میں اور کتے


شیراز چوہان سوز۔۔۔

Sheraz-Chauhan

ہر انسان میں کوئی نہ کوئی , کم ازکم ایک آدھ کمزوری ضرور ہوتی ہے جو باقی خوبیوں اور توانائیوں کے باوجود انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے، یاد رہے کہ مرد کے علاوہ بھی انسان ہیں دنیا میں سو یہیں رہیے ، دماغ کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں، ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ ہر انسان کی زندگی میں کبھی کبھار ایسا لازمی ہوتا ہے کہ وہ عام حالات سے بے نیاز ہو جاتا ہے اس کمزوری کو نہ چھپا سکتا ہے نہ دکھا سکتا ہے کمزوری ویسے تو چھپائے نہیں چھپتی مگر دکھانے کی کوشش نہ کی جائے تو آنکھ مچولی کھیلی جا سکتی ہے۔

میری واحد کمزوری کتوں کا خوف ہے۔ ان کا سامنا ہوتے ہی میرے حواس چھو منتر ہو جاتے ہیں ، کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے ، گال پھڑپھڑانے لگتے ہیں ، ماتھے کا ماس کھنچ جاتا ہے، ٹانگیں اپنی بنیادی ذمہ داری کو چھوڑ دوسرے کام پر لگ جاتی ہیں یعنی کانپنا شروع کر دیتی ہیں۔ انسانوں سے جھگڑا ہو تو بچا جا سکتا ہے کیونکہ میرا ماننا ہے کہ جب تک ٹانگیں سلامت ہوں انسان آپس میں نہیں جھگڑ سکتے ۔

خیر یہ پچھلے دنوں کی بات ہے جب میرے ساتھ ہاتھ کہوں یا پیر، جو بھی ہوا ہو گیا، رات کے ایک بجے کا وقت تھا کہ مجھے سگریٹ کی طلب ہوئی۔ اکثر تو جیب میں رات بھر کا کوٹہ موجود ہوتا ہے۔ ہنگامی حالات کیلئے گھر میں بھی خفیہ طور پر رکھتا ہوں کہ جیب میں ختم بھی ہو جائے تو بوقت ضرورت کام آویں، مگر اس دن اتفاق سے جیب میں سگریٹ نہ ملی۔ خفیہ جگہوں پر تلاش کے بعد بھی مایوسی متھے لگی، سوچا باہر سے لے آتا ہوں ، اور پھر پیدل چلنے کے ارادے نے کام خراب کروا دیا۔

نزدیکی چوک تک جا کر سگریٹ لیے۔ ایک سگریٹ سلگا کر آہستہ آہستہ گھر کی جانب چل پڑا۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک حضرت کتا صاحب سامنے آ گئے اور بھیروی ٹھمری ایک ساتھ شروع کر دیے۔ موصوف کا الاپ سنتے ہی تین اور کتے خدا جانے کہاں سے نمودار ہوگئے۔ ایک تو پہلے انتہائی کتا تھا پھر کتے پہ کتے آ گئے اور تھاپ کے ساتھ ایسے ایسے سر لگانے لگے کہ شام چوراسی و میر عالم گھرانہ ان کی شناخت نہ کر سکتے کہ راگ کون سا ہے الاپ کون سا ہے۔ میں پریشان و بے حال سوچنے لگا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ چونکہ کتے اپنی کتی حرکتیں دکھانے سے باز نہ آ رہے تھے تو ایک ترکیب ذہن میں آئی تو دوزانو ہو کر بیٹھ گیا اور نہایت ادب کے ساتھ ایک کو عرض کی کہ حضور اجازت ہو تو مجھے سگریٹ مکمل کرنے دیجیے پھر اپنی کاروائی شروع کر لیجیے گا کہ جس مصیبت کو باہر آیا تھا وہ تو ختم ہو کیونکہ اس وقت سگریٹ ہی میری توجہ لحظہ بھر کو موڑ سکتی تھی۔

مگر وائے وہ ظالم و جابر کتے نہ مانے ایک بڑے کتے کے عقب میں ہی اس سے بڑے ایک موصوف کھڑے تھے انتہائ مہذّب کتا معلوم ہوتے تھے یوں کھڑے تھے جیسے الیکشن میں کھڑے ہوں ۔ وہ شاید پکا پیتے ہوں گے قریب آئے جونہی وہ قریب آئے مجھے یوں لگا کہ اب سوز میاں کلمہ پڑھ لو ! جناب نے اپنی ایک تگڑی سی گرج سنائی جسم سے خوف کی لہر جاری ہوئی میرا منہ آسمان کی جانب ہوگیا اور موت کے فرشتے کو دیکھنے کہ لگا کس جانب سے آ رہے ہیں! اسی اثناء میں جناب مہذب نے میری سگریٹ سونگھی اور پلٹ کر چل دیے۔ سونگھنے کا انداز پولیس والوں جیسا تھا ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ حضور بس کچا سگریٹ پی لیتا ہوں، شراب نوشی میں سے صرف نوشی پسند ہے مگر وہ نہ مانے اور بھونکتے رہے۔ میری کیفیت وہ ہوئی جو کتوں کو دیکھ کر ہوتی تھی، سوچنے لگا کہ پیر پطرس نے ان کی بھونک کو شاعری سے تشبیہ دی تو کیوں نہ ان سے مشاعرہ کر لیتا ہوں۔ خوف برقرار تھا مگر اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ کسی کا بھی شعر اپنے نام سے جڑ دوں گا انہیں کون سا پتا چلے گا ۔ عرض گوش گزار کر دی کہ آئیے صاحبان مشاعرہ کرتے ہیں۔ عرض قبول ہوگئی میں بولا کہ پھر اپنی غزلیات کا مجموعہ کھول لو میرے پاس بھی شعری مواد بہت ہے، تم مصرع اچھالو میں گرہ لگاتا ہوں۔ اس پر زور مشاعرے کیلئے جونہی ایک کتے نے مصرع اچھالا میری کیفیت مظلوم کی سی ہو گئی میں شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ کیا کروں۔ دوسرے کتے نے فوری کہا کہ شعر مکمل کریں۔ اب میں ان کو کیا بتاتا کہ بے وزن مصرع کو گرہ کون لگائے پر وہ کمینے کتے جانے کہاں سے ایسا کلام کھوج لائے کہ رکتے نہیں تھے میں نے ایک حیلہ کیا اور مشاعرہ ختم کرنے کی عرضی دیتے ہی کہا کہ آئیے علمی مباحثہ کرتے ہیں ۔ سب نے احتجاج کیا کہ نہیں ہم شعر کہیں گے، ایک جو کہ ان سب کا لیڈر کتا معلوم ہوتا تھا مان گیا بشرطِ کہ انتخاب موضوع ہمارا ہوگا ۔ سب ہی پاس پاس ہو کر لیٹ گئے کہ بحث شروع ہونے کو ہے، میں نے بھی حامی بھر لی جب موضوع کا سنا وہ موضوع ایسا تھا جسے سنتے ہی جانے خدا کہاں سے مجھ میں ہمت آئی اور میں نے چلاتے ہوئے دوڑ لگا دی، بس جیسے تیسے ہمت بی بی آئ اور میں زندگی میں پہلی مرتبہ کسی دوڑ میں اول آیا ۔

مشتاق احمد یوسفی صاحب کا ماننا ہے کہ “اللہ پاک نے کتے نامی مخلوق صرف اس لئے پیدا کی تا کہ پطرس بخاری اس پر مضمون لکھ سکیں اور وہ لکھا جا چکا ہے لہذا کتوں کا دنیا میں کوئ کام نہیں”۔ گستاخی معاف میرا ماننا ہے کتوں میں بھی کچھ لوگ پڑھ لکھ گئے ہیں ، سنا ہے ان میں سے کسی ایک نے آپ کا مضمون انہیں پڑھ کر سنا دیا ہے، یقین کیجیے اس نو آموز قلمکار نے اس غزل سرائی کو اچھا فعل گردانا ہے مزید یہ کہ کتوں کے لائسنس بنوانے کے چکر میں ہے کہ ہم اب باقاعدہ اور اعلانیہ طور پر لائسنس بنوا کر بھونکا کریں گے گو کہ اگر کوئ چھڑی سے یا پتھر سے ہم پر حملہ آور ہو تو ہم اپنی طاقت کا اظہار کر سکیں ۔ سننے میں تو اس حد تک آیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر بھی کوئی احتجاج وغیرہ ریکارڈ کروایا جا چکا ہے۔ ہالی ووڈ میں کتوں پر جب سے ایک فلم بنی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں کتے انسانوں کے حقوق پر قابض نہ ہو جائیں ، سو میری گزارش ہے کہ اتحاد رکھیں یہ نہ ہو کہ کتے اپنی کتی حرکتوں پر اتر آئیں اور آپ کی حالت اپنے جیسی کر دیں ۔

سیانے کہتے ہیں کہ جب کوئی کتا آپ کے تعاقب میں دوڑ لگا دے تو رک جاو بھاگو مت! یعنی سیانے چاہتے ہیں آپ اپنے ہی پیروں سے اپنی آخری امید بھی گنوا دیں ۔

شیراز چوھان سوز ۔


Comments

FB Login Required - comments