سیکھنے سے انکاری ڈاکٹر کو ریٹائر ہو جانا چاہیے


جو افراد میرے مضامین پڑھ رہے ہیں، آپ کا شکریہ۔ برائے مہربانی فون یا ٹیکسٹ میسج کے زرئعیے انفرادی علاج کی توقع نہ کریں۔ اسپائڈر مین میرا پسندیدہ سپر ہیرو ہے۔ اس کا جملہ یاد رکھیں کہ
!With great power comes great responsibility

”عظیم طاقت کے ساتھ عظیم ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ “ اگر کچھ مشورہ چاہیں‌ تو ای میل بھیجیں تو اس کے جواب میں‌ میں ایک ایسا مضمون لکھ دوں‌ گی جس سے جنرل معلومات ملیں۔ اس طرح‌ اس بات کی ڈاکومینٹیشن بھی ہوگی کہ ہمارے درمیان کیا بات ہوئی۔ ایک مرتبہ ایک مریض نرس وزٹ کے لیے ہمارے کلینک میں‌ آئے اور اس کے اگلے دن انہوں‌ نے خود کشی کرلی تھی۔ جب میں‌ نے نرس سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی تھی تو وہ بہت حیران ہوئی اور کہا کہ وہ تو ڈپریسڈ نہیں‌ لگ رہے تھے اور صرف تھائرائڈ کے بارے میں‌ بات کی تھی۔ کچھ پتا نہیں‌ ہوتا کہ لوگوں‌ کی زندگی میں‌ اور ان کے ذہنوں‌ میں‌ کیا چل رہا ہے؟

میں‌ آج تک اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ پچھلے آرٹیکل ”امپاسٹر سنڈروم“ میں‌ میں‌ نے ایک ایکرومیگالی کے کیس کا ذکر کیا تھا جس کے بعد مجھے ایک میسج ملا جس میں‌ اس کے علاج کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ ایکرومیگالی ایک بہت کم ہونے والی بیماری ہے جس کو تشخیص کرنا مشکل کام ہے۔ برٹش میڈیکل جرنل میں‌ 2007 میں‌ یہ دلچسپ آرٹیکل چھپا تھا جس میں‌ ایکرومیگالی کے ایک مریض‌ جون ڈیزنگ نے اپنی کہانی ”ایک مریض‌ کا سفر“ لکھی تھی تاکہ اس سے ڈاکٹرز اور مریض اس بیماری کے بارے میں‌ سیکھیں۔ اس آرٹیکل کا ترجمہ/خلاصہ مندرجہ زیل ہے۔

کچھ دس سال پہلے میرے ساتھ کچھ عجیب و غریب چیزیں‌ ہونا شروع ہوگئیں۔ میرے جوتے کا ناپ نو سے گیارہ ہوگیا، میری آمدن کم ہوگئی اور میری گرل فرینڈ جس سے میں شادی کرنے والا تھا، ہمارے درمیان جنسی تعلقات ختم ہوجانے کی وجہ سے مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ میرے جسم اور شخصیت میں‌ ڈرامائی تبدیلیاں ہورہی تھیں۔ میری ناک بڑی ہونے لگی، پیشانی پھیل گئی اور میرا چہرہ اور میرے ہاتھ سوج گئے اور کھردرے ہوگئے۔ لیکن یہ سب تبدیلیاں بہت آہستگی سے ہورہی تھیں۔ کچھ دوستوں نے ایکدم محسوس کرلیا اور کچھ جنہوں نے مجھے کافی عرصہ سے نہیں‌ دیکھا تھا، انہوں‌ نے جب مجھے دیکھا تو انہیں‌ ایک شاک لگا۔ ”تمہارا چہرہ مختلف ترتیب ہوچکا ہے!“ ایک نے کہا۔ میری بہن نے صاف صاف کہہ دیا کہ لگتا ہے تمہاری کسی سے لڑائی میں‌ چہرہ زخمی ہوا ہے۔ میں‌ پہلے پھرتیلا اور ہوشیار ہوتا تھا، آہستہ آہستہ میں‌ بہت تھکن محسوس کرنے لگا اور ہر بات سے بے پرواہ ہوگیا۔ میرا موڈ بگڑ گیا۔ میں‌ بے چینی محسوس کرنے لگا اور جلدی سے تھک جاتا تھا۔ میری آواز گہری ہوگئی۔ کئی راتیں‌ ایسی گزریں‌ کہ میں‌ خود کو اپنے جسم سے باہر محسوس کرتا تھا۔ میں‌ ڈر کر پسینے میں‌ ڈوبا جاگ جاتا اور گہرے سانس لینے لگتا۔

پہلے میں‌ ایک کامیاب لکھاری تھا لیکن اب میں آفس یا تو بہت دیر سے جاتا یا پھر جاتا ہی نہیں تھا۔ آفس میں‌ یا گھر میں کچھ کام نہ کرتا اور غلط اوقات میں‌ کبھی اپنے آفس میں‌ اور کبھی چائے پیتے ہوئے سو جاتا۔ میں‌ نے کوشش کی کہ کچھ ایسے نئے پراجیکٹس پر کام کروں جس سے میری کام میں‌ دلچسپی بڑھے لیکن ایسا نہیں کرپایا۔

1997 سے لے کر 2001 تک میں‌ نے تمام طرح‌ کے ڈاکٹر دیکھے۔ میرے جنرل ڈاکٹر نے تقریباً سو صفحے کے نوٹس میری علامات کے بارے میں‌ لکھے۔ ڈاکٹرز کچھ تلاش نہیں کرپائے۔ میں‌ سوچنے لگا کہ شاید تمام مسئلہ میرے دماغ میں‌ ہے۔ مجھے ایک کاؤنسلر کے پاس بھیجا گیا جس سے میں‌ نے شکایت کی کہ اب میں‌ کچھ تخلیقی کام نہیں کرسکتا ہوں‌ تو اس نے کہا کہ میری تخلیقی کام کرنے کی عمر نکل گئی ہے حالانکہ اس وقت میری عمر صرف 42 سال تھی۔

ایک موقع آیا جب مجھے تشخیص کیا جاسکتا تھا لیکن وہ گزر گیا۔ میری دائیں‌ چھاتی بڑھنے لگی تھی جس کو گائناکومیسٹیا کہتے ہیں۔ ایک کنسلٹنٹ نے کہا کہ وٹامن لینا چھوڑ دو۔ دوسرے نے کہا کہ سرجری کروالو۔ ان دونوں‌ ڈاکٹرز نے میرے ہارمون چیک نہیں‌ کیے۔ سرجری سے پہلے یہ خود ہی ٹھیک ہوگیا اس کے بعد بائیں چھاتی میں‌ ہوگیا۔ ایک جنرل ڈاکٹر نے کہا اس علامت کو نظر انداز کردو۔ میرے جلد کے ڈاکٹر نے میری کمر پر تکلیف دہ ایکنی کا علاج کیا، آرتھوپیڈک نے جوڑوں‌ میں‌ درد کی شکایت کے لیے دیکھا اور دانتوں‌ کے ڈاکٹر نے میرے دانتوں‌ کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو دیکھا لیکن یہ سب ڈاکٹرز ان علامات کو اکھٹا کرکے ایک تشخیص تک پہنچنے میں‌ ناکام رہے۔ مجھے ڈپریشن ہوگیا تھا، میں‌ خراٹے مارنے لگا تھا اور میرا ٹیسٹا اسٹیرون لیول بھی کم ہوگیا تھا۔ مجھے جنرل ڈاکٹرنے کہا کہ ایک سال بعد دوبارہ چیک اپ کروانے آنا۔

تو اس طرح میں‌ نے کئی سال جدوجہد کی۔ جب مجھے اینڈوکرنالوجسٹ کے پاس بھیجا گیا تو وہ بھی بروقت میری بیماری کو تشخیص نہ کرسکے۔ آہستہ آہستہ میں‌ نے خود ہی اپنی علامات پر تحقیق کرنا شروع کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے ایکرومیگالی ہوگئی ہے۔ میرے اینڈوکرنالوجسٹ بھی مجھے چھ مہینے دیکھنے کے باوجود ایکرومیگالی تشخیص نہ کرسکے۔

میں‌ ہرجگہ سے مایوس ہوچکا تھا اور مزید انتظار نہیں‌ کرنا چاہتا تھا۔ میں‌ نے لندن کے سینٹ بارتھولومیو ہسپتال میں‌ ایکرومیگالی کے ماہر پروفیسر جان مونسن کو خط لکھا اور اس کے ساتھ اپنے سارے لیب ٹیسٹ بھی بھیجے۔ اگلے دن انہوں‌ نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ آپ کو کس نے تشخیص کیا ہے؟ میں‌ نے جھجھک کر کہا کہ میں‌ نے خود! میں‌ توقع کررہا تھا کہ وہ مجھ سے اختلاف کریں‌ گے لیکن انہوں‌ نے کہا، ویل! آپ بالکل ٹھیک نتیجے پر پہنچے ہیں! جب ہم 2001 میں‌ ملے تو پروفیسر مونسن نے کہا کہ میں‌ آپ کو ایک جھلک میں دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ آپ کو ایکرومیگالی ہے۔ انہوں‌ نے میرے مزید ٹیسٹ کیے جن سے معلوم ہوا کہ میرا گروتھ ہارمون کا لیول نارمل سے 2500 فیصد زیادہ تھا۔ اس میں‌ کچھ شک نہیں‌ تھا کہ مجھے ایکرومیگالی تھی۔

ایک طرف مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ بالآخر یہ معلوم ہوسکا کہ میرے ساتھ کیا مسئلہ تھا اور دوسری طرف میں نے اپنے تمام ڈاکٹرز سے مایوسی محسوس کی جو اتنے سال تک میری علامات کو مجموعی طور پر سمجھ کر مجھے تشخیص کرنے میں‌ ناکام رہے تھے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ ایکرومیگالی کے مریضوں‌ کی تشخیص ہونے میں‌ قریب دس سال لگ جاتے ہیں۔ کیا یہ میڈیکل سسٹم کی ناکامی نہیں ‌ہے؟ بیماری کو اس کی پیچیدگیاں ہونے سے پہلے تشخیص ہونا چاہیے۔

اس کے بعد ظاہر ہے کہ میں‌ اس بیماری کا علاج چاہتا تھا۔ میں‌ جانتا تھا کہ ایک بڑے پچوٹری ٹیومر کے ساتھ میرے ٹھیک ہوجانے کا چانس کم ہے۔ میرا ٹیومر شریانوں‌ کے بھی نزدیک تھا جس کی وجہ سے سرجری بھی خطرناک تھی۔ اس لیے میں‌ نے سب سے تجربہ کار نیوروسرجن کو تلاش کیا۔ میں‌ جرمنی گیا جہاں‌ پروفیسر روڈولف فالبش سے ملا جنہوں نے 4000 سے زیادہ پچوٹری کی سرجریاں‌ کی ہیں اور ساری دنیا میں‌ ان سے زیادہ تجربہ اور کسی کا نہیں ہوگا۔ انہوں‌ نے میری دو مرتبہ سرجری کی اور کہا کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے مشکل سرجری تھی۔

آپریشن ہونے کے بعد میرا چہرہ پھر سے نارمل ہونا شروع ہوگیا اور میرا ٹیسٹواسٹیرون بڑھنا شروع ہوا۔ میں‌ بہتر سونے لگا، میری کمر پر سے ایکنی کے دانے مٹ گئے۔ لیکن اب بھی میرا گروتھ ہارمون کا لیول زیادہ تھا۔ میں‌ آکسفورڈ میں‌ ڈاکٹر جان واس سے ملا جو ایکرومیگالی کے ماہر ہیں۔ انہوں‌ نے میرے لیے سارے نظام سے لڑائی کی اور مجھے آکٹریوٹائڈ دوا دینا شروع کی جو کہ مجھے ہر چھ ہفتے دی جاتی ہے۔ اس کی قیمت ایک ہزار پاؤنڈ فی انجیکشن ہے۔ اب آکر میرا گروتھ ہارمون کا لیول نارمل ہے۔
Octreotide

میں محسوس کرتا ہوں‌ کہ میں کافی بہتر ہوگیا ہوں لیکن بدقسمتی سے میں‌ اب بھی اپنے کام پر واپس نہیں‌ جاسکا ہوں۔ کچھ اچھے دن ہوتے ہیں اور کچھ دن اچانک تھکن ہوجاتی ہے۔ سرجری کے بعد میرے سر کے بیچ میں‌ درد بھی رہتا ہے جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ دونوں‌ گھٹنوں میں‌ مستقل تکلیف کی وجہ سے ان کی سرجری بھی کروانی پڑی۔ اتنے سال ایکرومیگالی رہنے کی وجہ سے کچھ مسائل مستقل ہوگئے جو اب ٹھیک نہیں‌ ہوسکتے۔ لیکن میں‌ پرامید ہوں کہ میری زندگی بہتر ہوتی جائے گی۔

اپنے جنرل ڈاکٹر کے ساتھ میرے تعلقات بہتر ہوگئے ہیں۔ ہم نے ایک طویل سفر اکھٹے طے کیا ہے اور اس تجربے سے بہت سیکھا ہے۔ ہمارے درمیان ایک سچا مریض‌ اور ڈاکٹر کا رشتہ بن گیا ہے۔ ڈاکٹر کوہن نے اس تمام سفر میں‌ میرا ساتھ دیا اور میڈیکل فیلڈ پر میرا یقین بحال کیا۔ انہوں‌ نے مجھے حال ہی میں‌ کہا کہ، ”میں‌ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کوئی بھی ایسا ڈاکٹر جو اور سیکھنے کے لیے تیار نہ ہو اس کو ریٹائر ہوجانا چاہیے۔ “ اس بات پر میں‌ ان کو داد تحسین پیش کرتا ہوں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں