این جی اوز کیسے بنتی ہیں اور کیا کرتی ہیں؟


“میں نے گندگی کو بو دی ہے“۔ یہ مشہور فقرہ اختر حمید خان مرحوم کا ہے جو اورنگی پائیلٹ پروجیکٹ کے بانی تھے۔ اورنگی پائیلٹ پروجیکٹ (OPP) وہ منصوبہ ہے جس نے پاکستان یا کئی اعتبار سے شاید دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹاؤن کراچی کا سیورج سسٹم یعنی نکاسی آب کا نظام بچھایا تھا۔ یہ منصوبہ اورنگی میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر نہایت ہی کم لاگت سے مکمل کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا منصوبہ تھا جس سے نہ صرف اورنگی ٹاؤن کی گلیاں گندے پانی سے پاک ہوئیں بلکہ اورنگی ٹاؤن کے رہائشیوں کو اپنے آپ پر ایک نیا اعتماد بھی محسوس ہوا۔ انہوں نے اتنا بڑا منصوبہ اپنی مدد آپ کے تحت بہت ہی کم پیسوں سے مکمل کر دکھایا۔ اس منصوبے کی شاندار کامیابی کی وجہ سے OPP اسی نام سے ایک باقاعدہ فلاحی اور ترقیاتی ادارہ یعنی این جی او بن گیا۔

کوئی بھی ذی شعور شخص، مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر، کسی وقت بھی کسی خاص یا عام مسئلے کو حل کرنے کے لیے این جی او یا فلاحی ادارہ بنانے کا سوچ سکتا ہے اور بنا بھی سکتا ہے۔ بس آپ کو کسی پرابلم کا علم اور احساس ہونا چاہیے ہے۔ اور پرابلم کا علم اور احساس آپ کو کچھ پڑھتے ہوئے، کہیں رہتے ہوئے یا صرف کہیں سے گزرتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے۔

یہ چھٹی کا دن نہیں ہے اور صبح کے گیارہ بجے ہیں۔ آپ کسی گاؤں یا محلے سے گزر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سکول جانے کی عمر کے کچھ بچے اس وقت گلیوں میں نظر آ رہے ہیں۔ ایک حساس شخص کا دماغ یہ سوچے گا کہ یہ بچے اس وقت گلی میں کیوں ہیں۔ سکول میں کیوں نہیں ہیں۔ آپ ان بچوں سے پوچھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس علاقے میں کوئی سکول موجود ہی نہیں اس لیے یہ بچے سکول نہیں جا سکتے۔ ان بچوں کو ان کا تعلیم کا بنیادی حق نہیں مل رہا۔ آپ ان بچوں کو تعلیم کا حق دلوانے کی ٹھان لیتے ہیں۔

اب آپ کے پاس ان بچوں کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے دو چوائس ہیں۔ ایک سیدھا سا حل یہ ہے کہ وہاں ایک سکول کھول دیں اور بچوں کو اس سکول کے ذریعے سے تعلیم دینا شروع کر دیں۔ دنیا میں لاکھوں درد دل رکھنے والے لوگوں نے لاکھوں ایسے سکول کھولے اور چلائے ہیں اور اب بھی چلا رہے ہیں۔ اب سکول قائم کرنے اور چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ جب تک آپ کے پاس پیسے ہیں آپ یہ سکول چلا سکتے ہیں اور بچوں کا تعلیم کا حق پورا کر سکتے ہیں۔ یہ سکول بنانے اور چلانے کے لیے آپ ایک فلاحی ادارہ یا این جی او بنا سکتے ہیں۔ این جی اوز کے ایسے کاموں کو سروس ڈیلیوری کہا جاتا ہے جس میں وہ خود تگ و دو کر کے لوگوں کی ضروریات پوری کر رہے ہوتےہیں۔

بچوں کو ان کا تعلیم کا حق دلانے کا ایک اور طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔ ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا بندوبست کرے کہ سب بچوں کو ان کا تعلیم کا حق مل سکے۔ اگر کچھ بچے سکول نہیں جا پا رہے کیونکہ ادھر سکول موجود ہی نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست اور حکومت اپنا فرض پورا نہیں کر رہے۔ آپ یہ ٹھان لیتے ہیں کہ حکومت کی مدد کرنا ہے یا حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ ان بچوں کے لیے سکول کھولے اور چلائے تاکہ ان بچوں کو ان کا تعلیم کا حق مل سکے۔ اس کے لیے آپ لوگوں کو بھی یہ احساس دلاتے ہو کہ وہ حکومت سے اپنے بچوں کے لیے سکول کا مطالبہ کریں۔ احساس دلانے کے ساتھ ساتھ آپ ان کی تربیت بھی کرتے ہو کہ وہ اپنا مطالبہ پورا کروانے کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ یہ کام کرنے کے لیے بھی آپ ایک فلاحی ادارہ یا این جی او قائم کر سکتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ کام کرنا تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے اپنی حکومت اور دوسرے ذمہ داران سے مطالبات کر سکیں اور منوا سکیں، ایڈووکیسی کہلاتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم کام ہے جو بہت سی ماڈرن این جی اوز کرتی ہیں۔

سروس ڈیلیوری اور ایڈووکیسی کے علاوہ بھی ایک اہم کام ہے جو این جی اوز کرتی ہیں۔ وہ کام ہے ریاست، حکومت اور مقننہ کے کام اور ان کی کارکردگی پر نظر رکھنا۔ جب حکومتی ادارے اپنا کام ٹھیک طرح سے انجام نہ دے رہے ہوں تو این جی اوز لوگوں کو اس معاملے میں احساس دلاتی ہیں تاکہ وہ نوٹس لیں اور حکومت کو مجبور کر سکیں کہ وہ اپنا فرض صحیح طریقے سے نبھائیں۔

مقننہ اگر کوئی ایسا قانون پاس کرنے کی کوشش کرتی ہے جو غریب یا پہلے سے کمزور طبقے کے لیے مزید خرابی کا باعث بن سکتا ہے تو این جی اوز ایسے قوانین میں خرابی کی نشان دہی کرتی ہیں اور مقننہ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ایسے کاموں سے باز رہے۔ اسی طرح سے موجودہ قوانین اور پالیسیوں میں بھی اگر اس طرح کی خرابیاں سامنے آ رہی ہیں کہ ان کی وجہ سے کچھ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق منفی طور پر متاثر ہو رہے ہیں تو ان کی بھی نشاندہی کرتی ہیں اور ذمہ داران سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ ایسے قوانین اور پالیسیوں میں مناسب تبدیلیاں لے کر آئیں۔

یعنی این جی اوز نگران کا رول بھی ادا کرتی ہیں۔ وہ فرسودہ روایات اور شہریوں کے لیے نقصان دہ ریاستی پالیسیوں کو بھی چیلنج کرتی ہیں۔ معاشرے کے طاقت ور لوگ اور ادارے جو ان فرسودہ روایات کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں وہ این جی اوز کے اس رول سے خوف زدہ رہتے ہیں اور انہیں (NGOs) ختم یا کمزور کرنے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ آج کل یہ جنگ زوروں پر ہے اور درجنوں انٹرنیشنل این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔

خوش قسمتی سے میں نے پچھلے تیس سالوں میں پاکستان میں کئی این جی اوز کو بنتے، پھلتے پھولتے اور زبردست کارنامے سر انجام دیتے دیکھا ہے۔ بدقسمتی سے چند ایک اداروں اور ان کے چلانے والے زبردست لوگوں کو قتل ہوتے بھی دیکھا ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لیے یہ ظلم کوئی نئی بات نہیں ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 166 posts and counting.See all posts by salim-malik