بابا رحمت کا انصاف


آپ لوگ حیران ہو رہے ہوں گے کہ بابا رحمت کا انصاف کیسا ہوتا ہے کہ لوگ اس کے فیصلے پر کبھی اعتراض نہیں کرتے۔ بابا رحمت کی دانشمندی کے کئی قصے مشہور ہیں۔

ایک صبح ایسا ہوا کہ دیہاتی جب سویرے اٹھے تو کچی پگڈنڈی پر ہاتھی کے پیروں کے بڑے بڑے نشان دیکھ کر حیران رہ گئے۔ رات وہاں سے سرکس والے اپنا ہاتھی لے کر گزرے تھے۔ دور دراز گاؤں تھا، کسی نے ہاتھی دیکھنا تو کجا، اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔ حیران ہو کر سب بابا رحمت کو لے کر آئے اور ان کو نشان دکھا کر پوچھنے لگے کہ یہ کیا ہے۔ بابا رحمت نے نشان دیکھتے ہی فیصلہ سنا دیا

یہ تو بوجھے بابا رحمت اور نہ بوجھے کوئی
پیرن چکی باندھ کہ کہیں ہرنا کودا ہوئے
یعنی اتنا مشکل فیصلہ تو صرف بابا رحمت ہی حل کر سکتا ہے، کوئی دوسرا اتنی عقل نہیں رکھتا ہے۔ ہو نہ ہو ہرن اپنے پیروں میں چکی کے پاٹ باندھ کر یہاں اچھلتا کودتا رہا ہے۔

ایک اور مشکل معاملہ آیا۔ ہوا یوں کہ ایک گوجر بھینس لئے ویرانے سے گزر رہا تھا کہ دھم سے ایک درخت سے ایک شخص کودا اور لاٹھی لہرا کر بھینس دینے کو کہا۔ گوجر نے بھینس دے دی۔ ڈاکو جانے لگا تو گوجر نے کہا کہ ڈاکو بھیا بھینس تو آپ لے گئے ہیں آپ مجھے یہ لاٹھی ہی دے دیں ورنہ آگے کوئی ڈاکو ملا تو مجھے خالی ہاتھ دیکھ کر غصے میں مار ہی نہ ڈالے۔ ڈاکو معصوم تھا، اس نے لاٹھی دے دی اور بھینس لے کر چلنے لگا۔ اب اس گوجر نے لاٹھی تانی اور کہا بھینس دیتا ہے یا سر توڑ دوں؟ ڈاکو نے بھینس گوجر کو دے دی اور دوڑ کر اس سے پہلے گاؤں پہنچ کر بابا رحمت کے پاس کیس کر دیا کہ گوجر نے اس کے پاس موجود بھینس چھین لی ہے۔

گوجر بابا رحمت کی عدالت میں پیش ہوا۔ بابا رحمت نے پوچھا کہ بھینس کس کی ہے؟ گوجر نے کہا کہ میری۔ بابا نے کہا رسید دکھاؤ کہ کہاں سے خریدی تھی؟ گوجر نے کہا کہ رسید تو نہیں ہے۔ بابا رحمت نے ڈاکو سے پوچھا کہ تمہارے پاس بھینس کی رسید ہے؟ ڈاکو نے کہا بھینس کی تو نہیں ہے مگر اس لاٹھی کی رسید ہے کہ میری ہے۔ بابا رحمت نے رسید دیکھ کر لاٹھی ڈاکو کو دینے کا حکم دیا۔ ڈاکو نے لاٹھی لی اور اسے تان کر کہا، یہ بھینس بھی دو ورنہ سر توڑ دوں گا۔ گوجر نے بھینس دے دی اور ڈاکو بھینس لے کر چلا گیا۔ گوجر نے سیاپا کیا کہ بابا رحمت، وہ میری بھینس لے گیا ہے، کیا ہے تمہارا فیصلہ؟ بابا نے کہا کہ فیصلہ تو صاف ہے، رسید ہو یا نہ ہو، جس کی لاٹھی ہو بھینس اسی کی ہوتی ہے۔ گوجر کو فیصلہ سمجھ آ گیا۔

بابا رحمت کا ایک فیصلہ تو اس سے بھی زیادہ مشہور ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھیں کہ بابا رحمت نے کیسے جانو جرمن اور مراد علی شاہ کے درمیان مقدمے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور کمال دیکھیے کہ کیسے ہر ایک نے مانا، کسی نے مخالفت نہیں کی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 917 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar