قطار میں کھڑا تنہا آدمی


naseer nasirقطار بنانے کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ موہنجو داڑو کے زمانے میں لوگ بادشاہ کی سالگرہ پر اناج حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے تھے۔ تاریخ میں قطار کے تصور کا جو اولین حوالہ ملتا ہے وہ حضرت نوح کی کشتی سے متعلق ہے۔ اس کا تذکرہ بائبل میں کچھ یوں ہوا ہے؛ ” دو دو کے جوڑوں میں ہر چرند پرند اور زمین پہ رینگنے والی ہر شے قطار اندر قطار نوح کی کشتی میں داخل ہوتے رہے جیسا کہ خدا کا حکم ہوا تھا۔” قطار کا تصور جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ بطخوں کا قطار میں تیرنا اور چیونٹیوں کا قطار میں چلنا سامنے کی مثالیں ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق چیونٹیوں کی موجودہ قسم تقریباً 130 ملین سال پہلے کھریا جُگ میں موجود تھی۔ کھریا جگ یا عہدِ چاکی وہ میان حیاتیہ دور تھا جب دیو پیکر اور رینگنے والے جانور معدوم ہوئے اور میمل جانوروں کی پیدائش کا آغاز ہوا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قطار کا تصور ماقبل تاریخ یعنی ڈائنو سارز کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ کیو کا لفظ اطالوی زبان سے فرانسیسی اور پھر انگریزی میں آیا اور ابتداً اس کا مطلب دُم تھا۔ اسکاٹش تاریخ دان تھامس کارلائل نے سب سے پہلے 1837 میں قطار کے معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔ کیو کے معانی مینڈھی یا بالوں کی چوٹی کے بھی ہیں۔ اور کمپیوٹر کی زبان میں اس کے معنی ایک خاص ترتیب سے ڈیٹا کی ترسیل ہے۔ انگریزی زبان و ادب اور  کلچر میں قطار یا کیو کی بڑی اہمیت ہے اور اس حوالے سے کئی محاورے اور ضرب الامثال مشہور ہیں۔ اردو لغت میں اگرچہ بہت سے انگریزی الفاط مستقل جگہ پا چکے ہیں لیکن کیو کی گنجائش اردو لغت میں شاید اس لیے نہیں نکل سکی کہ اس کا بہترین متبادل اور مکمل معانی کا حامل لفظ “قطار” اس میں موجود ہے۔ حالانکہ عام بول چال میں اب ہمارے ہاں بھی کیو استعمال ہوتا ہے۔ اردو لغت میں اس لفظ کے شامل نہ ہونے  کی ایک وجہ ثقافتی اور سماجی بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مزاجاً ہم ترتیب پسند نہیں، ابتر اور بے ربط قوم ہیں۔ صف بندی صرف اس وقت کرتے ہیں جب نماز کے لیے اللہ کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اس فریضے کے علاوہ قطار میں کھڑا ہونا اپنی توہین اور سماجی کمزوری سمجھتے ہیں۔ البتہ قطار توڑنے اور قطار لڑانے میں ہمارا ثانی پوری دنیا میں نہیں۔

روزمرہ کی عملی زندگی میں دیکھیں تو جگہ جگہ قطار کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے تجربات و مشاہدات سے قطار کی اہمیت و افادیت اور نہ صرف افراد بلکہ ملکوں و قوموں کی اجتماعی ذہنی اور معاشرتی ترقی کا پتا چلتا ہے۔ کچھ عرصہ مجھے مشرق وسطیٰ میں ایک بہت بڑے امریکی ادارے اور امریکن ائر فورس کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ایک روز بینک میں اپنے کسی کام سے قطار میں کھڑا تھا کہ ایک خاتون جو دیکھنے میں نووارد اور امریکی لگ رہی تھیں میرے پیچھے قطار میں کھڑی ہو گئیں۔ وہاں اگرچہ ایسا کوئی قانون تو نہیں لیکن خواتین کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ انہیں قطار میں انتطار کروانے کے بجائے ترجیحاً پہلے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میں ایک طرف ہو گیا اور خاتون سے کہا کہ وہ آگے آ جائیں۔ خاتون نے کندھے اچکائے اور میری اس پیشکش پر کوئی توجہ نہ دی۔ میں نے دوبارہ کہا کہ میں اس پر کوئی احسان نہں کر رہا بلکہ یہ اس کا حق ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا یہ وہاں کا قانون ہے۔ میں نے کہا قانون تو نہیں لیکن ایک طے شدہ سماجی قاعدہ ہے جسے تقریباً قانون ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر اُس خاتون نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ میری توہین کر رہے ہیں۔ میں کوئی لولی لنگڑی ہوں، کوئی اپاہج ہوں جو آپ میرے ساتھ ہمدردی فرما رہے ہیں۔ مجھے جنس کی بنیاد پر یہ رعایت نہیں چاہیئے، میں اپنی باری آنے پر ہی کاؤنٹر پہ جاؤں گی، مجھے قطار توڑ کر آگے جانا عجیب لگتا ہے۔ ہمارے دفتر کے انجینئری اور دیگر پیشہ ورانہ عملے میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی تھے، کچھ آئرش بھی تھے، اکا دکا جرمن، فرانسیسی اور یونانی بھی اور واحد مَیں پاکستانی تھا۔ نچلے دفتری عملے میں بھارتی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، سوڈانی، فلپینو سب ملے جلے تھے۔ دفتر میں ایک مرکزی کچن تھا جہاں سے کافی، چائے، کولڈ ڈرنکس وغیرہ ہمہ وقت سیلف سروس کے تحت دستیاب ہوتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ ایک ہی وقت میں کچن کی گنجائش سے زیادہ لوگ آ جاتے تھے تو میں دیکھتا تھا کہ آپس میں ھیلو ہائے کہتے، باتیں کرتے ہوئے خود بخود سب ایک منظم طریقے سے قطار بنا لیتے تھے اور کبھی جمگھٹے کی صورتِ حال پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اس قطار میں چھوٹے بڑے کالے گورے کی تخصیص نہیں ہوتی تھی بلکہ اکثر ادارے کا سربراہ پیچھے اور آفس بوائے آگے کھڑا ہوتا تھا۔ اسی طرح پہلی خلیجی جنگ کے دوران میں نے دیکھا کہ فاسٹ فوڈ کی دکانوں پہ برگر اور فرائیڈ چکن لینے کے لیے امریکی فوج کے جوان اور افسر ایک ساتھ آگے پیچھے کیو میں لگے ہوتے تھے۔ میرا مزاج اگرچہ بچپن ہی سے اصولوں، ضابطوں اور قوانین کی پاسداری کرنے والا تھا لیکن کچھ عرصہ ملک سے باہر مختلف ملکوں کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد بطورِ خاص وقت کی پابندی اور اپنی باری کے انتظار میں قطار میں کھڑے ہونے کی عادت زیادہ پختہ ہو گئی۔

 اب ذرا وطنِ عزیز کی طرف آئیے۔ اول تو قطار کا تصور ہی کم کم ہے۔ ہجوم اور آپا دھاپی کے مناظر عام ہیں۔ قطار میں کھڑا ہونا سماجی طور پر کم مرتبہ ہونا سمجھا جاتا ہے۔ میں نے کسی سرکاری افسر، بیوروکریٹ، فوجی افسر، سیاستدان اور معاشرے کے دیگر آسودہ حال اور مراعات یافتہ طبقے کے افراد کو روزمرہ کے کاموں کے سلسلے میں کبھی قطار میں کھڑا نہیں دیکھا سوائے سپر مارکیٹوں میں شاپنگ کرتے ہوئے جہاں بل ادا کرتے وقت انہیں مجبوراً جنگلے کے اندر قطار میں رہنا پڑتا ہے ۔ بینکوں میں چلے جائیے، یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کے لیے عام لوگ باہر قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور جان پہچان والے، سفارشی اور افسران کے بھیجے ہوئے کارندے اندر کاؤنٹر پر کسی باری کسی قطار کے بغیر بِل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں قطار میں کھڑے لوگوں کی نفسیات بھی عجیب ہے۔ سر اٹھا اٹھا کر آگے پیچھے، دائیں بائیں دیکھتے رہیں گے، جان بوجھ کر دھکا پیل کریں گے، بار بار لائن توڑ کر آگے گھسنے کی کوشش کریں گے اور موقع ملتے ہی قطار میں سے نکل کر آگے جا کر کھڑے ہو جائیں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے مجبوراً کھڑے ہوں یا کسی نے زبردستی قطار میں کھڑا کر دیا ہو۔ تیل اور گیس کی قلت کے دنوں میں اور رش والی جگہوں پہ قطار میں کھڑے ذرا ذرا سی بات پر لڑائی جھگڑا کرنا، آپس میں گھتم گھتا ہونا یہاں تک کہ مار پیٹ اور پولیس کا لاٹھی چارج معمول کی باتیں ہیں۔ حال ہی میں مجھے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے نادرا کے آفس جانا پڑا۔ میں نے دیکھا کہ مردوں اور خواتین کی الگ الگ قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ میں بھی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ مجھ سے آگے صرف دس بارہ لوگ تھے اور میرا خیال تھا کہ جلدی باری آ جائے گی۔ لیکن آدھ گھنٹا گزر گیا قطار اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلی۔ مزید آدھ گھنٹا گزر گیا اور صرف دو تین لوگ کم ہوئے تو تشویش ہونے لگی۔ اس دوران دیکھا کہ کئی خوش پوش خواتین و حضرات اور عسکری ادارے کے کچھ افسران قطار کی طرف دیکھے بغیر اندر آ جا رہے تھے۔ قطار کی سست رفتاری سے تنگ آ کر تھوڑا غور سے جائزہ لیا اور کچھ لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اندر کاؤنٹر پہ ایک ہی کلرک بیٹھا ہوا ہے جو باری باری تینوں اطراف کو دیکھ رہا تھا۔ مردوں والی کھڑکی، پھر خواتین کی کھڑکی اور پھر اندر جہاں کاؤنٹر پر سفارشیوں، عملے کے واقف کاروں اور مراعات یافتہ طبقوں اور اداروں کے بھیجے ہوئے ملازموں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہو گئی تھی ان کو بھی وہی ایک بھگتا رہا تھا۔ یوں باہر لگی دونوں قطاروں میں  سے بمشکل اگلے بندے یا بندی کی باری آتی تھی۔ میں کھڑا سوچتا رہا کہ اگر اس طرح کے جدید ترین کمپیوٹرائزڈ دفتروں میں بھی ضرورت کی جگہ پر عملے کی کمی، سفارش ، افسر شاہی اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ممکن نہیں تو اتنا تو کیا جا سکتا ہے کہ عسکری اور مراعات یافتہ طبقوں اور افسروں کے لیے الگ کاؤنٹر بنا دیے جائیں تا کہ مجھ جیسے عامی عوامی کو قطار میں کھڑے ہونے کی ذلت اور دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس تو نہ ہو۔ خیر ایک طویل انتظار کے بعد جب میری باری آئی تو عین اس وقت آفس انچارج نے آ کر کاؤںٹر کلرک سے کہا کہ اندر رش زیادہ ہو گیا ہے اس لیے آدھ گھنٹہ کے لیے کھڑکی بند کر دیں اور ایک طاقتور ادارے کے اعلی افسر کا مع عہدہ نام لے کر تمام عملے کو ہدایت کی کہ سب کام چھوڑ کر “ان” کا کام پہلے کریں ۔ میرا ہاتھ وہیں کا وہیں بند کھڑکی پر جما رہ گیا۔ یکا یک مجھے یوں لگا جیسے میں قطار میں تنہا کھڑا ہوں، صدیوں سے یک و تنہا، قطار بنائے، صرف ایک آدمی جس کے کوئی آگے ہے نہ پیچھے لیکن باری ہے کہ پھر بھی نہیں آتی۔ اور میری طرح دو متوازی قطاروں میں کئی گھنٹوں سے کھڑے جوان، بوڑھے مرد  اور عورتیں بھی اپنی اپنی جگہ بے بس اور تنہا ہیں۔ اپنی اپنی شناخت کے انتظار میں۔ پتا نہیں  میری، ان کی، ہم سب کی “باریاں” کب آئیں گی۔ کیا کبھی ایسا بھی ہو گا کہ ہم قطار میں تنہا نہیں ہوں گے، ہمارے آگے پیچھے مراعات یافتہ سرکاری افسران، بیوروکریٹس، کرنیل جرنیل، جاگیر دار، سرمایہ دار، سیاستدان سب پاکستانی شہری ایک ساتھ قطار میں کھڑے ہوں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “قطار میں کھڑا تنہا آدمی

  • 22-03-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

    غالب

  • 25-03-2016 at 4:24 am
    Permalink

    قطار میں کھڑے ہو کر، بہت سے جھگڑے مول لیے ہیں۔ آخر میں وہی احساس کہ ‘میں تن تنہا ہوں’۔۔۔ پتا نہیں کیوں۔۔آپ سے۔۔ مجھ سے۔۔۔ اس جھیل کا پانی نہیں پی لیتے، جس جھیل سے ہم راہی اپنی پیاس بجھا چکے ہیں!!؟

  • 25-03-2016 at 2:46 pm
    Permalink

    بہترین۔ کیا دلچسپ اور معلوماتی تحریر ہے جناب

  • 27-03-2016 at 12:04 am
    Permalink

    آپ نے دو بار پیچے مڑ کر دیکھا اورہر بار اسرار کیا اور ہر بار ڈانٹ کھائی ۔ تانکہ جھانکی اور پھر بھی اپنے آپ کو مميز اور ممتاز پیش کیا پاکستان کی بقیہ بھیڑ بکریوں سے ۔ کیوں ؟

  • 29-03-2016 at 9:37 pm
    Permalink

    ایک بظاہر معمولی نظر آنے والے واقعے سے آپ نے معاشرے میں موجود طبقاتی تفریق کو بہت عمدہ طریقے سے واضح کیا ہے۔

    آپ نے امریکی خاتون کا جو قصہ سنایا وہ ویسٹ کے معاشرتی اقدار کا عکاس ہے (جیسا کہ آپ نے بھی بیان کیا) جہاں کسی شخص کو اس قسم کی کوئی پیش کش (جیسے قطار میں اپنی جگہ یا بس میں اپنی سیٹ کسی کے لیے چھوڑنا یا کسی ضعیف کو زیادہ سامان اٹھائے دیکھ کر مدد کی پیش کش) کی جائے تو اُسے یہ خود پر ‘ترس’ محسوس ہوتا ہے۔ البتہ، ہمارے یہاں ایسا کرنا ‘ترس’ سے زیادہ ‘حسنِ سلوک’ کے وسیع دائرے میں آتا ہے، جس میں ہمدردی کے ساتھ ساتھ عزت، شفقت، بھائی چارہ اور احساس کے عناصر شامل ہیں۔

Comments are closed.