گجرات انتخابات: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو برتری

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


نریندر مودی اور امت شاہ

Reuters

انڈیا کی ریاست گجرات کے اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں پہلے تو حکمراں جماعت بی جے پی اور کانگریس میں کانٹے کا مقابلہ نظر آیا لیکن اب بی جے پی کو برتری حاصل ہے۔

دوسری جانب ہماچل پردیش میں ہونے والے انتخابات میں بھی بی جے پی آگے ہے۔ ابھی تک حاصل ہونے والے رجحانات میں 68 سیٹوں میں اسے 40 پر سبقت حاصل ہے۔

ابتدائی ایک گھنٹے میں ووٹوں کی گنتی کے بعد گجرات کی 182 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 83 سیٹوں پر جبکہ کانگریس کو 85 سیٹوں پر سبقت حاصل تھی۔

اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 92 سیٹیں چاہیے اور ابھی سے تھوڑی دیر قبل بی جے پی کو 100 سے زیادہ سیٹوں پر سبقت نظر آ رہی تھی۔

بہر حال نتائج ایگزٹ پول کی ترجمانی بھی نہیں کر رہے ہیں کیونکہ تقریبا تمام تر ایگزٹ پول نے بی جے پی کے لیے زبردست کامیابی کی پیش گوئی کی تھی۔

ابھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گجرات کا اسمبلی انتخاب بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اگر اس میں اسے شکست ہوتی ہے تو سنہ 2019 کے عام انتخابات میں اسے مشکل پیش آ سکتی ہے۔

راہل گاندھی اور نریندر مودی

Reuters

انتخابات جیتنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور ایک دن میں کئی کئی ریلیاں کیں۔

گجرات میں گذشتہ 22 سال سے بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ وزیر اعظم نریندر اور پارٹی کے صدر امت شاہ کا تعلق اسی ریاست سے ہے اور انھوں نے گجرات کے ترقی کے ماڈل کے نام پر مرکز میں بھی اقتدار حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

٭ ’یا اللہ گجرات جتا دے‘

٭ گجرات کے مسلمانوں میں اعتماد کی واپسی

٭ الیکشن میں نفرت انگیز ’فیک نیوز‘ کا اہم رول

تاہم حالیہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف بہت سے عوامل کارفرما تھے۔ ریاست میں ذات پات کی تقسیم، پٹیل برادری میں ریزرویشن نہ ملنے کے سبب ناراضگی اور دلت برادری کے چند نوجوان رہنما کی آمد بی جے پی کے لیے درد سر کہی جا رہی تھی۔

بی جے پی

Getty Images

بعض نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ انتخابات سے قبل ماحول کو اپنی طرف لانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ انھوں نے گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان گجرات میں جاری اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں کانگریس پارٹی اس کے ساتھ ہے۔

انتخابات سے قبل وہاں کے ماحول کو پولرائز کرنے کے لیے جعلی خبریں بھی گشت کرتی رہی جبکہ سوشل میڈیا پر طرح طرح کی چیزیں دیکھنے میں آئیں۔

گجرات سنہ 2002 کے فسادات کے بعد ہندو مسلم کشیدگی کے لیے مسلسل خبروں میں رہا ہے اور وہاں ایک طرح سے مذہبی خطوط پر تقسیم واضح طور پر نظر آئی ہے جس کا خاطر خواہ فائدہ حمکراں جماعت کو ہوتا رہا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4194 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp