پاؤلو کا تحفہ، ”دی الکیمسٹ“


برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلو کی کتاب’دی الکیمسٹ‘ نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو گرویدہ بنایا ہے۔ عرصہ پہلے میں نے جب پہلی بار اسے پڑھا تو میں بھی اس کے سحر میں پھنس گیا۔ کتاب کی جادؤئی خوبصورتی ہر قاری کا دل موہ لیتی ہے۔ یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ کتاب جس نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا 1987 میں صرف دو ہفتوں کے دوران لکھی گئی۔ 1988 میں پہلی بار شائع ہوئی۔ پاؤلو کے مطابق اس رفتار سے لکھنا اس لیے ممکن ہوا کہ’اس کی کہانی بہت پہلے میری روح میں موجود تھی‘۔

’دی الکیمسٹ‘ اب تک ستر سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اس کا شمار ان شہرہ آفاق کتابوں میں ہوتا ہے جو زیادہ تعداد میں شائع ہوئیں۔ بیسٹ سیلر کتابوں میں جگہ بنائی اور گنیز ورلڈ ریکارڈ 2009 کے مطابق زندہ مصنفین کی کتابوں میں یہ وہ واحد کتاب ہے جو سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کی جا چکی ہے۔ پاؤلو نے یہ کتاب پرتگالی زبان میں لکھی تھی۔

یہ ایک چرواہے سان تیاگو کی کہانی ہے جو اپنے وطن سپین سے احرام مصر کی طرف خزانے کی تلاش میں لمبے سفر پر نکلتا ہے۔ دوران سفر اس کی ملاقات کئی کرداروں سے ہوتی ہے۔ ان میں ایک بوڑھا بادشاہ بھی ہے جو سان تیاگو کا حوصلہ بڑھاتا ہے ”جب کسی چیز کو آپ دل سے چاہتے ہیں تو پوری کائنات اس چیز کے حصول میں آپ کی مدد کرتی ہے“۔ بوڑھے بادشاہ کی یہی بات ناول کا مرکزی خیال ہے اور نوجوان سان تیاگو کے حوصلے کے لیے مہمیز بھی۔ کہانی کا یہی اچھوتا پیغام قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ پڑھنے والا سان تیاگو کا ہم سفر ہو جاتا ہے۔ ناول میں سان تیاگو خزانے تک نہیں پہنچتا۔ مگر ناول کے قارئین اس کہانی میں چھپے دانائی کے انمول خزانے لوٹ لیتے ہیں۔

یہ کہانی خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر پا لینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کے سفر میں آنکھوں میں خوابوں کے ستارے لیے، امیدوں کے چراغ جلائے، جذبے کے علم اٹھائے مسلسل چلتے رہنا ہی ایک مسافر کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ اسی شان سے سفر طے کرنا ہی ہماری منزل ہے۔ جب خواب، امید اور حوصلہ رخت سفر ہوں تو گویا سب خزانے پا لیے۔
کتاب کی زبان سادہ اور آسان ہے۔ ہر صفحے پر ایسے الفاظ بکھرے ہیں جو بکھرے دلوں کو جوڑنے کے لیے اکسیر ہیں۔’خواب دیکھتے رہییے‘ کی استدعا ہر جگہ ملتی ہے۔’جاؤ اور کوشش کرو‘ کی نصیحت جا بجا ہے۔ کتاب کی چند سطروں کا مفہوم ملاحظہ ہو:

’یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ حالات ہمارے بس میں نہیں رہتے اور ہماری زندگی پر قسمت قابض ہو جاتی ہے‘۔
’لوگ یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ زندگی کے کسی بھی حصے میں وہ کام کر سکتے ہیں جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں‘۔
’خدا نے ہر شخص کے چلنے کے لیے ایک الگ راستہ بنا رکھا ہے‘۔

’چرواہے کو خشک سالی اور بھیڑیوں کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ اسی خطرے کی بدولت ہی تو چرواہے کی زندگی میں رنگ ہیں‘۔
’اگر میں بھیڑوں کو کھیت سے گزاروں تو کچھ بھیڑوں کو سانپ ڈس سکتا ہے۔ کچھ بھیڑیں مر سکتی ہیں۔ مگر بھیڑوں اور گڈریوں کی زندگی ایسے ہی تو ہوتی ہے‘۔
’بھیڑیں نئے چرواہے سے مانوس ہو گئی ہوں گی۔ شاید وہ مجھے اب تک بھلا چکی ہوں گی۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ بھیڑوں جیسی سفر کی عادی مخلوق جانتی ہے کہ سفر جاری کیسے رکھا جاتا ہے‘۔
’ایک بار جب آپ صحرا میں آ جاتے ہیں تو واپس نہیں مڑ سکتے۔ جب واپسی ممکن نہ ہو تو پھر ایک ہی آپشن بچتی ہے کہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ڈھونڈا جائے‘۔

’صحرا سے محبت ضرور کریں مگر اعتبار کبھی نہ کریں۔ صحرا تمام لوگوں کا کڑا امتحان لیتا ہے۔ ہر قدم کو چیلنج کرتا ہے۔ جو راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کو ہلاک کر دیتا ہے‘۔
’دل کو یہ بتا دیں کہ اصلی مصیبت اتنی بری نہیں ہوتی جتنا برا اس مصیبت کا خوف ہوتا ہے۔ اس دل کے لیے کوئی مصیبت نہیں جو خوابوں کی تلاش میں رہتا ہے‘۔
’زیادہ تر لوگ دنیا کو خطرناک جگہ سمجھتے ہیں۔ چونکہ وہ ایسا سوچتے ہیں لہذا ان کے لیے دنیا سچ مچ خطرناک جگہ بن جاتی ہے‘۔
’رات کا تاریک ترین حصہ صبح صادق سے کچھ دیر پہلے کا ہوتا ہے‘۔

’ایک ہی چیز ایسی ہے جو خواب کے حصول کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ وہ ہے ناکامی کا خوف‘۔
جب ہم پہلے سے بہتر بننے کی تگ و دو کرتے ہیں ہمارے اردگرد موجود ہر چیز بہتر ہو جاتی ہے‘

’دی الکیمسٹ‘ کو پڑھنا ایسا خوبصورت تجربہ ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ خدمت کیا کم ہے کہ ہمارے جیون کی چند ساعتیں اچھی بیت جائیں، چند جملے آپ کو جینے کا حوصلہ دے دیں اور چند الفاظ آپ کو مسکراہٹ کا پتہ دے دیں۔ اس کتاب کو پڑھنے والے یقینا اعتراف کریں گے کہ’دی الکیمسٹ‘ یہ خدمت بخوبی سر انجام دیتی ہے۔ یہ کتاب پاؤلو کوئیلو کی طرف سے ہمارے لیے ایک دلکش تحفہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

احمد نعیم چشتی

نعیم احمد چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti