درہ خیبر پختون تاریخ کا امین


پشاور سے فلائنگ کوچ کے ایک گھنٹہ پر محیط صبر آزما اور بظاہر سہل لیکن مشقت طلب سفر کے بعد بالآخر ہماری گاڑی درہ خیبر میں داخل ہوچکی تھی۔ مجھے پہلی بار یہاں آنے کا موقع ملا تھا۔ اس لیے وقتاً فوقتاً راستے میں ساتھ بیٹھے ہوئے مقامی افراد سے پوچھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ وائی فائی کام نہیں کر رہا تھا۔ اور موبائل پر بھی سگنل نہایت کمزور تھے۔ سو مصروف دنیا کی گرفت سے خود کو بالکل آزاد محسوس کررہا تھا۔ میں قدرت کی حقیقی دلفریبی میں کھوگیا تھا۔ ابھی نو دس کلو میٹر کا فاصلہ باقی تھا۔ ان پرپیچ پہاڑوں پر ایک کلو میڑ ایک منٹ میں طے کرنا بھی نہایت مشکل لگ رہا تھا وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ انتظار کی شدت سے اُکتا کر میں نے کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا دیا۔

جہاں تک نظر جاتی تھی، خشک پہاڑ تھے۔ خاکی رنگ جیسے ان پہاڑوں پہ انڈیل دیا گیا ہو! یا شاید انہوں نے خود ہی خاکی رنگ کی چادر اوڑھ لی ہو! سڑک سے متصل اکثر جگہوں پر گہری کھائیاں بھی تھیں۔ نیچے جھانکنتے ہوئے بندہ خوف محسوس کرتا تھا۔ ان پہاڑوں پہ برف نہیں تھی۔ حالانکہ یہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ لیکن یہاں اتنی خشک سالی ہوتی ہے کہ لوگ بارش کو ترس جاتے ہیں برف کا خیال ہی نہیں آتا۔ لنڈی کوتل شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر میں نے مقامی دوست اور مایہ ناز صحافی راحت شنواری سے رابطہ کرکے انہیں اپنی آمد کی اطلاع دی۔ انہوں نے لنڈی کوتل پریس کلب پہنچ جانے کا کہا۔ لنڈی کوتل پریس کلب پہنچ کر ساتھیوں سے ملا، یہاں پختون ثقافت اور قبائلی اپنائیت کی خوشبو محسوس کی۔ مختصر وقت لنڈی کوتل پریس کلب میں صحافی برادری کے ساتھ خوش گپیوں میں گذارنے کے بعد ہم سب صحافی حضرات نے ایک ساتھ منزل کی جانب روانہ ہونا تھا، ہماری منزل مفتی اعجاز شنواری صاحب کا گھر تھا، جو خیبر ایجنسی کے جمعیت علمائے اسلام کے امیر اور علاقائی سیاست پر گہرا اثر رکھنے والے کھرے سیاسی عالم ہیں۔ تھوڑی دیر بعد راحت شنواری بھائی نے اپنی گاڑی میں مجھے بیٹھنے کا اشارہ دیا۔

راحت شنواری نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ صحافی اور آج کل کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے لیے رپورٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ کمال کا حافظہ پایا ہے۔ پختونوں کی تاریخ لے کر بیٹھ جائیں تو بندہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ مقامی سیاست دانوں کے اکثر حالات و واقعات سے ان کو واقفیت حاصل ہے سرحد پار افغان امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ دیگر صحافی دوستوں کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ہم روانہ ہوئے اور لنڈی کوتل پریس کلب سے خوگہ خیل کے طرف سفر شروع کیا، یہ قریبی گاؤں تھا لیکن ہم ذرا دور سے گاڑی گھما کر لے جانے لگے تاکہ میزبان دوست ہمیں علاقے کے بارے میں بتا سکیں۔ راحت شنواری نے گاڑی ہی میں ساتھی صحافی محراب آفریدی کے ساتھ حتمی بات کرتے ہوئے کہا کہ ولیمہ میں شرکت کے بعد بلال یاسر کو افغان بارڈر تورخم لے جائیں گے اور ریسٹ ہاؤس میچنئی میں ضبران کے ہاں قہوہ پئیں گے، محراب نے ہاں میں ہاں ملادی۔

کچھ دیر بعد گاڑی کچی سڑک پر چلتی ہوئی مفتی اعجاز شنواری کے حجرے کے سامنے رکی۔ یہ شادی سے زیادہ ایک سیاسی جلسہ گاہ کا منظر تھا جس میں نامی گرامی سیاسی شخصیات تشریف فرما تھیں۔ یہاں مقامی روایات کے مطابق ولیمہ ترتیب دیا گیا تھا، کھانوں کو دیکھ کر مقامی روایات نظروں کے سامنے گھومنے لگتی۔ مفتی صاحب نے دل کھول کر ہماری ضیافت کی، ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم ان سے جلدی رخصت ہوگئے، اس کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ افغان بارڈر میچنئی ریسٹ ہاؤس تھا۔ راستے میں پہاڑوں کی اونچائی، نکھری دھوپ اور مزیدار کھانے نے راحت شنواری کو سیگریٹ کا کش لگانے پر مجبور کیا، راحت نے شرمیلے انداز میں سگریٹ سلگانے کی اجازت مانگی ہم نے بھی انہیں ہنس کر اجازت عنایت کی، ڈرائیونگ کرتے ہوئے سگریٹ کا کش لگاکر راحت علاقے کے ایک روایت کا تذکرہ کرتے پھر انہیں اپنا سگریٹ یاد آجاتا تب ان کے ذہن میں دوسری بات بھی آچکی ہوتی۔

مؤرخین کے مطابق درہ خیبر 33 میل طویل ایک درہ۔ اونچے اونچے خشک اور دشوار گزار پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ چوڑائی ایک جگہ صرف دس فٹ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے برصغیر میں شمال مغرب کی طرف سے جتنے فاتح آئے۔ اسی راستے سے آئے۔ انگریزوں نے 1879ء میں اس پر قبضہ کیا۔ درہ خیبر جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم تک چلا گیا ہے۔ جو پاک افغان سرحد کی آخری چوکی ہے۔ خیبر ایجنسی لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے، اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ اس لیے اسے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ یا فاٹا کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر، وفاق کے نمائندے اور صدر پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ان علاقوں کے انتظامی سربراہ ہیں۔ اس کی اکثریت آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم شنواری، ملاگوری اور شلمانی بھی اس علاقے کے باشندے ہیں۔ ان حریت پسندوں نے پورے سو برس تک فرنگی حکمرانوں کے خلاف جہاد جاری رکھا یہاں تک کہ غیر ملکی سامراجیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ خیبر ایجنسی کی اصل اہمیت درہ خیبر ہی کے باعث ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے آنے والے حملہ آور اسی درہ سے گزرکر ہندوستان پہنچتے رہے۔

یہ درہ کیا ہے؟ اونچی نیچی پہاڑیوں کے مابین پیچ وخم کھاتی ہوئی ایک گھاٹی ہے۔ اصل میں یہ راستہ درہ جمرود کے کچھ آگے شادی گھیاڑ کے مقام سے شروع ہو کر پاک افغان سرحد پر واقع مقام طورخم تک پہنچتا ہے جو تقریباََ 33 میل لمبا ہے۔ پشاور شہر سے نکل کر کچھ آگے جاکر جمرود کے مقام پر باب خیبر کے نام سے ایک مشہور خوبصورت گیٹ ہے، درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مین شاہراہ پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ بنایا گیا ہے جسے باب خیبر کہتے ہیں جو مقامی ثقافت کی ایک علامت بھی ہے۔ باب خیبر کا دروازہ جون1963ء میں بنا۔ باب خیبر پر مختلف تختیاں بھی نصب ہیں جن پر اس درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام درج ہیں۔ باب خیبر کے پاس ایک جرگہ ہال بھی موجود ہے جہاں قبائلی نمائندوں کے اجلاس منعقد ہوا کرتے ہیں، جمرود میں ایک اونچے مقام پر مٹیالے رنگ کا قلعہ بھی ہے جس کی شکل و صورت ایک بحری جہاز کے ساتھ ملتی جلتی نظر آرہی ہوتی ہے۔ اس کو سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے 1836ء میں درہ خیبر کی حفاظت کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ لیکن اس کے دوسرے ہی سال مسلمانوں نے ایک معرکہ میں ہری سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ قدم کے قصبہ سے لنڈی کوتل کی طرف بڑھیں تو چڑھائی شروع ہوجاتی ہے سڑک کے دونوں جانب ہزار ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں ہیں۔ لنڈی کوتل اس سڑک پر بلند ترین مقام ہے۔ یہاں سے پھر اترائی شروع ہو جاتی ہے۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے تین بار درہ خیبر کا دورہ کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد 1948ء میں قائداعظم درہ خیبر آئے تو انہوں نے قبائلی عوام پر پورے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قبائلی علاقوں سے فوجیں واپس بلالیں اور مقامی لوگوں کی تعریف کی۔ درہ خیبر پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت اور آمد و رفت کا راستہ ہے۔ میچنئی پوسٹ پہنچ کر مقامی صحافی نمائندہ امت محراب آفریدی کے جانب سے بارڈر کے متعلق بریفنگ دی جا رہی تھی کہ اس دوران میزبان حوالدار چاچا لاجواب قہوہ تیار کرکے ہمارے لیے آنکھیں بچھائے منتظر تھا۔ ہم نے ان کی محبت بھری دعوت قبول کرکے قہوہ نوش کرنا شروع کیا، قہوہ کے ختم ہوتے ہیں ہمارا سفر بھی ختم ہوچکا تھا ہم نے بھی واپس کی راہ لی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
بلال یاسر کی دیگر تحریریں
بلال یاسر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں