سنی لیون کا متنازعہ ماضی؛ ایک اور نقصان


 

بھارتی شہر بنگلور میں ہندو انتہاپسندوں کی دھمکیوں کے بعد حکام نے سنی لیون کو نیو ایئرنائٹ پر رقص کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئے سال کے موقع پر ریاست کرناٹکا کے شہر بنگلور میں ’سنی نائٹ ان بنگلور 2018ء‘ کے نام سے منعقد کیے جانے والے شو میں پرفارم کرنے کے لیے بالی ووڈ کی بے باک اداکارہ سنی لیون کو مدعو کیا گیا تھا تاہم ہندوانتہا پسند تنظیموں کے احتجاج کے بعد حکام نے شو میں سنی لیون کو پرفارمنس کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

شو کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم اس ضمن میں دو سے تین کروڑ روپے لگا چکے ہیں اور اب پولیس نے بغیر کسی وجہ کے شو منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے، ہمیں تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا بس زبانی کہا گیا ہے کہ ہم یہ شو نہیں کرسکتے، ہم اس حوالے سے کرناٹکا کے وزیر داخلہ اور پولیس کمشنر کے پاس بھی جائیں گے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ حکام نے یہ اجازت پولیس نفری کی کمی کے باعث نہیں دی کیوں کہ 31 دسمبر کا دن پہلے ہی بہت حساس مانا جاتا ہے اور جگہ جگہ نفری  تعینات کیے جانے کے باعث ہمارے پاس اتنی نفری نہیں ہے کہ اس تقریب کے گرد تعینات کرسکیں کیوں کہ ممکن ہے کہ اس تقریب میں نقص امن کی صورتحال پیدا ہوجائے اور اس کا قوی امکان موجود ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہندو انتہا پسند تنظیم نے مانیتا ٹیک پارک کے باہر بازوؤں پر سیاہ رنگ کی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ سنی لیون تقریب میں نامناسب لباس پہن کر پرفارم کریں گی جو ہمارے ناقابل برداشت ہے کیونکہ یہ مقامی ثقافت سے میل نہیں کھاتا اور اس عمل سے ہماری ثقافت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اداکارہ نیم برہنہ ہونے کے بجائے مکمل کپڑوں میں پرفارم کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

دوسری جانب پروگرام انتظامیہ نے قابل اعتراض پرفارمنس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے بنگلور کی ثقافت کو مد نظر رکھتے ہوئے پروگرام ترتیب دیا ہے یہ ایک فیملی شو ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں