہ ہے خوف توڑنا چاہیے۔ پشاور میں خوف بڑھ رہا ہے تو اب ہم رات کو بارہ بجے کے بعد رنگ روڈ پر گاڑی میں ریس لگا کر اپنا خوف کم کرتے ہیں۔
وسی تمھارا دماغ خراب ہے باس نے کہا۔
میں اکیلا تھوڑی ہوتا ہوں میرے ساتھ مجھ سے بھی زیادہ خوفزدہ ایک دوست بھی ہوتا ہے۔
گورے نے کہا تمھیں تربیت کی شدید ضرورت ہے کہ کنفلیکٹ زون میں کیسے کام کرنا ہے۔

اب دل کیا کہ اس گورے کو بتاؤں کے ہمارے ایک مالدار دوست نے پرانی گاڑی بیچ کر مرسڈیز خرید لی ہے۔ اس میں گھومتا پھرتا ہے پشاور میں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا جا رہا۔ اس سائینسدان دوست سے پوچھا کہ اتنا اشتعال کیوں دلا رہے ہو اغوا کاروں کو۔ اس کا جواب دلچسپ تھا کہ خوف ان کا ہتھیار ہے اس سے مت ڈرو تو یہ خود تم سے ڈر جاتے ہیں۔ جب مجھے ایسے رعب سے گھومتا دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ اس ک ضرور مضبوط تعلق ہے تو کبھی ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔ یہ دوست جب تک زندہ رہا اپنے سب حاسدوں کو مست جی کر دکھایا۔ ہمارے ایک قریبی دوست کو کاروبار میں بہت نقصان ہوا وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔ تو اسی مالدار نے اسے مشورہ دیا کہ اپنا سٹیٹس پہلے سے اچھا کر لو۔ یہ لو گھڑی میری باندھو عینک مہنگی لگا گاڑی اچھی رکھ اور ہمت سے بات کر جن کو پیسے دینے نکل جاؤ گے مسئلے، وہ پھر نکل گیا۔

خیر گورا نیوز ایڈیٹر اپنی آئی پر آ گیا تھا تو اپنی کر کے رہا۔ اس نے ہمیں اک سیکیورٹی امور کے ماہر گورے کے پاس تربیت کے لیے پارسل کر دیا۔
تربیت زبانی کلامی تھی کیا تھی کب کا بھول چکا۔ یاد بھی ہو تو بتاؤں گا تھوڑی۔ کچھ تو موٹی موٹی باتیں تھیں کہ کتنے گز دور تک کسی دھماکے کے اثرات جاتے ہیں۔ یہ اثرات جہاں تک بھی جائیں کیمرہ اس سے باہر رکھ کر بھی اچھی کوریج کی جا سکتی۔ کچھ حفاظتی تدابیر تھیں واقعہ ہونے سے پہلے کیا کرنا کچھ کا تعلق کسی حادثے کے بعد سے تھا۔

دلچسپی تب پیدا ہوئی جب اچانک انسٹرکٹر نے کہا کہ اگر کوئی گاڑی کو روک لے تو کیا کرنا ہے۔ کرنا یہ تھا کہ معزز ڈکیت یا عسکریت پسند کے ساتھ مکمل اطمینان بخش تعاون کرو۔ اس کے قیمتی وقت کی قدر کرو کہ اسے مختصر وقت میں کارروائی کر کے بھاگنا ہوتا ہے۔ اسے اطمینان دلانا ضروری ہے کہ بندہ تعاون کر رہا۔ جب تابعدار ہے تو سکون سے کام مکمل کرو۔ یعنی ریلیکس رہو گے تو سیف رہو گے۔

اس سے پوچھا کہ اگر ویسے ہی ہمارا معرکہ حق و باطل لڑنے کا دل ہو پھر۔ انسٹرکٹر نے بتایا کہ اگر ریلیکس رہ سکو تو پھر گاڑی کو ہلکا سا ٹیڑھا کر کے روکو۔ ریورس گئیر میں ڈال کر دروازہ کھولو، معزز ڈاکو جب اس میں فٹ ہو جائے تو ریس دے کر بیک میں نکلنا ہے۔ اپنے پھنٹر ساتھی کی آہ و بکا سن کر وہ سب بھول جائیں گے۔ آدھی کلو میٹر بیک میں ہی بھگانا ہے گاڑی کو۔
اگر معززین نے سڑک ہی بلاک کر رکھی ہو تو پھر۔
انسٹرکٹر نے کہا تم یہ تجربے کرنے سے پرہیز ہی کرنا آرام سے اغوا ہو جانا۔ لیکن اگر سڑک گاڑی کھڑی کر کے روکی گئی ہو۔ ایسے میں اگر ہزار سی سی کی چھوٹی گاڑی بھی ہو تو اسی سو کی سپیڈ سے اگر جا کر اسے انجن کی الٹ طرف یعنی پچھلی سائیڈ ٹکر مارو۔ اگر وہ ڈھائی گنا بڑی گاڑی بھی ہے تو اس ٹکر سے نہ بھی الٹی تو بھی راستہ کھل جائے گا۔
ویسے ہی اگر خود خوش طبعیت کے تحت راستہ روکنے والی گاڑی کو ڈرائیور سائیڈ پر ٹکر ماری تو کیا ہو گا۔
انسٹرکٹر بولا تم کبھی سیریس ہو گے یا نہیں۔ دیکھو اگر تم نے گاڑی کی ڈرائیور سائیڈ کو ٹکر ماری تو کچھ بھی نہیں ہونا۔ نہ تمھیں کچھ خاص ہو گا نہ اس میں بیٹھے ڈرائیور کو کچھ ہونا۔ یاد رکھو نوے فیصد سے زیادہ کیسز میں گینگ لیڈر راستہ روکنے والی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہی بیٹھا ہوتا۔ اسے ٹکر ماری تو وہ اتر کر پھر سب کچھ بھول کر پہلے تمھیں اچھی طرح دھوئے گا۔ بالکل جائز دھلائی کرے گا کہ لڑنے کے ڈکیتی کے، لٹنے کے، بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔

آپ بڑا سیریس ہو کر پڑھ رہے ہو ہیں جی۔ ایسی بات کوئی نہیں ہے اپن بالکل الٹا سوچ ریا۔ ہماری سیاسی پارٹیاں اک دوسری کو چور چور کہہ رہی ہیں۔ کپتان تو ڈاکو ڈاکو ہی بول رہا۔ پہلے ایک فیصلہ آیا وہ تو سیدھا جا کر وجا ہے ڈرائیور سائیڈ کو۔ اب سب حیران حیران پوچھ رہے ہیں کہ ڈرائیور صاحب ٹک کر بہہ کیوں نہیں رہے، اتنا غصہ اتنا احتجاج کیوں کر رہے۔ مجھے کیوں نکالا کاہے گا رہے ہیں۔

دوسرا فیصلہ آیا ہے تو وہ تحریک انصاف گاڑی کی خالی والی سائیڈ کو جا کر وجا ہے۔ ابھی کسی کو پتہ نہیں لگا لیکن کپتان کے شور سے لگ رہا کہ اس کا ریڑھا الٹ گیا ہے ترین صاحب کی نا اہلی سے۔ اب کپتان نواں پاکستان بنائے یا اس پچھلی عمرے ترین صاحب کو گلے لگا کر چپ کرائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 308 posts and counting.See all posts by wisi