لکڑی کا گھوڑا


zahid hassanارسٹھ برس بیت گئے اور اب انہترواں برس جاری ہے۔ ہمارے کار پردازان مملکت’خیالی منصوبوں‘ کے ایک ایسے گھوڑے کی تیاری میں لگے ہیں جس کے شکل و صورت حاصل کرتے ہی اس پر سوار جب اپنے ہاتھ میں لی ہوئی جادو کی چھڑی گھمائے گا تو ایسے ایسے معجزے رونما ہوں گے جن کی نظیر ہمیں رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ اردو کے صاحب اسلوب ادیب شفیق الرحمن نے ’حماقتیں‘ میں ایک جگہ لکھا ہے۔
”جناب آج میں نے چند آدمیوں کو ایک گھوڑا بناتے دیکھا“۔
”لکڑی کا گھوڑا؟“
”جی نہیں۔ اصلی گھوڑا۔ جیتا جاگتا گھوڑا۔ لیکن جب میں نے دیکھا تو وہ تقریباً اسے مکمل کر چکے تھے اور اس کے کھروں میں میخیں ٹھونک رہے تھے۔ “
بات یہ ہے کہ بالحیثیت قوم ہمارے خیالوں کی شاہراہ پر پچھلے اڑسٹھ برس سے یہ گھوڑا سرپٹ دوڑے جا رہا ہے اور اپنے نووارد گھوڑوں کے ایک انبوہ کثیر کو دوڑائے لیے چلا جا رہا ہے۔ پیچھے دوڑنے والے گھوڑوں کے اس انبوہ میں ہر برس اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے….
بڑے گھوڑے کے پیچھے دوڑتے ہوئے یہ کاغذی گھوڑے ہمیں اپنی دانش گاہوں، دفتروں، عالی شان منصوبوں، سیاست دانوں کے وعدوں اور عوامی فریادوں سے گونجتے صفاچٹ ایوانوں میں بھاگتے دوڑتے نظر آتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ غالب کے لفظوں میں ان گھوڑوں میں سے کسی ایک پر بھی، ہم میں سے کسی کا بھی ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“۔
شفیق الرحمن خوش قسمت ٹھہرے کہ ان کے سامنے بننے والے گھوڑے کی تیاری میں بس آخری کام ہونے کو رہ گیا تھا یعنی اس کے کھروں میں میخیں ٹھونکی جا رہی تھیں اور اس کے بعد وہ سواری اور بار برداری گویا ہر کام کے لیے تیار تھا لیکن وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ شفیق الرحمن کو بھی بہت بڑی غلط فہمی ہوگی جبکہ وہ صاحب جنہوں نے ان سے پوچھا تھا۔
”لکڑی کا گھوڑا؟“۔ وہ یقینا مرد دانا اور صاحب بصیرت انسان تھے جنہوں نے خیال ہی خیال میں نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ ہو نہ ہو یہ گھوڑا لکڑی کا ہی ہو گا۔ صاحبو! دراصل یہ وہی گھوڑا ہے جو اردو بازار اور مسلم مسجد کو دو حصوں میں بانٹتے سرکلر روڈ کے چوک میں نمایاں طور پر نصب ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب شفیق الرحمن نے اس کے بارے میں بات کی تھی تب یہ اپنے نصب کرنے والوں کے دماغوں میں ایک ہیولے کے احساس کے ساتھ زندہ تھا جسے پاکستانی عوام آج ایک حقیقت کے طور پر ملاحظہ کر سکتے ہیں اور اب بھی لکڑی کے اس گھوڑے کو، کوئی صاحب نظر ہی ہو گا جو پہچان پائے، جو زبان حال سے پکار پکار کر اپنے دیکھنے والوں سے کہہ رہا ہے:
برسوں لگی رہی ہیں جب مہرو ماہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب، صاحب نظر بنے ہے
اور خود ہم پر ان صاحبان کشف و کرامات رہنماﺅں کی آنکھیں اس قدر لگی رہی ہیں کہ ہم عوام بھی اب چلتے پھرتے لکڑی کے گھوڑوں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور اس عوام کو ان حالوں تک پہنچانے والے اکابرین اپنے زعم میں غرق اس کے اردگرد چکر لگاتے ہوئے کوئی نہ سنائی دینے والا منتر پڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے اس سے لکڑی کے گھوڑے میں جان پڑ جائے گی۔ خود کاٹھ کے یہ گھوڑے گردن جھکائے، کھر اٹھائے اور دم دبائے اس توقع پر سیدھے سبھاﺅ کھڑے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما ہونے ہی والا ہے۔
مقام افسوس ہے کہ آج اڑسٹھ برس کے بعد بھی حکمران طبقہ جو کسی مثبت تبدیلی یا انقلاب کے نتیجے میں حکمرانی میں نہیں آتا بلکہ پشت در پشت یہ عمل دہراتے ہوئے آرہا ہے۔ ملک کی تقدیر بدل دینے کے دعوﺅں اور وعدوں کے ساتھ آتا ہے اور پھر یہ وعدے اور دعوے آنے والی نئی حکمران جماعت کی جھولی میں ڈال جاتا ہے۔
آپ ہی بتائیں کہ کبھی کسی اڑسٹھ سالہ پختہ عمر بزرگ کے بارے میں اس کے والدین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آج سے ہم اپنے بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے اسے وٹامنز سے بھرپور غذا دیں گے تاکہ مستقبل میں اپنی تعلیم، روزگار کے حصول اور ایک بہتر خاندان کی تشکیل کے لیے یہ اپنے فرائض بہ احسن پورے کر سکے۔ یہ ہم ہی ہیں جو ہر پانچ برس کے بعد ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے نئے نئے منصوبے بنا کر اپنے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر بار پرانے منصوبوں اور ان سے متعلق کیے گئے دعوﺅں اور وعدوں کو بھلاتے ہوئے، یہ سارا کچھ کس لیے ہو رہا ہے؟
پچھلے اڑسٹھ برس سے یہ سارا کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ مسائل و معاملات اور ضروریات زندگی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے عوام ابھی بالغ نہیں ہو پائے یا پھر ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان شاطر کھلاڑیوں نے ماﺅف کر کے رکھ دی ہیں جو وطن عزیز کو صحیح معنوں میں ”وطن“ کی شناخت دلانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام نہ صرف یہ کہ دل کے بہت اچھے ہیں بلکہ اپنے دیس، یہاں کے بسنے والوں اور اس دھرتی کے درودیوار سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والے طبقات ہیں جن کا دماغ ہمہ وقت جوڑ توڑ اور حساب کتاب میں مصروف کار رہتا ہے اور ان دونوں باتوں کا فائدہ ہر صورت میں بالادست طبقہ اٹھا رہا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس نے برسوں پہلے کاٹھ کا ایک گھوڑا ، گھڑ کے دوڑ کے لیے میدان میں کھڑا کر دیا اور جس کے کھروں پر لگتی میخوں کو دیکھ کر شفیق الرحمن سمیت ہر گزرنے والا اس گمان میں رہا کہ یہ گھوڑا، اب دوڑا کہ دوڑا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ لکڑی کا گھوڑا ہے اسے صرف دیکھا ہی جا سکتا ہے اور محض دیکھ دیکھ کر آنکھوں کی بھوک مٹائی جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments