افغانستان کی مونا لزا اب کس حال میں ہیں؟


شہرہ آفاق جریدے ’نیشنل جیوگرافک‘ کے سرورق سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والی شربتی آنکھوں والی افغانستان کی مونا لیزا ۔۔’شربت گلا‘ کو آخر کار گھر مل ہی گیا۔

شربت گلا کو گھر ملنے کی تفصیل سے پہلے تھوڑا ماضی کی طرف پلٹتے ہیں۔ سن 1985 میں رسالے کے سرورق پر ایک 12 سال کی افغان پناہ گزین لڑکی کی تصویر شائع ہوئی۔ لڑکی کی غیر معمولی ’شربتی آنکھوں‘ نے اسے دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔

افغانستان پر سویت حملے کے دوران چھ سال کی عمر میں باپ سے محروم ہونے والی ’افغان لڑکی‘ اپنی دادی کے ساتھ خوراک اور پناہ کی تلاش میں پاکستان آئی جہاں ناصرباغ کے افغان مہاجر کیمپ میں فوٹوگرافر اسٹیو میک کری کی نظر اس پر پڑی اور یوں ’افغان لڑکی‘ دنیا بھر میں ’افغان مونالیزا‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔

اب بات کرتے ہیں شربت گلا کو گھرملنے کی۔امریکی نشریاتی ادارے نے’نیشنل جیوگرافک‘ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شربت گلا کو افغان حکومت کی جانب سے کابل میں 3000 گز کا گھر دیا گیا ہے، جس کی تزئین و آرائش بھی شربت گلا کی مرضی اور پسند کے مطابق کی گئی ہے۔

افغانستان کی وزارت اطلاعات کے ترجمان نجیب ننگیال کا کہنا ہے کہ یہ گھر افغان حکومت کا 45 سالہ شربت گلا کو تحفہ ہے۔ انہیں 700 ڈالر ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا جو ان کے علاج معالجے اور روز مرہ اخراجات میں کام آئے گا۔

افغان حکام نے ایک تقریب میں گھر کی چابیاں شربت گلا کے حوالے کیں۔

شربت گلا ’نیشنل جیوگرافک‘ سے شہرت ملنے کے بعد پھر گمنامی کی دھول میں غائب ہوگئیں۔ فوٹوگرافر میک کری نے شربت گلا کو تلاش کرنے کی وقفے وقفے سے کوششیں کیں۔

نیشنل جیوگرافک کی ایک ٹیم نے سن دو ہزار کے عشرے میں شربت گلا کو افغانستان کے کسی گاؤں میں ڈھونڈ نکالا۔ لیکن پھر وہ غائب ہوگئیں۔

طویل عرصے بعد 2016 میں شربت گلا کا نام ایک بار پھر میڈیا اور خبروں کی زینت بنا اور وجہ تھی شربت گلا کی گرفتاری۔ شربت گلا کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا تھا۔

جعلی شناختی کارڈ اور پاکستان میں غیرقانونی قیام پر شربت گلا کو 14 سال قید اور 5000 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ چار بچوں کو پال پوس کربڑا کرنے والی شربت گلا اس وقت ہیپا ٹائٹس سی کی مریض تھیں۔ کچھ سال قبل شربت گلا کے شوہر کا بھی ہیپاٹائٹس سی کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا۔

دو ہفتے قید میں گزارنے کے بعد شربت گلا کو رہا کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ افغانستان واپس لوٹ گئیں۔

واپسی کے موقع پر شربت گلا نے فرانسیسی خبر ایجنسی (اے ایف پی) سے گفتگو میں اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”افغانستان میں تو میں صرف پیدا ہوئی، پاکستان میرا وطن تھا۔ میں نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا ملک سمجھا ہے۔ لیکن، اب واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘’

شربت گلا کی واپسی پر افغان صدر اشرف غنی نے ان کو خوش آمدید کہا تھا اور شربت گلا کے بچوں کو حکومت کی طرف سے تعلیم اور صحت کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں