سپر ٹین مرحلے کا پیشگی جائزہ


mazhar iqbal chaudary

آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کل ہونے والے میچ کے بعد سپر ٹین مرحلے کا پہلا نصف مکمل ہوگیا ہے۔ دونوں گروپوں میں شامل ہر ٹیم دو دو میچز کھیل چکی ہیں۔ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ ابتدائی دونوں میچز جیت کر بالترتیب گروپ اے اور بی میں ٹاپ پر ہیں جبکہ افغانستان اور بنگلہ دیش ابتدائی دونوں میچز میں شکست کھانے کے بعد اپنے اپنے گروپوں میں سب سے نیچے ہیں۔ ویسٹ انڈیز اور افغانستان کے علاوہ گروپ اے میں شامل انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیمیں ابتدائی دو میچز میں سے ایک ایک میچ جیت چکی ہیں جبکہ ایک ایک میچ میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بلکل ایسا ہی حال گروپ بی کا ہے۔ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے علاوہ گروپ بی میں شامل انڈیا، پاکستان اور آسٹریلیا ایک ایک میچ میں جیت اور ایک ایک میچ میں ہار کا ذائقہ چکھ چکی ہیں۔

گروپ اے میں شامل ٹیموں کے اگلے میچز کا پیشگی جائزہ لیا جائے توگروپ اے میں ویسٹ انڈیز ،جنوبی افریقہ اور انگلینڈسیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے اپنے اگلے دو میچز جنوبی افریقہ اور افغانستان کے خلاف کھیلنے ہیں اور ان میں سے ایک میچ میں بھی کامیابی ویسٹ انڈیزکو سیمی فائنل کھیلنے کے لیے مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔ ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا میچ شاید ہار جائے لیکن افغانستان کو زیر کرنے میں اسے کوئی خاص دقت نہیں ہونی چاہیے۔جنوبی افریقہ نے اپنے اگلے دو میچز ویسٹ انڈیز اورسری لنکا کے خلاف کھیلنے ہیں اور وہ دونوں میچز میں کامیابی حاصل کر کے 6پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔گروپ اے کی تیسری ٹیم انگلینڈ نے اپنے بقیہ دو میچز افغانستان اور سری لنکا کے خلاف کھیلنے ہیں اور وہ بھی یہ دونوں میچز جیت کر 6پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اسی گروپ کی چوتھی ٹیم سری لنکا نے اپنے اگلے دو میچز انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنے ہیں ۔ سری لنکا کے لیے ان دونوں حریفوں میں سے کسی کو ہرانا آسان نہیں ہے اور توقع یہی ہے کہ سری لنکا سیمی فائنل کی دوڑمیں شامل نہیں ہوگا۔ گروپ اے کی پانچویں ٹیم افغانستان نے اپنے اگلے دو میچز انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلنے ہیں۔ افغانستان کی نوآموز ٹیم ابتدائی دو میچز میں تجربہ کار سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کھیل پیش کرنے کے باوجود شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی افغان ٹیم کا جیتنا تو شاید ممکن نہ ہو لیکن وہ اپنے کھیل سے شائقین کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے بڑوں کو ضرور محظوظ کرے گی۔

گروپ بی میں شامل ٹیموں کے بقیہ میچز پر پیشگی نظر ڈالی جائے تو نیوزی لینڈ اور انڈیاسیمی فائنل کے مضبوط امیدوار نظر آتے ہیں۔ گروپ بی میں ٹاپ پر موجود نیوزی لینڈ کو اگلے دو میچز پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنے ہیں۔ پاکستان سے شکست کی صورت میں بھی نیوزی لینڈ بنگلہ دیش کو ہرا کر سیمی فائنل کھیلنے کا مضبوط امیدوار بن سکتا ہے۔ انڈیانے اپنے اگلے دو میچز بنگلہ دیش اور آسٹریلیا سے کھیلنے ہیں ۔ توقع یہی ہے کہ انڈیا، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کو شکست دیتے ہوئے فائنل فور میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پاکستان کے لیے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے مضبوط حریفوں کو شکست دیکر سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوگا۔ پاکستانی شاہینوں نے آج کیویز کا شکار کر بھی لیا تو 25 مارچ کو کینگروز کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے اسے غیر معمولی مشقت کرنا ہوگی۔ سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے آسٹریلیا کو دو ایشیائی حریفوں پاکستان اور انڈیاکو شکست دینا ہو گی۔ آسٹریلیا اعتماد اور حوصلے کی کمی کا شکار پاکستان کو تو شاید زیر کر لے لیکن انڈیا کو ہرانا اس کے لیے بہت مشکل ہو گا۔ بنگالی ٹیم نیوزی لینڈ اور بھارت میں سے کسی ایک کو ہرانے کی پوری کوشش کرے گی لیکن فتح کی دیوی شاید اگلے دو میچز میں بھی اس پر مہربان نہ ہو سکے۔

آج سے شروع ہونے والے سپر ٹین مرحلے کے دوسرے اور آخری نصف حصے میں گروپ میچز کے نتائج توقع کے مطابق آئے تو گروپ اے میں سے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ جبکہ گروپ بی میں سے نیوزی لینڈ اور انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتے ہیں۔حالیہ ٹونٹی ٹونٹی رینکنگ میں انڈیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ بلترتیب پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن پر ہیں۔اگر تجزیے کے مطابق یہی چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں تو شاید یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد ریکارڈ ہو کہ عالمی رینکنگ کی چار ٹاپ ٹیمیں ورلڈ کپ کی چار بہترین ٹیموں کے طور پر سامنے آئی ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments