ڈورے مون؛ ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا


بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔ عموماً انگریزی کے شاعروں یا ادیبوں کا ایک جملہ 1400 لفظوں کی علمیت پہ بھاری سمجھا جاتا ہے، آج یہی فارمولہ برداشت کیجیے۔ گلبرٹ کیتھ چیسٹرٹون نامی ایک انگریز لکھاری، صحافی، شاعر، ڈرامہ نگار، فلاسفر، تنقید نگار، مقرر اور بہت کچھ ہو گرا ہے۔ اس کا نام پہلے سننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے میں اس لیے کوئی حرج نہیں کہ فقیر اردو کے علاوہ باقی دوسری زبانیں مزے لینے کے لیے نہیں پڑھ سکتا۔ انفارمیشن چاہئے ہو، کوئی جدید ترین ٹیکنالوجی کی بات پڑھنی ہو، پودوں پہ ریسرچ ہو، خبر کا ریویو دیکھنا ہو تو انگریزی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اگر ٹھنڈ پروگرام ہے، بندہ سکون سے لیٹا ہے، کوئی خاص کام بھی نہیں تو یار کس کھاتے میں اردو کے علاوہ کچھ انجوائے کیا جا سکتا ہے؟

ذیشان ہاشم اپنا یار دوست آدمی ہے، اس نے ایک کتاب لکھی تھی ”غربت اور غلامی، خاتمہ کیسے ہو‘‘۔ یہ بڑے بھاری بھرکم موضوع پہ تھی۔ اکنامکس نے فقیر کو زندگی میں کبھی دور سے بھی سلام نہیں کیا۔ جب بھی پڑھی‘ قانونِِ تقلیلِ افادہ مختتم پہ ہی تختہ ہو جاتا تھا۔ ذاتی معاشیات بھی اسی وجہ سے ڈھیلی رہیں۔ تو یہ کتاب سرہانے رہتی تھی کہ کسی فارسی کتاب کی طرح، جب موڈ ہو گا تو بھاری پتھر اٹھایا جائے گا۔ کل اٹھا لی۔ اس میں ذیشان نے گلبرٹ چیسٹرٹون کا ایک قول زریں لکھا ہے؛ ”ہم کسی عجوبے کی تلاش میں ہلکان ہو رہے ہیں اور اس حقیقت سے بے خبر کہ بے شمار عجائبات ہمارے آس پاس موجود ہیں‘‘۔ یہ ایسی زبردست بات تھی کہ ٹھک کرکے دو شعر یاد آ گئے۔ کمال ہے ویسے، ایک دن بختی ماموں نے کہا تھا کہ بیٹا یہ جتنا بھی سب کچھ لکھا ہوا ہوتا ہے یہ پہلے لکھا جا چکا ہے، نئی بات بہت کم ہوتی ہے، انداز اور کہنے والے کی دلیل بس بدل جاتی ہے، تو واقعی ماما یہ ایک دم پرفیکٹ بات تھی یار! اب جو پہلا شعر تھا وہ میر تقی میر نے کہا:

سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

دوسرا شعر مجید امجد کا دیکھ لیجیے:

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

ہم لوگ کسی بھی چیز پہ غور نہیں کرتے۔ غور کرنے کی ہمارے یہاں کوئی تربیت بھی شاید نہیں ہوتی۔ اس کی سادہ ترین مثال یہ لیجیے کہ آپ جس کمرے میں بیٹھے یہ تحریر پڑھ رہے ہیں وہاں بجلی کے بٹنوں کا رنگ کیا ہے؟ سفید ہے یا کریم کلر ہے؟ وہ جو پنکھے کا ریگولیٹر ہے، وہ بالکل گول ہے یا اس پہ بہتر گرپ کے لیے کوئی ڈیزائن بنا ہوا ہے؟ سر اٹھا کے دیکھیے، پنکھا صاف ہے یا اس پہ مٹی جمی ہوئی ہے؟ سامنے دروازے کی چولوں میں دو قبضے ہیں، تین ہیں یا چار ہیں؟ ہے ناں؟ تھوڑا غور کرنا پڑا ہو گا۔ باہر جا کے دیکھیے، کسی باغ میں چلے جائیں تو کیا ہی کہنے یا پھر ایویں گلی محلے کے لوکل گھاس والے گراؤنڈ پہ گزارہ کیجیے۔ صبح جو گھاس کے اوپر سفید کہرا جما ہوتا ہے، اسے کتنی مرتبہ ہاتھ لگایا؟ وہ جو گھاس کے درمیان بہت چھوٹے پیلے، سفید اور کاسنی رنگوں کے پھول اگتے ہیں، کتنی مرتبہ نوٹس کیے؟ اچھا گراؤنڈ کے کناروں پہ جو گھاس ہے، وہ ترشی ہوئی ہے یا بے ترتیب پھیلی ہے؟ یہ جو عجیب و غریب پتوں والے درخت ہیں، ان کے نام کیا ہیں؟ ان کے پتوں کو توڑ کے کبھی سونگھا ہے؟ یا وہ جو کیڑے مکوڑے درخت کے آس پاس چل رہے ہیں ان پہ توجہ کی؟ تو ایک ایک چیز ایسی نظر آئے گی کہ بندہ پوری زندگی گزار دے اور گھر سے بازار تک کا سفر ختم نہ ہو۔

بہت پرانی بات ہے، ہمیں کسی استاد نے کہا تھا شاید کہ زندگی کو اگر محسوس کرنا ہو تو سوچو کہ تم ایک دو تین برس کے بچے ہو۔ اس وقت تو ہم لوگوں نے بڑا مزاق اڑایا کہ یار یہ کیا بات ہوئی، دو تین سال کا بچہ تو مکمل کورا ہوتا ہے، وہ تو ہر چیز میں انگلی توڑتا ہے، اسے تو ہر بات بڑے طریقے سے بتانی پڑتی ہے، پھر بھی نہیں سمجھتا، بار بار پوچھتا ہے، ہم کس طرح ایسے ہو سکتے ہیں؟ لیکن یہ تو کھیل کھیل میں ایک دم فٹ بات انہوں نے بتائی تھی، اب اندازہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ بور بھی اسی وجہ سے ہو جاتے ہیں کہ ہمارے اندر دیکھنے والی حس ہی نہیں رہی۔ ہم سب کچھ کسٹم میڈ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ٹھیک بولیں تو وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔ ٹی وی، کمپیوٹر، سینما، اخبار، کتاب، انٹرنیٹ یہ سب کچھ تو یار پکا پکایا مال ہے ناں‘ جس کی ہمیں عادت ہے، خود سے کیا سوچا ہم نے؟ مطلب کسی بھی مسئلے پہ سوچ کے دیکھ لیجیے، دماغ میں جو رائے بنے گی‘ وہ کسی نہ کسی ٹاک شو، ڈاکومینڑی، فلم یا آرٹیکل کا عکس ہو گی، تو وہ جو بندہ جنیوئن سوچتا ہے، خالص اپنے دماغ سے، وہ کس طرح ہو گا؟ اور اگر نہیں ہو گا تو پھر فائدہ کیا ہوا؟ ویسے وہ جو اپنی، خالص اپنی سوچ ہوتی ہے اسے کمرشل زبان میں ”آؤٹ آف دی باکس آئیڈیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

تو ہمیں کسی نہ کسی طرح اپنے اندر وہ سیکھنے والا مادہ نئے سرے سے پیدا کرنا ہو گا۔ اس کے بھی دو فائدے ہیں۔ ایک تو یہ ہو گا کہ سب سے پہلے اس چکر میں آدمی کی ”میں‘‘ ماری جائے گی۔ سیکھنے والا، مانگنے والا، غور کرنے والا یہ سب لوگ کبھی کسی بات کو ہنڈرڈ پرسنٹ ٹھیک نہیں مان سکتے۔ کیسے مانیں گے؟ مان لیا تو اس کا مطلب وہ چیپٹر ہی بند ہو گیا۔ تو حصول علم کا وہ دروزہ کھلا رکھنے کے لیے لازمی طور پہ اپنے ہی نکالے گئے نتیجوں سے فرار حاصل کرنا ہو گا۔ پھر جب سیکھنے کے دوران کبھی اپنا کوئی نظریہ غلط لگے گا، یا بالکل ہی ٹھس کرکے اس کی ہوا نکلی ہوئی محسوس ہو گی تو اندازہ ہو گا کہ استاد، میں کتنی بڑی غلطی پہ تھا! یہ جو اندازہ ہے، یہ انا کی موت ہے۔ یہ فوتگی (جی ہاں، لفظ غلط ہے لیکن معصوم سا ہے تو چلنے دیجیے) تو یہ فوتگی جو ہے یہ ایک نیا انسان پیدا کرتی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ دماغ اچھا خاصا مصروف ہو جائے گا۔ پھر آپ کو خود ہی یاد نہیں رہے گا کہ فلاں شادی پہ تائے کی پھوپھی کے بیٹے کی بیوی نے کیا طعنہ دیا تھا، یا اس دن فیس بک پہ فلاں دوست نے میرا کمنٹ لائک کیوں نہیں کیا، یا ”آخر اس نے ایسا کیوں کہا؟‘‘ اس قسم کے سوال فارغ دماغ میں اٹھتے ہیں، سوچنے والا دماغ (جیسے ایک تین سال کا بچہ جو یہ سب کچھ نہیں سوچتا) ہمیشہ کسی نہ کسی مشن پہ رہتا ہے اور قسم سے بڑی موج میں ہوتا ہے۔

ویسے ایک بات ہے، تین سال والے بچے کی فیلنگ لینے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ہے کہ ڈورے مون کارٹون دیکھیں۔ ایسا کری ایٹو بندہ ہے کم بخت جو بھی اس کا سٹوری رائٹر ہے واللہ، طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔ اس دن دکھایا کہ ڈورے مان ایک گھڑی لا کے نوبیتا (ڈورے مون کا بیسٹ فرینڈ) کو پکڑاتا ہے کہ یہ ٹیبل کلاک بچوں کو ان کے ٹائم ٹیبل پہ رہنے میں مدد دیتی ہے۔ نوبیتا لفٹاتا ہی نہیں، ڈورے مون اسے سمجھانے کے لیے ایک فرضی ٹائم ٹیبل اس گھڑی میں لکھ کے ڈالتا ہے جسے گھڑی ہضم کر لیتی ہے۔ اب اس ٹیبل کلاک کے دو نوکیلے بازو نکل آتے ہیں اور بندہ جہاں بھی بھاگے وہ اس کے پیچھے پیچھے جا کے زبردستی اسے سوئیاں چبھو کے ٹائم ٹیبل والے سارے کام کرواتی ہے۔ شام تک ڈورے مون بے چارہ ہف جاتا ہے اور گھڑی خود ہی کہیں پھینک دیتا ہے کہ یہ کیا عذاب ہے۔ اب یہ کہانی بنیادی طور پہ وقت کا غلام ہونے پہ ایک معصوم طنز تھی لیکن کیسی فٹ تھی؟ تو ہر چیز میں آباد جہان پہ غور کیجیے، یہ بھی ایک فرار ہے لیکن موج بڑی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 464 posts and counting.See all posts by husnain