پاکستان کا مطلب کیا ….


thumbnail

 پون صدی قبل لاہور میں ہندوستان کے مسلمانوں نے خودمختار مملکت حاصل کرنے کی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ میں منظور ہونے والی قرارداد میں ایک مقصد کا تعین کیا گیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں سات برس کی قلیل مدت میں اس مقصد کی تکمیل یوں ہوئی کہ ہندوستان کے مسلمان برصغیر سے انگریز کی روانگی کے وقت پاکستان کے نام سے علیحدہ مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ یہ ایک قوم کے عزم اور ایک قائد کی استقامت اور اولالعزمی کی داستان تھی۔ تاہم آج جب ہم اس قرارداد کا یوم منانے کی تیاری کر رہے ہیں تو ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ جو مقصد سات برس میں حاصل کر لیا گیا تھا، اسے فراموش کرنے اور بے شمار قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی آزادی کو عملی غلامی میں بدلنے میں گزشتہ ستر برس کیسے صرف ہوئے۔ ہم سب ایسے متعدد مباحث کے گواہ ہیں جو کیوں، کیسے اور اگر مگر وغیرہ کے لاحقہ سے شروع ہوتے ہیں لیکن آج کا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس امانت کی حفاظت میں کامیاب ہیں جو ہمارے بزرگوں نے کسی نہ کسی صورت حاصل کر کے ہمارے حوالے کی تھی۔

اس سوال کے بہت سے جواب ہو سکتے ہیں۔ ہر سوال کے جواب میں تاریخ سے دلیل لائی جا سکتی ہے۔ غلطیوں کی نشاندہی ہو سکتی ہے اور بتایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کیوں کر اپنے نصف حصے سے محروم ہو گیا اور پھر کیسے نظریہ پاکستان کو اچانک خطرہ لاحق ہو گیا۔ اور یہ بھی کہ نظریہ پاکستان کا مطلب وہی ہے جو صرف ایک نعرے میں سما جاتا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا …. لا الٰہ الااللہ ۔ اس کے باوجود عملی صورتحال یہ ہے کہ ہم چھوٹے سے لے کر بڑے معاملات تک میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ افواہ سازی اور ایک دوسرے پر شک کرنا قومی مزاج کا اہم ترین حصہ بن گیا ہے۔ کسی کی دیانت اور پارسائی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول معاشرے کے ہر شعبے میں نافذ ہے۔ اس کی مثال ہر دس بارہ برس بعد کوئی فوجی جرنیل قائم کر دیتا ہے اور باقی لوگ لاشعوری طور پر اس مثال کی پیروی کرتے ہیں۔ ان میں عام شہری بھی شامل ہیں جو اپنی ہی منتخب حکومت سے ذرا سی بات پر ناراض ہو کر فوج کو زمام اقتدار سنبھالنے کی دعوت دینے لگتے ہیں اور وہ سارے سیاسی لیڈر بھی اس کا حصہ ہیں جو دعویٰ تو عوامی نمائندے ہونے کا کرتے ہیں لیکن سوال برداشت کرتے ہیں اور نہ اختلاف۔ وہ اپنی پارٹی اور گروہ پر مطلق العنانیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر تھوڑے عرصے بعد کسی پارٹی کا کوئی تابعدار بھی جب یہ گر سیکھ لیتا ہے کہ وہ خود کیوں کر خودمختار اور فرمانروا بن سکتا ہے تو وہ اپنی نئی پارٹی بنا کر اپنا شوق پورا کر نے لگتا ہے۔

یوں تو اس ملک میں آباد سارے لوگ ایک آئین پر متفق ہیں اور اس کی حفاظت پر اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے طریقے سے ہر کوئی اس آئین کے پرخچے اڑانے کے لئے کوئی مناسب اور محفوظ راستہ بھی تلاش کر لیتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اکثریت کی بنیاد پر، جرنیل طاقت کی بنیاد پر، عوام محرومی کی بنیاد پر اور ملا اسلام اور عقیدے کے نام پر۔ اس کے مظاہر ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لئے ان کی تفصیل میں جائے بغیر بھی بات سمجھی اور سمجھائی جا سکتی ہے۔ اس مزاج اور رویہ کے چند نمونے تو حال ہی میں سامنے آ چکے ہیں اور ملک کا میڈیا ان کے مناظر دکھا دکھا کر قوم کو باور کروا رہا ہے کہ قانون کا احترام اور آئین کو حرف آخر ماننا صرف کمزور اور بے بس لوگوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک ریٹائر جنرل ہیں تو قتل کے مقدمہ میں گرفتاری کا وارنٹ بھی آپ کے دروازے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور اگر آپ نے آئین شکنی بھی کی ہے تو بھی قومی مفاد، ادارہ جاتی مفاہمت، سیاسی ضرورتوں اور معاشرے میں امن کے نام پر باوقار طریقے سے آپ ملک سے باہر روانہ ہو سکتے ہیں۔ حکمران پہلے آپ کو روانگی کا پروانہ دیں گے پھر یہ دعویٰ داغ دیں گے کہ اگر غداری کے مقدمہ کا سامنا کرنے اور موت کی سزا بھگتنے کے لئے آپ واپس نہ آئے تو انٹرپول آخر کس روز کام آئے گا۔ ہم اس کے ذریعے ” گھسیٹتے ہوئے“ آپ کو واپس لے کر آئیں گے۔

ایک مثال مصطفی کمال اور ان کے ساتھی کراچی میں قائم کر رہے ہیں۔ پیغام سادہ اور صاف ہے۔ آپ قانون بھی توڑیں اور آئین سے غداری بھی کریں۔ دشمن سے ہاتھ جوڑی بھی کریں اور ملک میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا حصہ بھی بنیں۔ لیکن اگر آپ کو وقت کے تقاضوں کا احساس ہے اور اگر آپ بدلتے وقت کے ایسے ہی کسی موڑ پر گردش فلک کی درست تفہیم کا ہنر جانتے ہیں تو ان سارے جرائم کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنی اہمیت اور حب الوطنی کی سند فراہم کر سکتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھے گا کہ میاں منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اسی طرح اگر آپ مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی صوبائی اسمبلی ایسا قانون منظور کر سکتی ہے اور حکمران ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں کہ آپ آسانی سے اسلام کے محافظ بن کر میدان عمل میں اتریں اور حکمرانوں کو ہراساں اور عوام کو حیران کریں۔ نہ آئین آپ کا راستہ روک سکتا ہے اور نہ قانون آپ کے راستے کی دیوار بنے گا۔ یہ سب تو بنائے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ کوئی انہیں توڑے تا کہ پھر رفو گری کا کام ہو سکے۔

ایسے میں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان بنانے کی جدوجہد کرتے ہوئے محمد علی جناح کے دل و دماغ میں ریاست اور اس میں اصول انصاف کی بالا دستی کا کون سا تصور موجود تھا۔ کیا ہو گا اگر نظریہ پاکستان کو مسلمان کی حفاظت کی سیاسی ضمانت قرار دینے کی بجائے نظام اسلام کے نفاذ کا منشور قرار دیا جائے۔ کون پوچھے گا کہ مساوات، انصاف اور جمہور کے حق انتخاب کا احترام ہو رہا ہے یا نہیں۔ جب ہم سب نے مل جل کر مگر مختلف نعرے لگاتے ہوئے یہ طے کر لیا ہے کہ ہمیں نظم و ضبط اور یقین محکم کی بجائے ہر دم، ہر آن موقف بدلنے اور اپنے مفاد کے لئے چولا تبدیل کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ زمانہ گواہی دے رہا ہے کہ ہم نے اس شعبہ میں یدطولیٰ حاصل کیا ہے۔ ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ ہمارا ثانی تلاش کرنا ممکن نہیں۔ ہم شریعت کے نفاذ میں اتنے مگن ہو گئے کہ فرد کی یہ تربیت کرنا بھول گئے کہ مسجد میں وضو کا لوٹا اور پانی پینے کا گلاس سب کے لئے ہوتا ہے۔ اسے ذاتی ملکیت سمجھ کر اپنے قبضے میں لینے سے گریز کیا جائے۔ ایک ایسا سماج تشکیل دینے میں بھی ہم بے مثال ہیں جہاں باپ کی دست درازی سے تنگ آئی ہوئی بیٹیاں اگر عاجز آ کر اس بدبخت کو سزا دینے کی ٹھان لیں تو ہم ایسی لڑکی کو سنگدل بیٹی کا خطاب دیں گے۔ اپنی ہی ماﺅں بہنوں کو محکوم اور بے عزت کریں گے اور اسے غیرت کا نام دیں گے اور پھر اسی غیرت کے نام پر ان کی جان لیں گے۔ اگر اس کی نشاندہی ہو گی تو وہ قوم کے وقار سے غداری کہلائے گی۔ ہم ان ہاتھوں میں گاڑیاں صاف کرنے کے کپڑے تھما دیں گے، جنہیں اسکول کے بینچ پر بیٹھنا چاہئے اور خود اپنے بچوں کو امریکہ کے اسکولوں میں پڑھانے کے لئے قومی خزانے میں نقب لگائیں گے۔ گھریلو ملازمہ اگر نظر بچا کر مہمانوں سے بچے ہوئے مرغ مسلم سے ایک بوٹی کھا لے تو اس بے ایمانی کی سزا دینے کے لئے ہم ہر قانون توڑنے پر آمادہ ہوں گےلیکن رشوت یا نذرانے میں ملنے والے لاکھوں روپے قانون و آئین کے ہوتے ہوئے بھی ہم پر حلال ہوتے رہیں گے۔

سوچنا چاہئے کہ اگر یہ سب ہی ہونا ہے۔ یہ سب ہی کرنا ہے۔ یہی اگر اس قوم کا نصب العین ہے تو پاکستان کا مطلب کیا کے بعد آپ لا الٰہ الااللہ کہیں یا لبرل اور سیکولر پاکستان کا نعرہ لگائیں، نماز روزے کی بات کریں یا آزادی اور انصاف کی۔ اسلامی شریعت نافذ کریں یا عقیدہ سے ماورا قانون رواج پائیں …. فرق کیا پڑے گا۔ مساجد پر قفل تو لگے رہیں گے اور جب یہ قفل کھولا جائے گا تو نمازیوں کے ہجوم کے ساتھ کوئی ایسا شخص بھی اندر داخل ہو گا جو اسلام نافذ کرنے کے اس انوکھے طریقے پر ایمان رکھتا ہے کہ خود بھی مر جاﺅ کہ یہی راہ حق کی سب سے اعلیٰ منزل ہے…. دوسروں کی جان بھی لے لو کہ وہ سب گمراہ ہیں۔ کوئی نہ کوئی حق پرست کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گھر، کسی محلے، مدرسے یا دور افتادہ ٹریننگ سینٹر میں جنت میں جانے کی تیاری کر رہا ہو گا۔ آپ جھگڑتے رہیئے کہ انہیں اسلام نافذ کر کے روکنا ہے یا اسلام کو نظر انداز کر کے۔ وہ اپنا کام کرتے رہیں گے کیونکہ ان کے کانوں میں جو سبق انڈیلا جا رہا ہے، وہ تباہی و بربادی کے حریص سوداگر بڑی محنت سے ازبر کرواتے ہیں۔ ان سوداگروں کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں۔ لین دین کی کسی نہ کسی منزل پر ان سے معاملہ طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ کبھی قومی مفاد کہلاتا ہے، کبھی مجبوری اور کبھی ضرورت۔ تو طے ہوا کہ ہمارے راستے کہیں نہ کہیں ملتے ہیں۔

ایسے ہی سوداگروں کے بھیجے ہوئے چند ہرکاروں نے آج برسلز میں تباہی پھیلا دی۔ درجنوں لوگوں کی جان لے لی۔ خوفزدہ شہری اور حیران سکیورٹی فورسز یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام نافذ کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے۔ ہم نے تو ان کے پرکھوں کو پناہ دی تھی۔ اب ان کی اولادیں ہم سے ہمارے کس جرم کا حساب لے رہی ہیں۔ جواب تو کسی کے پاس نہیں ہے۔ نفرت البتہ ٹنوں کے حساب سے میسر ہے۔ آج برسلز سے اس کا طوفان اٹھا ہے، کل پیرس سے یہ آندھی چلی تھی …. نشانے پر تو مسلمان ہیں۔ اسلام ہے۔  اس کی حقانیت، سچائی اور بھلائی و خیر کا پیغام ہے۔ یہ سارے معاملات تو دور دیس میں رونما ہو رہے ہیں۔ کافروں کے ان ملکوں سے ہمارا کیا لینا دینا۔ آئیں ہمیں تو یوم قرارداد پاکستان …. یوم جمہوریہ پاکستان …. یوم پاکستان منانا ہے۔ اس کامیابی کا جشن منانا ہے جسے ناکامی میں بدلنے کے لئے ہم نے ستر برس گنوا دئیے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “پاکستان کا مطلب کیا ….

Comments are closed.