برسلز میں دہشت گردی


brusselsبلجیم کے دارالحکومت برسلز پر خوف و ہراس اور بے یقینی کی فضا طاری ہے۔ آج صبح ائرپورٹ کے ڈیپارچر ہال میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ بعد میں ہونے والا دھماکہ زیادہ شدید اور خوفناک تھا۔ ان دھماکوں میں درجن بھر افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں لیکن ابھی تک اس بارے میں سرکاری طور سے تصدیق نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی ائر پورٹ پر حملے کی خبر کے بارے میں پوری تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی تھیں کہ شہر کے میٹرو سسٹم پر دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہے ۔ نہ ہی یہ معلوم ہے کہ ان دھماکوں کا کون ذمہ دار ہے۔ تاہم یہ دہشت گرد حملے دو روز قبل دہشت گردی کے الزام میں ایک شخص صالح عبدا لسلام کی گرفتاری کے بعد ہوئے ہیں۔

خیال ہے کہ عبدالسلام نومبر میں پیرس حملوں کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ ان حملوں میں دھماکوں اور فائرنگ کے ذریعے 130 افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس بات کا فوری طور پر پتہ چل گیا تھا کہ حملہ آور برسلز سے آئے تھے اور ان میں بعض بلجیم کے شہری تھے۔ اس وقت سے پولیس مسلسل انتہا پسند عناصر کی تلاش میں تھی۔ تاہم عبدالسلام کی گرفتاری کے دو روز بعد ہی برسلز میں ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ اس شہر میں کافی مضبوط ہیں اور مقامی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ان کی قوت اور ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ برسلز میں حملوں کے بارے میں جو خبریں سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق ائرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خود کش حملے تھے۔ اس کے علاوہ میٹرو اسٹیشنوں پر چار مقامات پر دھماکوں کی خبر آرہی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعدا د میں ناقابل یقین اضافہ ممکن ہے۔

یورپ میں پیرس حملوں کے بعد سے ہی خوف و ہراس کی کیفیت موجود تھی اور ملک میں انتہا پسندوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے شام سے آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات شبہات اور مخالفت میں تبدیل ہوگئے اور اسلام اور مسلمانوں سے نہ صرف خوف محسوس کیا جانے لگا بلکہ اسلام دشمن عناصر کو مقبولیت اور سیاسی قوت نصیب ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ بات متعدد دانشور حلقے اور مسلمانوں کے سمجھدار نمائندے واضح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ دہشت گرد دراصل یورپ میں حملے کرکے ، یہاں آباد مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی قوت میں اضافہ ہو اور معاشروں میں انتشار اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہو۔ یہ جاننے کے باوجود ہلاکتوں اور تباہی کے بعد پیدا ہونے والے خوف کی فضا میں ایک خاص گروہ اور عقیدہ کے خلاف نفرت پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ یورپ میں آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مسلمانوں کے لئے حالات ناسازگار اور مشکل ہوں گے۔

دہشت گردوں نے بلجیم کو نشانہ بناتے ہوئے ضرور یہ ذہن میں رکھا ہوگا کہ یہ ملک یورپین یونین اور نیٹو کا ہیڈ کوارٹر ہونے کی وجہ سے علامتی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ کمزور حکومت اور سیاسی انتشار کے سبب اس چھوٹے ملک کے اندر اپنے ٹھکانے بنا لینا آسان سمجھا گیا ہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یورپ بھر میں کمزور اور اوسط صلاحیت کے لیڈر حکمران ہیں۔ ایسے لیڈر سامنے آنے والے چیلنج کی صورت میں صرف مقبول اقدامات کرنا ہی مناسب سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیرس حملوں کے بعد پورے بر اعظم کی حکومتیں مسلمان اقلیتوں کا تحفظ کرنے اور ان کا اچھا نمائندہ بننے میں ناکام رہی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ برسلز حملوں کے بعد اسی یک طرفہ اور مقبول عام رویہ کا مظاہرہ ہوگا ۔ قوانین کو سخت کیا جائے گا اور مسلمان آبادیوں کے لئے حالات کار مزید مشکل ہو جائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسے اقدامات دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بننے کی بجائے ، ان کے عزائم کی تکمیل میں معاون ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali