یروشلم پر امریکی ویٹو، فلسطین جنرل اسمبلی جائے گا


فلسطین، ریاض المالکی

AFP
فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی کا کہنا ہے کہ ’ہم انھیں (امریکہ ) کو دکھا دیں گے کہ وہ بین الاقوامی سطح پہ وہ تنہا ہے۔‘

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں امریکہ نے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر یروشلم کو تسلیم کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔

سیکیورٹی کونسل کے دیگر 14 اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

اب توقع کی جا رہی ہے کہ فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

کیا یروشلم اب عربوں کا مسئلہ ہے؟

اس سے قبل فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘جہاں نکی ہیلی (اقوام متحدہ میں امریکی سفیر) ویٹو کو فخر اور طاقت کا ذریعہ سمجھتی ہیں وہاں ہم انھیں دکھا دیں گے کہ بین الاقوامی سطح پہ وہ تنہا ہیں اوران کے موقف کو مسترد کیا جا چکا ہے۔’

توقع ہے کہ منگل کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں فلسطینی شہریوں کے حق ارادیت کا موضوع بھی زیر بحث آئے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کو کسی بھی فیصلے کے خلاف ویٹو کا اختیار حاصل ہے لیکن جنرل اسمبلی میں ویٹو نہیں کیا جاتا۔

بین الاقوامی اتفاق رائے سے انحراف کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور کہا کہ وہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کریں گے۔ ان کے اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے۔

فلسطین، محمود عباس

AFP
محمود عباس یروشلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے خلاف مسلم دنیا کو متحد کرنا چاہتے ہیں

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس بدھ کو یروشلم کا دورہ کریں گے جہاں وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک بحران پر بات کریں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے یروشلم کو تسلیم کرنے کے اعلان پر پینس کے ساتھ احتجاجاً ایک ملاقات منسوخ کردی ہے۔ اس کے بجائے اب وہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان اور شہزادے محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

محمود عباس یروشلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے خلاف مسلم دنیا کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد فلسطینی قیادت پہلی بار پیر کی رات ملاقات کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران شہر کے مشرقی حصے کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور پورے یروشلم کو وہ غیر منقسم دارالحکومت کے طور پر دیکھتا ہے۔

ادھر فلسطینی یروشلم شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل میں اپنی ریاست کے دارالحکومت کے طور دیکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4132 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp