نئیں امی سانو چوٹ نئی لگی


کوئٹہ میں واقع چرچ پر ہوئے حالیہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے۔۔ ایک بچی بھاگتے ہوئے اپنی ماں کو گلے لگ رہی ہے۔ ماں جو ڈر کے مارے بے حال تھی وہ بے قراری سے اپنی بچی کو گلے لگا رہی ہے اور اس کے انگ انگ کو دیکھ رہی ہے ساتھ روتی جاتی ہے، چیختی جاتی ہے۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ دھماکے کا سن کر کلیجہ منہ کو آیا ہوا تھا، اب کچھ ڈھارس بندھی ہے۔۔۔ بچی اپنی ماں کی اس پریشانی اور اضطرار کو دیکھ کر بے اختیار پنجابی میں کہتی ہے، ’’نئیں امی سانوں چوٹ نئی لگی‘‘۔۔۔ ہمارے بچے اپنے بڑوں کو دلاسے دے رہےہیں۔ کیا ہی بدبخت قوم ہیں کہ جس کے بچوں سے ہم نے ان کے بچپن کی معصومیت اور فطری بھولپنا چھین لیا ہے۔

دو دن ہوئے کہ 16 گزری، ہمارے ناخداوں نے تین برس پہلے 141 بچوں کی قربانی کا جشن منایا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ان بچوں کے خداؤں کو خوش کرنے کے لئے بلی چڑھنے کے مبارک عمل سے دیس پر آئی بہت سی بلائیں ٹل گئی ہیں۔ شہید بچوں کے لہو نے دیس کی حفاظت کی ہے۔ ان کے لہو نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دئیے ہیں۔

ہم نے بار بار پوچھا کہ کیا ان کی ماوں نے اپنے بچوں کو جنگ پر شہید ہونے بھیجا تھا؟ کیا بچے اسکول میں شہادت کے لئے جاتے ہیں؟ کیا ہمارے اسکول محاذ جنگ ہیں؟

 

اس سوال کا جواب تو کیا ملنا تھا، سچ یہ ہے کہ اے پی ایس حملے کا بعد ہماری ماؤں نے جس دل گردے سے اپنے بچوں کو بھیجا ہے اس پر انہیں سلام کرنا بنتا ہے۔ اے پی ایس سانحے کے بعد ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اسکولوں کی دیواریں بلند ہونا شروع ہوگئیں، بندوقوں کے سائے اسکولوں پر چھا گئے اور اکثر مہنگے اسکول قلعوں کی شکل اختیار کر گئے۔ اس سب کے بیچ بار بار اسکولوں پر حملے کی وارننگ بھی جاری ہوتی رہی جس سے بار بار خوف و ہراس پھیلتا رہا۔

ایک دن میری بہن میرے پاس آئی، شدید مضطرب تھی۔ بتانے لگی کہ ایسے وارننگ جاری ہوئی ہے۔ شانزے اور مناہل (میری بھانجیاں) کا سکول ایک چھوٹے سے گھر میں ہے، انہوں نے احتیاطی تدبیر یہ کی ہے کہ دروازہ اب اندر سے بند کر لیتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے اسکولوں کو تو اتنی سیکیورٹی مل جاتی ہے، اگر میری بچیوں کے چار کمرے والے سکول پر حملہ ہوگیا تو میں کیا کروں گی؟ کیا میں اپنے بچے سکول بھیجوں۔۔۔؟ اسے دلاسے دے کر راضی کیا کہ بچے سکول جاتے رہیں۔ ہم دونوں جانتے ہیں کہ میرے دلاسے جھوٹے تھے۔

اس دن کے بعد سمجھ آئی کہ پاکستانی مائیں، خصوصاً غریب مائیں اے پی ایس سانحے کے بعد کس دل گردے سے اپنے پیاروں کو سکول بھیجتی تھیں اور کیسے کیسے اندیشے ان کے دل کو ڈرائے رکھتے تھے۔ پاکستان کی اگلی نسل پر ان ماؤں کی بہادری کا احسان رہے گا۔

ہماری قومی قیادت کو بہرحال ان کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اطلاع دے دی جائے کہ پچھلے ڈیڑھ عشرے میں ہوئے مسلسل قتل و غارت اور جگہ جگہ دھماکوں نے ہمارے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے۔ اب وہ ہماری ماوں کو دلاسے دیتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ دھماکے سے ان کو چوٹ نہیں لگی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں