آئن سٹائن نے انسانیت کو سوشلزم کا مشورہ کیوں دیا؟


البرٹ آئن سٹائن 1879 میں جرمنی میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن سے ہی تحقیق کا بہت شوق تھا۔ انہیں 1921 میں سائنس کا نوبل انعام ملا اور ان کا فارمولا E= mc2 بہت مشہور ہوا۔ آئن سٹائن 1955 میں فوت ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تین سو سے زیادہ سائنسی مقالے اور ایک سو پچاس سے زیادہ سماجی مسائل کے بارے میں مضامین لکھے۔ ان مقالوں میں سے ایک WHY SOCIALISM؟ ہے جو مئی 1949میں ایک سوشلسٹ میگزین میں چھپا تھا۔ ’ہم سب، کے قارئین کے لیے میں نے اس مقالے کی تلخیص اور ترجمہ کیا ہے جو حاضرِ خدمت ہے۔
۔ ۔ ۔
کیا کسی ایسے شخص کو سوشلزم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے جو ماہرِ معاشیات یا سماجیات نہ ہو؟ میرا خیال ہے کہ کرنا چاہیے۔
میں ایک سائنسدان ہوں اور ہم سائنس کے فارمولے لیبارٹری میں ٹیسٹ کر لیتے ہیں لیکن معاشیات کے اصولوں کو پرکھنا مشکل ہے کیونکہ ان اصولوں پر وہ عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں جو معاشی نہیں ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب بعض طاقتور قومیں کمزور قوموں کو فتح کر لیتی تھیں۔ فتح کرنے کے بعد فاتح قوم مفتوح قوم کی زمینوں اور وسائل پر قابض ہو جاتی تھی اور ایسے قوانین بناتی تھی جس سے مفتوح قوم کے افراد دوسرے درجے کے شہری بن جاتے تھے۔ فاتح اور مفتوح قوموں کے اصول آج بھی قوانین اور روایتوں کا حصہ ہیں۔ انسانیت کی بہتری اور ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ ہم مل کر ان غیر منصفانہ قوانین اور روایتوں کو بدلیں۔

دنیا کے بہت سے دانشوروں نے ہمیں بتایا ہے کہ انسانیت ایک بحران سے گزر رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے انسان اپنے ماحول اور معاشرے سے ناخوش ہیں۔ وہ ناراض ہیں اور غصے میں ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو بے حس ہو گئے ہیں۔

پچھلے دنوں میں نے ایک ذہین عزیز سے تبادلہِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فکر ہے کہ کہیں انسان مہلک ہتھیاروں سے اجتماعی خود کشی نہ کر بیٹھیں۔ اس شخص نے مجھے حیرانگی سے دیکھا اور کہا’ اگر کرہِ ارض سے سارے انسان نیست و نابود ہو جائیں تو آپ کو اس کی فکر کیوں ہے؟ ، مجھے پورا یقین ہے کہ ایک صدی پیشتر کے لوگ انسانیت کے مستقبل کے بارے میں ایسا نہ سوچتے ہوں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان انسایت سے کٹتے جا رہے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

میرے خیال میں ایسا سوال اٹھانا بہت آسان ہے لیکن اس کا جواب دینا بہت مشکل۔ لیکن میں اس مضمون میں اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
نفسیاتی طور پر انسان کی دو متضاد ضروریات ہیں۔ وہ تنہا ہستی بھی ہے اور سماجی بھی۔ اس کی ایک خواہش یہ ہے کہ اکیلا رہے اور دوسری خواہش ہے کہ دوسروں کے ساتھ رہے۔ وہ اپنی کچھ ضروریات خود پوری کر لیتا ہے اور کچھ ضروریات کے لیے اسے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیک وقت تنہا بھی اور دوسروں کے ساتھ بھی رہنا چاہتا ہے۔ انسان کی یہ متضاد ضروریات اس کی زندگی میں تضاد پیدا کرتی رہتی ہیں۔ ان ضروریات کے توازن سے ہی اس کی زندگی میں ایک توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

انسان کی شخصیت کا ایک حصہ اس کی جبلت پر منحصر ہے جسے وہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کی شخصیت کا دوسرا حصہ وہ ہے جو کلچر پر منحصر ہے اور اسے وہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اس کلچر کا رشتہ اس سماج کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ انسان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی شخصیت کے دونوں حصوں کا مطالعہ کریں۔ انسانی سماج وہ سماج ہے جسے لاکھوں انسانوں نے ہزاروں سالوں میں تخلیق کیا ہے۔

ہر انسان کی زندگی اس معاشرے اور سماج کے ساتھ جڑی ہوتی ہے جس میں وہ زندہ رہتا ہے۔ جانوروں اور پرندوں کی زندگی ان کی جبلتوں پر منحصر ہوتی ہے لیکن انسانوں کی زندگی اس سماج سے جڑی ہوتی ہے جسے وہ اپنی ضروریات اپنے آدرشوں اور خوابوں کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔

انسان نے جب زبان سیکھی تو وہ اس قابل ہوا کہ اپنے آدرش اور خواب دوسرے انسانوں کو بتا سکے اور انہیں قائل کر سکے کہ وہ اس کے خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنے میں اس کا ساتھ دیں۔ یہ خواب انفرادی بھی ہو سکتے ہیں اور اجتماعی بھی۔ انسان آپس میں مل کر ایک عادلانہ، منصفانہ اور پر امن معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ ماہرینِ سماجیات ہمیں بتاتے ہیں کہ دنیا کی مختلف قوموٓں نے مختلف خواب دیکھے اور ان خوابوں کے مطابق مختلف معاشرے قائم کیے۔ انسانوں کے مختلف کلچر مختلف طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب کرہِ ارض پر انسان کم تھے۔ وہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں رہتے تھے اور اپنی ضروریات کا خود خیال رکھ سکتے تھے۔ پچھلی چند صدیوں میں مختلف انقلاب آئے ہیں۔ اب انسان بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہیں۔ دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کی انفرادی، سماجی اور اقتصادی ضروریات بھی بدل گئی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنے معاشرے سے سماجی رشتہ کمزور ہو گیا ہے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے شہر میں رہ کر بھی بعض دفعہ اس کے چند قریبی دوست نہیں بن پاتے۔ یوں لگتا ہے جیسے آج کا انسان اپنی انفرادیت کے حصار میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اسے ایک طرف احساسِ تنہائی کا سامنا ہے اور دوسری طرف اس کے لیے دوستیاں نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

میری نگاہ میں اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ اس نظام میں دولت اور طاقت چند انسانوں کے ہاتھوں میں جمع ہوتی جا رہی ہے۔ اس نظام سے انسانوں کی اقلیت امیر سے امیرتر اور انسانوں کی اکثریت غریب سے غریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ساری دنیا کے وسائل چند لوگوں کے قبضے میں آتے جا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا قانون بھی دفاع کرتا ہے۔

آج کے دور میں سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں انسان ایسے ہیں جو کھیتوں اور فیکٹریوں میں کسانوں اور مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں وہ جو کچھ کاشت کرتے ہیں یا فیکٹریوں میں بناتے ہیں وہ ان کے مالکان ان سے لے جاتے ہیں۔ وہ اپنی محبت کے ثمر کے مالک نہیں بنتے۔ ان کی محنت کا سارا ثمر سرمایہ داروں کی جیب میں جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب سودا آزادی سے ہوتا ہے، چونکہ سرمایہ دار مالدار ہے وہ غریب سے اس کی مزدوری خرید لیتا ہے۔ چونکہ مزدور کو اپنی بیوی اور بچوں کے لیے روٹی کپڑا اور مکان خریدنا ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی مزدوری سستے داموں بیچ دیتا ہے۔ وہ سرمایہ دار جب تک چاہے اسے رکھتا ہے لیکن جب مزدور کو کمزور یا بیمار ہوتے دیکھتا ہے تو اسے گھر بھیج دیتا ہے اور نئے مزدوروں سے ان کی مزدوری خرید لیتا ہے۔

انسانوں کا زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا اور بے انتہا نجی جائیداد پر تصرف کرنا انسانیت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ اس مسئلے کو جمہوری نظام بھی اکیلے حل نہیں کر سکتا۔ بہت سے جمہوری ممالک میں جب سیاستدان الیکشن لڑتے ہیں تو اس الیکشن کے لیے سرمایہ دار ان کی مدد کرتے ہیں اور ان سے وعدے لیتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ ان کے منافع کو گزند نہ پہنچنے دیں گے۔ چنانچہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے کے بعد بھی سیاستدان عوام کے حقوق کی حفاظت کی بجائے سرمایہ داروں کی مراعات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ سیاستدانوں کی سیاست کے لیے عوام سے زیادہ اہم سرمایہ دار بن جاتے ہیں۔ سیاستدان الیکشن لڑنے سے پہلے عوام سے وعدے کرتے ہیں لیکن الیکشن جیتنے کے بعد عوام سے کیے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں میں کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں نے انسانی حقوق کی جنگ لڑی ہے یونینز بنائی ہیں اور اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کوششوں سے حالات قدرے بہتر بھی ہوئے ہیں لیکن ابھی بھی بہت ناگفتہ بہہ ہیں۔ کسانوں اور مزدوروں کے استحصال میں کچھ کمی آئی ہے لیکن بہت کم۔ ہمیں ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کرنے کے لیے ابھی بھی بہت ہمت اور محنت کی ضرورت ہے۔

سائنس اور ٹکنالوجی کے جہاں انسانیت کو بہت فائدے ہوئے ہیں وہاں کچھ نقصان بھی ہوئے ہیں۔ بہت سے کام جو پہلے انسان کرتے تھے اب روبوٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے کسان اور مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔

مختلف حریص سرمایہ داروں کے درمیان جو مقابلہ ہوتا ہے اس نے بھی مزدوروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے سرمایہ داروں کو انسانوں سے زیادہ اپنے بینک بیلنس کی فکر دامنگیر رہتے ہیں۔ ملینیر بلیننر بننے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ سوشلزم کا نظام ان مسائل کو حل کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ یہ نظام پہلے انسانی ضروریات کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر ان ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یہ نظام ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظام میں غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کو سرمایہ داروں سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

سوشلسٹ نظام میں طلبا اور طالبات کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ جو بھی کام کریں اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کی خدمت بھی کریں۔ اپنی تعلیم اور تربیت قوم کی فلاح کے لیے بھی استعمال کریں۔ اور ایک پرامن اور انصاف پسند معاشرہ قائم کرنے لیے سب کے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہین یہ سکھایاجاتا ہے اجتماعی مفاد بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ انفرادی مفاد۔ ایک سوشلست نظام میں عوام کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ کوئی بھی شہری بے روزگار نہ ہو۔ وہ نظام جانتا ہے کہ روزگار انسان کی اقتصادی ضرورت ہی نہیں اس کی نفسیاتی ضرورت بھی ہے، اپنے روزگار سے انسان کی عزتِ نفس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ہم ایسا سوشلست نظام بھی نہیں چاہتے جس میں اقتصادی ضرورتوں پر انسان کی انفرادی اور تخلیقی ضرورتوں کو قربان کر دیا جائے۔ اس لیے میری نگاہ میں ہمیں ایسا نظام چاہیے جو جمہوریت اور سوشلزم کا حسیں امتزاج ہو۔ جمہوریت انسان کے انفرادی اور نفسیاتی حقوق کی اور سوشلزم انسان کے سماجی اور معاشی حقوق کی ذمہ داری لے۔ اس طرح انسان کی انفرادی اور سماجی ضروریات میں توازن پیدا ہوگا اور ایک ایسا متوازن نظام قائم ہوگا جو عادلانہ بھی ہوگا منصفانہ بھی اور پر امن بھی۔
[ایسے نظام کی چند جھلکیاں ہمیں ناروے، ڈنمارک، سویڈن اور کینیڈا میں دکھائی دیتی ہیں۔ خالد سہیل]

ایک مثالی معاشرہ انسان کے انفرادی اور اجتماعی ضروریات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس نظام میں عوام ایسے نمائندے چنتے ہیں جن کے لیے قوم کے اجتماعی مفادات ان کے انفرادی مفادات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ وہ سیاسی لیڈر حکمرانی کرنے کی بجائے عوام کی خدمت کرنے کے لیے کام کرتے ہیں اور اپنی قوم کے عدل انصاف اور امن کے خوابوں کو شرمیندہِ تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نگاہ میں سوشلزم انسانیت کے روشن مستقبل کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 144 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail