گوگل پہ پاکستانی کیا تلاش کرتے رہے؟


ہم اپنے سماجی رویوں میں نادم خواہشوں کے اسیر ہیں۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کئی موضوعات ساون کی گھٹا بن کے اٹھتے ہیں اور ساعتوں کے طوفان میں گم ہوجاتے ہیں۔ کچھ مگر اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی نشان ”عبرت سرائے دہر“ ہوتے ہیں۔ ہم زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے دشمنوں کی سازش کہہ کر جان چھڑا نے کی ناکام سعی کرتے ہیں۔ پاکستانی سماج کو یہ بیماری بڑی دائمی ہے، کہ ساری دنیا پاکستانیوں کے خلاف سازشوں میں لگی ہوئی ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہر قوم، سماج اور ملک کی اپنی نفسیات اور روایات ہیں۔ ہم سب انھیں روایات کے امین ہیں۔ یہ الگ بات کہ مشرقی روایت مغرب والوں کو پسند نہ آئے یا مغربی روایت و ثقافت مشرق والے نا پسند کریں۔ کسی قوم کے ذہنی رحجانات ہی اس قوم کے مستقبل کا فیصلہ نقش کرتے ہیں۔ خواہشیں پالی جا سکتی ہیں لیکن ان کو سیڑھی بنا کر ترقی کے زینے نہیں چڑھا جا سکتا۔ اس کے لیے ہنر کاری، تحقیق و جستجو اور علم کے میدان میں عمل کے گھوڑے دوڑانا پڑتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ پاکستانی سماج کے نوخیز دماغ فراغت کے باغ میں سیر کرتے رہیں اور دنیا کو بھی اپنا زیر نگیں کر لیں۔ ایسا سوچا جا سکتا ہے مگر ایسا ممکن نہیں۔
“بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“

گوگل نے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانیوں کی، انٹرنیٹ پہ دلچسپیوں کے سامان کوبھی طشت ازبام کیا ہے۔ سال 2017 میں پاکستانیوں کی انٹرنیٹ کے سرچ انجن میں جو سب سے زیادہ دلچسپی رہی وہ حیرت افروز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ ٹاپ ٹرینڈ جو رہا وہ نہایت سطحی اور کسی بھی طرح سماج کے لیے ثمر بار نہیں۔ پاکستانیوں نے کسی گیم شو میں ایک معاون میزبان فبیہا شیرازی کو سب سے زیادہ سرچ کیا، نوحہ خوان ندیم سرور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے جبکہ بالترتیب، کرکٹر فخر زمان، بھارتی فلمی اداکار رشی کپور، ردا اصفہانی، باکسر عامر خان کی بیوی فریال مخدوم، پی ایس ایل ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی، اداکار احمد رضا میر، اداکارہ ہانیہ عامر، اور مومنہ مستحسن، وہ شخصیات ہیں جنھیں پاکستانیوں نے سارا سال گوگل پہ سرچ کیا اور ان پہ اپنے تئیں“ تحقیق“ کرتے رہے۔ جبکہ ویب سرچنگ میں آئی سی سی چیمپین ٹرافی، ڈبلیو ڈبلیو ایکسٹریم ریسلنگ، عامر خان کی فلم دنگل، ماہرہ خان کی فلم رئیس اور بولی وڈ کی ہاف گرل فرینڈ فلم پاکستانیوں کی اولین ترجیح رہی گوگل پہ۔ اسی طرح دسویں نمبر تک ویب سرچنگ میں صرف فلمیں ہی ہیں۔

یوٹیوب کے حوالے سے جب یہ پاکستان میں بند ہوئی تھی، تو پاکستانی سماج میں اس حوالے سے بڑا سخت ردعمل دیکھنے کوملا تھا۔ اب جبکہ یو ٹیوب پاکستان میں بحال ہے گوگل کو بھی حیرت ہوئی کہ، کیا ”دن گنے جاتے تھے اسی دن کے لیے“یہاں بھی ہم وطنوں کی ترجیحات انتہائی سطحی اور کم تر ہی ہے۔ مثلاً سب سے زیادہ لکس ایوارڈ کے لیے یو ٹیوب کو کھنگالا گیا، بلے بلے نامی فلم، اور اسی نوع کی دیگر فلموں پہ آنکھوں کی بینائی گنوائی جاتی رہی۔ یہ صرف پاکستانیوں کا ہی حال نہیں بلکہ بھارتی اور بنگلہ دیشی بھی ہم سے کچھ کم نہیں، ان کی بھی نیٹ پہ اولین ترجیح آئی پی ایل، بی پی ایل، جنسی مواد اور عام سی فلمیں ہی رہیں۔ میں نے یہ سب، پڑھا تو سوچا کہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی کھنگالا جائے کہ وہاں کے باسی اور سماج کیا سوچتا ہے؟ وہاں کھیلوں کے ساتھ عالمی منظر نامے پر بھی نظر رکھی گئی۔

آسٹریلین شہریوں نے شمالی کوریا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی گوگل پہ خوب ڈھوندا، اسی طرح برطانوی شہریوں نے آئی فون ایٹ، مانچسٹر دھماکوں کے ساتھ ساتھ جس چیز پہ بہت توجہ دی وہ تھا، HOW TO MAKE SMILE؟ ، اس کے علاوہ برطانوی شہریوں نے کھانا بنانے کی کچھ تراکیب، عالمی منظر نامے سے شمالی کوریا اور اس سے متعلقہ خبروں کو بہت ڈھونڈا، اسی طرح جرمن شہریوں کی توجہ ٹرمپ، شمالی کوریا پہ زیادہ رہی۔ القصہ یورپی اقوام نے بھی فلمیں تلاش کیں، مگر ان کی ترجیحات اپنے اردگرد اور دنیا کے حالات سے با خبر رہنا ہے۔ پاکستانیوں کی ترجیحات میں نہ تو ٹرمپ کہیں نظر آیا اور نہ ہی خطے کے بدلتے حالات پہ ہی کہیں کوئی دقت نظر ڈالی گئی۔ البتہ پانامہ کو پاکستانی شہریوں نے گوگل پہ تلاش ضرور کیا لیکن یہ ان کی بنیادی ترجیحات میں نہ تھا۔

سوال یہ ہے کہ پھر اس سماج کی ترجیحات کیا ہیں؟ جواب وہی جو گوگل نے دیا ہے۔ اگرچہ سینکڑوں پاکستانیوں نے گوگل پہ ایسے لنک بھی تلاش کیے ہوں گے جو علمی و تحقیقی حوالے سے مدد گار و معاون ہوں۔ بے شک یو ٹیوب پہ سائنس، ادب، اخلاقیات، سماج، بین الاقوامی تعلقات عامہ، دنیا کے بدلتے بگڑتے حالات پہ بھی لیکچرز سنے گئے ہوں گے اور یقیناً سینکڑوں پاکستانی ایسا کرتے ہیں۔ کوئی درجن بھر دوستوں کو تو میں جانتا ہوں جو عالمی منظر نامے پہ بڑی پر مغز گفتگو کرتے ہیں، اور ان کی معلومات کی بنیاد گوگل ہے۔ اگرچہ تجزیہ ان کی اپنی مشق اور صلاحیت ہے۔

گذشتہ برس بھی گوگل نے جو اعداد شمار جاری کیے تھے ان میں پاکستانیوں کی نیٹ پہ اولین دلچسپی جنسی مواد کی تلاش تھا۔ کیا ہم ایک بیمار سماج ہیں؟ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں؟ جنس ہی ہماری ترجیح اول کیوں ہے؟ نیم عریانی میں ہی ہم پناہ کیوں لیتے ہیں؟ کیا ہم گوگل سے سائنسی و ادبی حوالے سے کوئی ثمر بار کام لے سکتے ہیں؟ یقیناً بہت سے پاکستانی لے رہے ہیں، گوگل مگر اپنی سالانہ رپورٹ چند ہزار پاکستانیوں کی دلچسپی پہ نہیں بناتا بلکہ لاکھوں اور کروڑوں پاکستانیوں کی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے رپورٹ جاری کی جاتی۔ بلکہ اسی طرح دیگر ممالک کے لیے بھی یہی پیمانہ ہے۔ اے کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ سماج میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے اسباب کیا ہیں؟ کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ داعش کو افغانستان لانے کا مقصد کیا ہے؟

کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ مسلم ممالک عالمی معیشت و سیاست میں اس قدر پیچھے کیوںہیں؟ کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ افغانستان ہی ہمیشہ پاکستان مخالف قوتوں کا مرکزی کردار کیوں رہا ہے؟ کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ تیسری عالمی جنگ کا ایندھن مسلم ملک ہی کیوں بنتے چلے جا رہے ہیں؟ کاش پاکستانی تلاش کرتے کہ اسامہ کی القاعدہ نے مسلمانوں کو کتنا فائدہ پہنچایا اور کس قدر نقصان کا باعث بنی؟ کاش پاکستانی داعش کے بننے کے مقاصد، اس میں معاون ممالک، داعش کی فنڈنگ اور اس کی جنگی حکمت عملیوں پہ گوگل کو سرچ کرتے؟ کاش پاکستانی شہری، اداکاراؤں اور اداکاروں کو ڈھونڈنے کے بجائے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہ سٹڈی کرتے؟ اے کاش ایسا ہوتا، مگر وہ جس کام کے لیے ہم مشہور ہیں پھر وہ کون کرتا؟ اختر عالم صدیقی کا شعر یاد آتا ہے۔

ہر ایک مقام پہ اچھی نہیں ہے با خبری
کہیں کہیں تو ضروری ہے بے خبر ہونا

نفیساتی مسائل، سماجی تناؤ اور دہشت گردی کے مارے سماج میں ان چیزوں کو زیادہ قدر سے دیکھا جاتا ہے جو ذہنی عیاشی کا سامان رکھتی ہوں۔ ایسے سماج تحقیقی و تخلیقی کاموں میں نہیں پڑتے۔ بس حرص ِ قلب و نظر کا اہتمام کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

طاہر یاسین طاہر کی دیگر تحریریں
طاہر یاسین طاہر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں