مولانا عبدالکلام آزاد: منظرنامے کو سمجھنے کی غلطی


سید عابد علی بخاری

Syed Abid Ali Bukhari

قلعہ معلی کے بلکل سامنے دہلی کی عظیم جامع مسجد کے زینے جہاں ختم ہوتے ہیں وہاں مینا بازار کے ایک نکڑ پر ابو الکلام آزاد کی قبر یاسیت اور تیرگی کے سائے میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ آزاد کے اپنے خاندان سے بھارت کا ایک بڑا نام ’’عامر خان ‘‘ جب ہندستان کی سر زمین پر مسلمانوں کے حوالے سے عدم برداشت اور شدت پسندی کا ذکر کرتا ہوگا تو شاید آزاد کی روح بھی بے قرار ہو جاتی ہو گی۔ جب عامرخان کو یہ کہا جاتا ہو گا کہ تمہیں بھارت اچھا نہیں لگتا تو پاکستان چلے جاؤ تو ضرور آزاد کی روح بھی تڑپ جاتی ہو گی۔

ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔ یہ عمومی طور پر دو بنیادوں پر استوار ہے۔ ایک ہماری تہذیب اور معاشرت میں مر جانے والے فرد کے بارے میں گفتگو کو مناسب نہیں گردانا جاتا، دوسرا علم و تحقیق کا سفر ریاضت مانگتا ہے۔ ہنگامہ ہائے حیات میں یہ بہر طور ایک مشکل منزل ہے۔ میرے نزدیک یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ کسی شخص کا علم و فضل یا احترامِ ذات ہمیں حق گوئی سے باز رکھے۔ بلا تحقیق لفاظی اور لغت کے بکھیڑوں میں الجھی تصنیفات تعریفوں کے قابل ضرور ہوں گی لیکن انسان صرف لکھے گئے لفظوں سے نہیں عمل سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ اگر زندگی کسی مقصد کے تحت گزاری جائے تو چھوٹا سا عمل بھی مقبول ٹھہر سکتا ہے۔ دوسری صورت میں حالات کی ستم ظریفی کہیے کہ بے مقصدیت کا راگ الاپنے والے حیاتِ بے کنار کے صحرا میں پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں۔ آزاد کی زندگی بھی بے مقصدیت کے صحرا میں گھومنے والے اس مسافر بھی ماند ہے جو مقاصدِ حیات کی عظیم منزل سے نا آشنا گردش ایام کی تلخیوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔

مسلمانانِ ہند کے موجودہ حالات کے ذمہ داروں میں سب سے اوپر شائد آزاد ہی کا نام آتا ہے۔ آزاد کا تعلق اس قبیل سے تھا جنہوں نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دینے میں اپنی زندگی کی قیمتی ساعتیں صرف کیں۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت ظاہر کرتے گھبراتے ہیں۔ اپنی ذاتی دنیا میں بے باک، کھرے اور ریاضت کیش آزاد دلیل کی دنیا میں نہ جانے کیوں کمال ہنر مندی سے ڈنڈی مار گئے ہیں۔ انہوں نے سر زمینِ ہند میں مسلمانوں کے قلب و نظر میں غلامی کے تصور کو راسخ کرنے میں ناقابلِ بیاں حد تک اہم کردار ادا کیا۔ بہت سلیقے کے ساتھ کانگریس، ہندوؤں اور انگریزوں کا ساتھ نبھایا۔ اسلوب بیاں کی کاٹ، ہنر مندی، منفرد طرزِ بیاں، جدت طرازی، ندرتِ خیال، خداداد قوتِ اظہار، فصاحت و بلاغت اور رمز و کنایہ کے حسین پیرائے میں اگر قوم کو غلامی کا ہی سبق سکھانا مطلوب ہو تو ایسے علم، تقوی، جرات، بہادری اور فنِ کمال سے پناہ مانگنی چاہیے۔

جو تھا ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

بھارت کے مسلمان آج جس بدحالی کا شکار ہیں ان حالات کے تخلیق سازوں میں آزاد کی فکرِ آزاد کا بھی بڑا دخل ہے۔ وسیع المطالعہ، منطقی اندازِ استدلال، جاذب نظر اسلوب بیاں اور عرق ریزی و جانفشانی، ان سب راستوں کی منزل اگر عقل ہو تو آزاد جیسی شخصیت جنم لیتی ہے۔ یہ راستے اگر دل سے گزرتے ہوں تو علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم محمد علی جناح جیسے افراد پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں علی برادران کی والدہ کی ماند بہادر مائیں جنم لیتی ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں ملت کا درد لہو بن کر دوڑتا تھا۔ وہ وقتی لا ابالی پن کا شکار ہوئے نہ ان کی نگاہ نے منظرنامے کو سمجھنے میں سفاک غلطی کی۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آج بھارت کے مسلمان تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی اقلیت کی ماند زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اقلیت اگر کسی آزادخطے میں مقیم ہوتی تو آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہوتا۔ پاکستان کی بنیادوں کو غلط ثابت کرنے والے کچھ لوگوں کے خیالات کا منتہا اب بھی آزاد جیسوں کی حیات سے راہنمائی کے نسخوں کا متلاشی رہتا ہے۔ عموما دروغ گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد پاکستان کی کل آبادی سے زیادہ ہے اور اگر ہم اکھٹے ہوتے تو ہندوؤں سے تعدادمیں زیادہ ہوتے۔ حقیقت اس سے برعکس ہے۔

گجرات کے فسادات،کشمیر کی دھواں اڑاتی تصویر اور شعلوں کی نذر ہوتی جنتِ نظیر، اتر پردیش میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا اور پورے ہندستان میں مسلمانوں کی بستیوں، گاؤں، محلے اور شہروں میں غربت، فاقے، مفلسی اور جہالت کے مہیب سائے انہیں ابوالکلام آزاد کی ‘دانش مندی’ اور ‘دور اندیشی’ کی روز یاد دلاتی ہیں۔

برطانوی یونیورسٹی کے پروفیسر لیکاسٹر ایک غیر متعصب تاریخ دان ہیں۔ اس نے علی گڑھ میں لیکچر کے دوران کہا تھا کہ’’ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار نچلی ذاتوں سے بھی بری ہے۔ مسلمان تعلیم اور ملازمتوں سے باہر ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں سے ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھارتی کالجوں میں مسلمان طلبہ کے داخلے کی شرح ایک اشاریہ چار فی صد ہے۔ ‘‘ یہ حقائق پاکستان کے بارے میں ہمہ وقت ہرزہ سرائی کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں۔ ان سب لوگوں کے لیے بھی جن کی زبانیں ہر فورم پر پاکستان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتی۔ وہ خود تو پاکستان میں بستے ہیں لیکن ان کے دل ہندوستان کے لیے دھڑکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان معرضِ وجود میں نہ آیا ہوتا تو بھارت کی آبادی میں اٹھارہ کروڑ مسلم غلاموں کا اضافہ ہو چکا ہوتا جن کی حیثیت شودروں سے بھی کمتر ہوتی۔

آزاد جیسی مطالعاتی وسعت، دانش ورانہ گہرائی، عادلانہ دماغ، تہذیبی شعور اور قلندرانہ عزم رکھنے والا شخص کا بھی حالات و واقعات کی عمیق گہرائیوں تک رسائی حاصل نہ کر سکنا کسی المیے سے کم نہیں۔ منظر نامے کے ادراک میں آزاد بھی اپنے نام کی ماند آزاد واقع ہوئے تھے۔ ان کی نگاہ آج کے بھارت کا ادراک نہ کر سکی۔ آپ شائد اسے ژاژخائی تصور کریں لیکن کوئی بھی ژرف نگاہی والا انسان آزاد کی ہند کے مسلمانوں کے بارے میں ژولیدگیِ فکر بہ آسانی شناخت کر لے۔ اس خامہ فرسائی کا مقصد ابوالکلام آزاد جیسے زبان و بیان کا اعجاز دکھانے والے ہنر مند ترجمانوں اور عالی دماغوں کا احاطہ کرنا بھی ہے جو اپنی مغالطہ انگیزی، کذب بیانی اور فکری فسطائیت کے ساتھ اہل پاکستان کی خانہ ویرانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ طائفہ ابلاغ کی بے مہار قدرت اور اقتدار کے سرچشموں پر قبضے کے بل بوتے پر ذہنی انتشار، اباحیت پسندی، تلخ عصبیت اور فکری ژولیدگی کے سبب معصوم لوگوں کو فکری پراگندی کا شکار بنا رہا ہے۔ پراکسی لگانے کا یہ سلسلہ پھر نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ ابوالکلام آزاد کے فکری مغالطے حقیقت کو نگاہ سے اوجھل کر دیتے ہیں۔ پھر کچھ اہل عقل نے اس تزویری تخریب کو اس قدر تشکیک زدہ کر دیا ہے کہ تعجب ہوتا ہے۔

خانہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھئے

ناطقہ سربگریباں ہے، اسے کیا کہیے

ابوکلام کے کلام کے بارے میں کلام اس قدر سہل بھی نہیں۔ اسے ایک آسان سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر اگر آپ کھڑے ہو کر اطراف میں بغیر کسی مطلوبہ ہدف کے دیکھیں۔ نگاہ کوئی غیر معمولی شے دیکھے بنا لوٹ آئے گی۔ دوسری جانب اگر آپ کی نگاہ کسی ہدف کی تلاش میں محیط بیکراں میں گھومے گی تو جلد یا بدیر وہ ہدف تک پہنچ جائے گی۔ مملکتِ پاکستان کی بنیاد رکھنے والوں اور آزاد میں بنیادی فرق یہی تھا۔

ابوالکلام کی شرافت، شائستگی، علمی مقام، وضع داری اور خوداری پر انگشت نمائی مقام دانش نہیں لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان صفات سے آگاہ ہونے کے باوجود قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں کانگریس کا ’’شو بوائے ‘‘ کہا تھا۔ شائد یہی وجہ تھی کہ آزاد کا علمی سفر جس پہ ناز کیا جاسکتا تھا اپنی موت آپ مر گیا۔ دوسری اہم بات کہ اس قدر بلند پایہ علمی شہرت رکھنے والی شخصیت نے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے گیارہ برس تک جدید ہندستان کا جو سیکولر تعلیمی نظام ترتیب دیا اس کے نتائج آج ہندوستان بھگت رہا ہے۔ مملکت خداد پاکستان اللہ کی وہ نعمت ہے جس کی بنیادوں میں جن لوگوں کا یقین شامل تھا ان کے ایقان کی سطح پر عقلیت پسند شائد کبھی نہ پہنچ پائیں۔

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور

چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے

اور شائد ابوالکلام کی منزل کا حاصل وزارتِ تعلیم کے یہی گیارہ سال تھے۔ رہی بات دنیا کی جو آزاد کی تعریفوں کے ٹوکرے ان کے علم اور کلام کے بارے میں برسا رہی ہے تو اس بابت دو باتیں عرض کی جا سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ علم جو عمل نہ بن سکے وہ کس کام کا اور دوسری اہم بات کہ مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا۔ چاہوں تو آزاد کے قہوے کی پیالی سے لے کر علمی دنیا کی دشت پیمائی تک سینکڑوں صفحات پر مشتمل خامہ فرسائی کر سکتا ہوں لیکن میں کسی ایسے مجنوں کا فسانہ نگار بننا کبھی پسند نہیں کر سکتا جو انقلابی سیاست دان، بے مثل خطیب، کمال کا مصنف ہو کر محض چند سالوں میں ’’چانکیہ سیاست ‘ ‘ کے گلی گوچوں میں جا نکلے اور اسلام اور انقلابی تصورات کا بوریا بستر لپیٹ کر سیکولر انڈیا کی بنیادوں میں اپنے لہو کی پنیری سے فصل کاشت کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

ذرا آزاد کے حالات زندگی پرغور فرمائیے۔ خاندان 1857 کی جنگ آزادی میں انگریز کے عتاب سے بچنے کی غرض سے بھاگ کر مکے میں پناہ لیتا ہے۔ والدہ کا تعلق شہر النبیﷺ سے ہے۔ دس سال کی عمر محی الدین احمد کی صورت میں مکہ المکرمہ میں شب و روز بسر ہوں۔ جامعہ الازہر جیسی درس گاہ میں پڑھنے کا موقع ملے (مولانا آزاد نے الازہر میں تعلیم نہیں پائی تھی: مدیر)۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی پر دسترس حاصل کر لیں۔ پندرہ سال کی عمر میں فریدہ السان الصدق کا اجراء کریں۔ پھر الہلال، البلاغ اور عشروں پر پھیلا صحافتی سفر چلتا رہے۔ اسلام اور علم و فراست کے امام کہلوائیں۔ قرآن کی تفسیر لکھیں۔ سیاست کے دشت کی آبلہ پائی کریں۔ جیلیں کاٹیں۔ صعوبتیں، آلام اور مشکلات کا یہ سفر ختم ہو تو دلِ شوریدہ کو بیت اللہ سے تعلق ہونے کے باوجود گاندھی کے چرنوں میں سکون ملے۔ اسے فکری ژولیدگی نہیں تو اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ قائد اعظم نے کہا تھا کہ آپ نہ تو ہندؤوں کی نمائندگی کرتے ہیں نہ ہی مسلمانوں کی اگر آپ میں ذرا سی بھی عزت نفس کی رمق موجو د ہے تو آپ کانگریس کی صدارت سے استعفی دے دیں۔ اور شائد یہی وجہ تھی کہ ابو الاعلی مودودی نے کہا تھا کہ ’’ مولانا نے نماز کے لیے آذان کہی مگر اس کے بعد گہری نیند سو گئے۔‘‘ آخری عمر میں یہ عالم تھا کہ اسلام کی ہمہ گیریت پر یقین رکھنے والایہ تھکا ہارا مسافر اپنا سارا علمی کام چھوڑ کر ایسا تھکان کا شکار ہوا کہ ان کے قلم اور زبان کا معرکہ کلانچیں بھرنا بھول گیا۔ ضمیر مطمئن نہ ہو تو تخلیقی صلاحیتں رفتہ رفتہ دم توڑ جاتی ہیں۔ شائد اسی مقصدیت اور انقلاب سے عاری طرزِ حیات کے بارے میں ابوالکلام آزاد نے خود ہی اپنی ایک نظم میں کہا تھا کہ

آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ

پوچھی زمیں کی تو کہی آسمان کی


Comments

FB Login Required - comments

21 thoughts on “مولانا عبدالکلام آزاد: منظرنامے کو سمجھنے کی غلطی

  • 23-03-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    جھوٹ کا پلندہ اور انگرےزوں کے کتے نہلانے والی مخصوص بدبو دار مسلم لیگی ذھنیت کا ترجمان مضمون۔ جس قافلے کا سالار “شو بوائے” جیسی بازاری بھپتی اپنے سیاسی مخالفین کو نوازتا ھو اس قافلے سے ایسی ھی ھرزہ سرائی کی امید کی جا سکتی ھے- آزاد کی پوری زندگی اس بات پر گواہ ھے کہ انھوں نے اپنے بد ترین مخالفین کو بھی کبھی بازاری اور گری ھوئی زبان میں مخاطب نہیں کیا جبکہ اس مضمون نگار جیسے لوگ جو اسلام کے نام پر ملک حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے قدم قدم ہر اسلام کے زریں اصولوں کو ھی ہامال کرتے چلے آ رھے ھیں ڈھٹائی کے ساتھ

  • 23-03-2016 at 5:56 pm
    Permalink

    حیرت ہے کہ انگریزوں کاساتھ بھی دیا اور پھر قیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔۔۔ پتا نہیں اگر مخالفت کرتے تو کتنی اذیتیں مقدر بنتیں۔۔۔۔

    • 24-03-2016 at 9:45 am
      Permalink

      جنہوں نے مخالفت کی ان کی تاریخ پر طائرانہ نگاہ ڈال لیں۔

      • 26-03-2016 at 11:02 am
        Permalink

        آپ راہنمائی فرمادیجئے۔۔۔

  • 23-03-2016 at 7:46 pm
    Permalink

    ذرا اک نظر ادھر بھی, اگر اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں مسلمانوں کی حالت بالعموم اور بالخصوص غیر مسلموں کی حالتِ زار پر اک طائرانہ نظر دوڑائی جاتی تو شاید ہندوستان کے سیکولرازم اور مولانا آزاد کی اس پرتائید کا یوں غم منانا نہ پڑتا, جناب کو مذھبی عینک اتار کر اس بات کی طرف بھی دھیان دینا چاھئے تھا کہ مولانا کے اس سیکولرازم کا ہندوستانی مسلمانوں کو کتنا فائدہ ہوا ہے,ورنہ اگر ہندوستان میں بھی پاکستان کی طرح ہندو سرکاری مذھب اور سٹیٹ قرار دیا جاتا تو سوچیے مسلمانوں کی شہریت کس درجے کی ہوتی..؟

  • 23-03-2016 at 8:22 pm
    Permalink

    ہم سب میں خوش آمدید مرشد عابد بخاری صاحب ـــــــ یہ سنجیدہ لوگوں کا اچھا پلیٹ فارم ہے اور میں اس کا مستقل قاری ــــــــــ کمنٹس کل دونگا ـــــــــــــ آداب

    • 24-03-2016 at 9:43 am
      Permalink

      رانا احسن رسول صاحب خوش آمدید
      بہت شکریہ
      آپ کے کمنٹس کا انتظار رہے گا

  • 24-03-2016 at 10:06 pm
    Permalink

    یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جس نکتے کو سمجھنے میں ابوالکلام آزاد جیسے صاحب علم سے چوک ہو گئی ہمارے بخاری صاحب فورا اس کی باریکی تک پہنچ گئے آپ کی دیدہ وری کو سلام

  • 25-03-2016 at 2:50 am
    Permalink

    Jo kara raha ha amreeka kra raha ha ;). Wesey bukhari saab writer ko tausbaat sey pak hona chahiey.allah apkey ilam mn barkat dey 😉

  • 25-03-2016 at 10:28 am
    Permalink

    میرے نزدیک یہ امر قابلِ افسوس ہے کہ کسی شخص کا علم و فضل یا احترامِ ذات ہمیں حق گوئی سے باز رکھے،،،، بخاری صاحب، ذرا یہی اصول جناح صاحب پر لاگو کرتے ھوئے ان کی وھسکی اور سور کے سینڈوچ کھاتے ھوئے دو قومی ںظریے اور اسلام کے نام پر ملک حاصل کرنے کی تحریک چلانے کو بھی زیر بحث لائیے، اگر آپ کی یہ کرنے کی ھمت نہ ھو تو کم از کم ایسی بحث کو گوارا تو یقیناّ کر لیں گے آپ؟ دیکھتے ھیں آپ کی اصول پسندی،،، اور ھاں جواب مضمون میں ایک صاحب نے آپ سے کچھ دعووں کی سند اور حوالے کا مطالبہ کیا ھے، ذرا فرصت ملے تو اس طرف بھی دھیان دیجیے گا

  • 25-03-2016 at 12:39 pm
    Permalink

    آپ تمام حضرات کا اپنا اپنا زاوئہ نگاہ ھے۔ مگر آج کی حقیقت تو یہی ھے جو فاضل مصنف نے اپنے مضمون میں واضح کیا ھے۔

  • 25-03-2016 at 4:50 pm
    Permalink

    مولانا آزاد «علیہ الرحمہ» کو اگر قائدِ اعظم «علیہ الرحمہ» نے کانگرس کا شو بوائے کہا تو یہ کوئی پھبتی نہیں، سامنے کی حقیقت تھی ۔ کانگرس والے، مسلمانوں کو اپنے ڈھپ پر لانے کے لیے مولانا مرحوم کو استعمال کرتے رہے۔ یہ الگ بات کہ مسلم جمہور کی عظیم نے انھیں کبھی لفٹ نہیں کرائی۔
    مولانا مرحوم مسلم لیگ دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ ان کے بعض اقدامات سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔ مثلا 46 کے انتخاب کے بعد لاہور میں براجمان ہو کر یونینسٹ کانگرس اکالی مخلوط وزارت قائم کروانا۔ حالانکہ 84 سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ ایوان میں سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اگر مولانا کانگرسی سازش کی قیادت نہ فرماتے تو مسلم لیگ کسی طرح وزارت بنا لیتی،، یوں آگے چل کر پنجاب میں قتل عام سے بچاؤ ممکن تھا۔
    بہر حال، تقسیم کے بعد ہندو غلبے کے بعد بھارتی مسلمانوں کے بچاؤ کے لیے مولانا سے جو بن پڑا، انھوں نے کیا۔ یہ انکی ایک بڑی خدمت تھی۔
    اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے۔

  • 25-03-2016 at 6:38 pm
    Permalink

    ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﺤﺾ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮﺋﯽ
    ‎ ‎ﻟﻮﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﭼﺎﺭ ﻭ ﻧﺎﭼﺎﺭ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮧ
    ‎ ‎ﺩﯾﺘﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺟﯽ ﮐﮭﻞ ﮔﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ، ﯾﮧ ﺗﻮ
    ‎ ‎ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺋﯽ، ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺮﮦ
    ‎ ‎ﺍﺭﺽ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮﮌ ﺗﻮ ﺳﮑﺘﺎ
    ‎ ‎ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺩﮬﺮﻡ ﮐﮯ
    ‎ ‎ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﭧ ﮐﺮ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﺎ
    ‎ ‎ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻓﺮﻏﻮﻥ ﺗﻮ
    ‎ ‎ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ،‏‎ ‎ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﮨﺮ ﮔﺰ
    ‎ ‎ﻧﮩﯿﮟ۔
    ‎ ‎

    ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﻮﺗﺎ، ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﺐ ﮐﮯ
    ﺑﮭﻮﻝ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺷﺎﻃﺮ
    ‎ ‎ﮐﮭﻼﮌﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺟﺎﻝ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ
    ‎ ‎ﭘﮭﻨﺲ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮭﻮﻧﮯ، ﻻﮐﮭﻮﮞ
    ‎ ‎ﻻﺷﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ، ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻋﺼﻤﺘﯿﮟ ﻟﭩﺎﻧﮯ، ﺍﻭﺭ
    ‎ ‎ﺍﺧﻼﻕ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻗﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺴﺘﯽ ﮐﯽ
    ‎ ‎ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺳﻄﺢ ﺗﮏ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ
    ‎ ‎ﺳﻤﺠﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ؟
    ‎ ‎ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ‎ ‎ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﻮﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ
    ‎ ‎ﺍﺳﺎﺱ ﺳﮯ ﺭﻭﮔﺮﺩﺍﻧﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﮮ، ﺗﻮ ﻭﮦ
    ‎ ‎ﻗﻮﻡ ﻣﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﯾﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻭﮦ ﻭﺍﺣﺪ
    ‎ ‎ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ
    ‎ ‎ﻧﻈﺮﺋﮯ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﻥ‎ ‎ﻟﯿﻮﺍ ﮨﮯ۔

  • 25-03-2016 at 10:19 pm
    Permalink

    If jinnah was agaist the Britain then why he was never put in jail? Its a common logic that whoever was against the Britain they had paid the price by suffering jail.

    Why Bangladesh separated from Pakistan? was that also fault of Azad?

    Why jinnah took oath under Britain? Why he assured that he will remain loyal to Britian. Please read the content of oath of Jinnah as first governor general.

  • 26-03-2016 at 12:44 am
    Permalink

    بیت صحیح تجزیہ کیا ھے یاسر کاکاخیل صاحب۔۔۔۔

  • 26-03-2016 at 2:33 am
    Permalink

    وہ فکری تغیر جو چالیس کے پیٹے میں پیدا ہوتا ہے، اس سے حضرت آزاد اکیس برس کی عمر میں گزر گئے تھے۔ مذہب کے وہ موہوم سیاسی پہلو جو بزرگوں پہ زندگی کی چھٹی دہائی میں کھل رہے تھے، وہ حضرت آزاد کی شاخ فکر پر سے زندگی کی تیسری دہائی کی وسط میں تمام تجربات کے ساتھ گزر چکے تھے۔ تجارت نہیں کی۔ سچ کہا اور آخر تک کہا کہ مذہب کی بنیاد پر قوم تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ یہ فکر ہے۔ اس فکر پہ ایک فیصلہ عوام کا تھا، جو ہوگیا۔ ایک فیصلہ وقت کا تھا، جو نصف صدی سے سناتا چلا آرہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے لیکر مذہبی خونریزی تک پھیلی ہوئی ہماری یہ زبوں حالی کیا کہتی ہے.؟ یہی کہ ریاست کے فرسودہ بیانیئے نے سماج کو تقسیم درتقسیم اور مقدس خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ معاملہ اس قدر الجھ گیا کہ آج ستر برس کے بعد بھی قائد اعظم کا ویژن اپنی وضاحت کے لئے اخبار نویسوں کا محتاج ہے۔ سچ مان کیوں نہیں لیتے؟ مان لیجیئے کہ ریاست کو ایک بیانیہ درکار ہے۔ ایک بیانیہ جو جینے کے اسباب مہیا کرے۔ سچ کا گلا زیادہ دیر دبائے رکھنا ممکن بھی نہیں۔ آج نہیں تو کل، ریاست ایک بیانیہ دے گا، مگر تاخیر ہوجائے گی۔ تاخیر کی اذیت سے اگر بچنا چاہتے ہیں تو حضرت آزاد کو گالی دینا بند کیجئے۔ ان کی فکر کو رستہ دیجئے کہ یہی اس ریاست اور سماج کا مقدر ہے۔ اس کا کم سے کم فائدہ بھی یہ ہے کہ متنوع معاشرہ ایک قائد اعظم پہ متفق ہوجائے گا۔

  • 26-03-2016 at 2:36 am
    Permalink

    ود ہی بتلایئے کہ اس سب کچھ کے باوجود اگر قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات پر حضرت آزاد فاتحہ خوانی کیلئے کراچی تشریف لا ئیں، تو کس کی عظمت کا اعتراف کن الفاظ میں کیا جائے؟ ہم تو عظمت کو اسی پہلو سے ناپتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ یہ پس مرگ کسی حریف کے ساتھ اظہار تعزیت کی رسم بھی نہیں ہے۔ یہ پرانے رویئے ہیں جو گھمسان کے رن میں بھی اپنی متانت قائم رکھتے تھے۔ چاہیں تو عبدالماجد دریا آبادی سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ اخبار نویسوں سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ عبدالماجد دریا آبادی حضرت آزاد کے ناقد تھے. وہ اپنی اس حیرانی کا کھلے لفظوں اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی حضرت آزاد نے کبھی کوئی ناخوشگوار حرف تک مسلم لیگ اور اس کی قیادت کیلئے گوارا نہیں کیا۔
    مولانا آزاد کی کتاب Wins Freedom India ہی اٹھا لیجئے۔ پہلی سطر سے آخری سطر تک محدب عدسہ لگا کر حرف حرف چھان لیجئے۔ کوئی ایسا جملہ ڈھونڈ نکالیئے جس میں حضرت آزاد پاکستان اور بانیان پاکستان کیلئے حروف کی کوئی نازیبا بنت کاری فرما رہے ہوں۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ہی سیکٹری اطلا عات ایس ایم اکرم آخر کیوں اپنی کتاب میں یہ گواہی دینے پر مجبور ہیں کہ پاکستان اور اس کے راہنماوں کے معاملے میں حضرت آزاد کا رویہ ایک مدبر سیاست دان جیسا تھا۔ ان کی زبان پہ یقین نہ ہو تو پاکستان کے صدر چوہدری فضل الہی کی ہی سن لیں۔ غیر 21TH_AZAD_1764887fمستحکم سیاسی صورت حال پر چوہدری صاحب کی گفتگو میں مایوسی اور کرب کے آثار دیکھ کر حضرت آزاد نے ہی دلاسہ دیا تھا. فرمایا ”پریشانی کی کوئی بات نہیں، انتخابات کروایئے اور بار بار کروایئے، سیاسی شعور اسی سے بیدار ہوگا۔“کیا یہ کہہ دینا اتنا ہی آسان ہے کہ حضرت آزاد بد خواہ تھے؟ مولانا آزاد کی کسی پیش گوئی کو ان کی خواہش کے طور پہ پیش کرنا کم سے کم درجے میں بھی بدترین اخلاقی جرم ہے۔ صاحب یہ ایک تشویش تھی جس کا حضرت آزاد نے اظہار کیا. یقین نہ آئے تو غلام رسول مہر کی قبر پہ عارف سے مراقبہ کروا لیجیئے۔ غلام رسول مہر بتائیں گے کہ ہندوستان میں جب حضرت آزاد سے ملاقات ہوئی تو کیا فرمایا. حضرت آزاد نے کہا ”پاکستان واپس جائیں تو اپنی گورنمنٹ کو میرا پیغام دیجیئے گا کہ میری زندگی کلکتہ میں بسر ہوئی ہے. میں جانتا ہوں بنگال کے لوگ زبان کے معاملے میں کس قدر حساس ہیں. اردو زبان کو بنگال کی قومی زبان بناتے بناتے کہیں آپ بنگال کو ہی خود سے جدا نہ کر بیٹھیں۔“ یہ کسی بدخواہ کی خواہش نہیں تھی. یہ ایک خیر خواہ کی نشاندہی تھی. نشاندہی کس قدر درست اور بروقت تھی، اس کا اندازہ لگا نے کیلئے علم سیاست کے رموز سے کسی گہرے شغف کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
    اخبار نویس کو مطمئن کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ چلیں انیس سو سینتالیس کے اس پار چلے چلتے ہیں. گھمسان کا رن پڑا ہے. مختلف سیاسی مفکرین مو رچہ زن ہیں. بانیان پاکستان مولانا آزاد کو انگریزی زبان میں ایک گالی دے چکی ہے۔ گالی زبان زدعام بھی ہے۔ انہی دنوں دلی میں ایک جلسے میں حضرت آزاد مدعو ہیں۔ آزاد کی موجود گی میں جناب مظہر علی مظہر مرحوم نے قائد اعظم کو کافر اعظم کہہ دیا. حضرت آزاد نے عصا اٹھایا، دامن جھاڑا اور جلسے سے چل دیئے۔ منتظمین نے حضرت آزاد کو روکنے کی کوشش کی، بپھر کر بولے ”کیسے کسی شخص کو جرات ہوسکتی ہے کہ میں بیٹھا ہوں اور مسٹر جناح کو کافر کہہ دیا جائے۔“ منتظمین ابھی سہمے ہوئے ہی تھے کہ صورت حال کو بھانپتے ہوئے مظہر علی مظہر پیچھے سے چلے آئے. نگاہ پڑتے ہی حضرت آزاد نے کہا ”قائد اعظم کو گالی دے کر آج تم اپنا مقدمہ ہار چکے ہو۔“

  • 26-03-2016 at 2:37 am
    Permalink

    بولکلام نے ایسی کیا پیشگوئی کی تھی جو دوسرے نہ کر سکے”
    پیش گوئی؟ بزرگوار پیش گوئی نہیں، نقطہ نظر کہیے۔ وہ کہہ رہے تھے مذہب کی بنیاد پر آپ قوم تشکیل نہیں دے سکتے. دل بڑا کیجئے اور آیئے اعتراف کیجیے کہ بانیان پاکستان نے ایک سیاسی مسئلے کے حل کے لئے مذہب کا نام استعمال کیا. وہ مذہب جو کبھی ان بانیان کی سوچ سے میل نہیں کھایا. نتیجہ کیا رہا؟ یہی کہ اب تک مسلمانان پاکستان یہ گتھی سلجھانے میں مصروف ہیں کہ قائد اعظم سنی تھے کہ شیعہ۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی ابھی تک ایک قائد اعظم پر اتفاق نہیں کر سکیں. بریلوی مکتب فکر کا قائد اعظم سبزہلالی عمامہ سر پہ رکھے اسلامی نظام کی دہائی دے رہا ہے اور دیوبندی مکتب فکر کا قائد اعظم جمہوریت کی راکھ میں سے میں سے خلافت کے پرزے تلاش کر رہا ہے. اہل حدیث کا قائد اعظم سعودیہ میں اسلام کا پانچواں ستون ڈھونڈ رہا ہے تو مجاہدین کا قائد اعظم بندوق لے کر پہاڑوں پہ مورچہ زن ہوچکا ہے. تاریخ کے دفتر میں محفوظ قائد کی ہر تقریر جھٹلا دی گئی، اور مورخ سے گن پوائنٹ پہ وہ تقریریں قلم بند کروائی جارہی ہیں جو قائد اعظم نے کبھی کی نہیں۔ آپ نے آزاد صاحب کے فکری مرتبے کا پوچھا؟ آج تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتا ہوا پاکستان ابولکلام آزاد ہی کی علمی و فکری حیثیت کی گواہی دے رہا ہے ۔ کھوپڑیوں کے مینار پہ کھڑا نوحہ گر حضرت آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی اعتراف کررہا ہے. آپ ہیں کہ پوچھتے ہیں ابولکلام کوئی لیڈر تھا؟ کوئی جینئیس تھا؟ وقت کا تقاضا کیا ہے؟ تقاضا یہ نہیں کہ تاریخ کے اوراق لپیٹ کر مورخ کے منہ پہ دے ماریں۔ تقاضا یہ ہے کہ اس بکھرے ہوئے پاکستان کو سمیٹنے کے لئے حضرت آزاد کی فکر سے رجوع کیجئے۔ کیوں؟ کیونکہ سیانے کہتے ہیں، غلطی سے نہیں، غلطی پہ اصرار سے قومیں برباد ہوتی ہیں.

  • 30-03-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    آزاد کی کیا کہیئے کہ آپ کی یہ تحریر ہی الفاظ کی جادوگری کے سواء کچھ بتاتی ھو تو یہ ہماری کم علمی میں بیش بہا اضافہ ھوتا۔ بہرکیف، ہندستان کے مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ وہاں رہ جانا نہیں کہ زبوں حالی کا یہ تاج مسلمانانِ برصغیر نے مجرمانہ طور پر علم و عمل سے بے اعتنائی برتنے کے سبب اپنے سر پر دوسو سال سے بھی پہلے سے سجا رکھا ھے جس کی جہلک آپ کو بخوبی طور پر شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک کے محرکات میں مل سکتی ھے اور تا حال یہ یہی روش جاری و ساری ھے۔ آپ کی خوش فہمی اپنی جگہ مگر پاکستان میں مسلم اکثرت مل کر تعلیم و تحقیق میں بالحاظ تناسب بھارت کا عشرِ عشیر بھی نہیں، پاکستان تو کیا پوری مسلم دنیاء میں سالانہ اتنے مقالے نہیں لکھے جاتے جتنے بھارت میں لکھے جاتے ہیں، حتہ کہ مبینہ طور پر پاکستان میں بیشتر مقالے بھی بھارت سے امپورٹ ھوکر آتے ہیں جن کے بل پر ہمارے عوام ہی نہیں کئی نامور شخصیات بھی فخریہ “ڈاکٹر” کو نام کا حصہ بنالیتے ہیں۔ اس علمی دوڑ میں وہاں کے مسلمان خاطر خواہ شامل کیوں نہیں؟ دوسری طرف بھارت کی فلمی دنیاء انہی مسلمانوں کے دم سے آباد ھے، وہاں وہ ہندو اکثریت کا شکار کیوں نہیں ھوتے، بات سیدھی اور صاف ھے کہ معاملہ زور زبردستی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ھے

  • 30-03-2016 at 8:50 pm
    Permalink

    محمد وجاہت صدیقی صاحب ،،، بہت فکر انگیز تبصرہ کیا ھے آپ نے، البتہ ایک نقطہ پر ابہام ھے، اگر ھو سکے تو راھنمائی فرمائیں
    جس کی جہلک آپ کو بخوبی طور پر شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک کے محرکات میں مل سکتی ھے

    سے

    آپ کی کیا مراد ھے۔ وہ تحریک بے اعتنائی پر مبنی تھی؟ یا بے اعتنائی کے خلاف ؟
    شکریہ

  • 26-04-2016 at 6:42 pm
    Permalink

    بخاری صاحب کے مضمون کو پڑھا ۔ تو لگا جیسے انہوں وسعت علمی والے شخص کی علمیت کا اعتراف کرتے ہوئے خود لاعلمی میں ان پر تبصرہ فرما دیا ہے ۔اگر موصوف اس لفاظی کی مڈ بھیڑ سے پہلے شورش کو دئے گئے 1946 کے انٹر ویو پو ایک نظر پڑھ لیتے تو شاید اس مضمون میں اٹاھئے جانے والے لاعلمی پر مبنی اعتراضات اٹھانے کیلئے آپ کا قلم ہی ساتھ نہ دیتا۔ کیوںکہ اس مٰن وہ فرما چکے تھے کہ اگر ملک الگ بن گیا تو ہند وستان کے مسلمانوں کو ساری زندگی ظلم اور جبر میں گزارنی پڑھے گی ۔اور پاکستان میں ہجرت کر جانے والوں کو ہمیشہ مہاجر ہونے کا طعنہ دیا جائے گا ۔اور جیسے جناح اور لیاقت علی اس منظر نامے ہٹیں گے ارو جذبات کی گرد بیٹھے گی تو لسانی شورشیں ،اور مذہبی منافرتیں پھیلیں گی۔اور پاکستان 20 ،25 سال میں ہی دو ٹکرے ہو جائے گا۔اور اس صورت حال میں جب بھارت کے مسلمانوں پر ظلم ہوگا تو پاکستانی مسلمان باوجود جذبہ رحم رکھنے کے ان کی کوئی مدد نہ کر سکیں گے۔ان کے نکتہ نگاہ کا مرکزیہ تھا کہ مسلمان الگ ملک کیلئے جدوجہد کرنے کی بجائے سارے ہندوستان پر کنٹرول کیلئے جدوجہد کریں ۔کیونکہ یہ ساری زمین مسلمانوں کی ہے۔۔ اور اسی انٹر ویو میں کہا تھا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ میری یہ پشین گوئیاں غلط ثابت ہوں اویہی وجہ ہے کہ ر پاکستان بننے کے بعد وہ اس کی مضبوطی کے خواہاں رہے، کہ اب اس کا مضبوط ہونا ہی لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا صلہ ہوگا اور شاید ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے دھاڑس کا باعث ۔ اگر ان کی سوچ پر عمل کیا جاتا توآج پورا ہند وستان مسلمانوں کے پاس ہوتا ۔ لہذا ان کی بصیرت افروز منظر کشی کو جھٹلانے شاید آپ کو رات کو دن کہنا پڑے اور کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنا پڑھیں ۔اس پر یہی کہنے کو دل چاہتا ہے کہ آسمان پر تھوکو گے تو اپنے اوپر ہی گرے گا۔

Comments are closed.