میاں بیوی میں خاموشی خوشی کا راستہ ہے


دوران بحث ایک غضب ناک خاتون نے ونسٹن چرچل سے کہا ” اگر تم میرے شوہر ہوتے تو میں تمہاری کافی میں ز ہر گھول دیتی۔ “ چرچل نے بر جستہ جواب دیا ”اگر آپ میری بیوی ہوتیں تو میں وہ کافی پی لیتا۔ “

بات تو سچ ہے کہ کچھ حضرات کو مغلوب الغضب اہلیہ کے ستم سہنے پڑتے ہیں اور کچھ خواتین کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے گویا دونوں طرف آگ ہے برابر لگی ہوئی۔ ہر روز کتنے ہی مزاحیہ چٹکلے ازدواجیات کے موضوع پر چھو ڑے جاتے ہیں اور اکثریت ان سے لطف اندوز بھی ہوتی ہے۔ کیا کریں اپنی بے بسی پر مسکرانا تو اپنے بس میں ہے ناں۔ ویسے بھی اپنی غلطی تسلیم کر کے خاموش ہو جانے والے کو عقل مند اور حق پر ہونے کے با وجود خاموش ہو جانے والے کو شادی شدہ کہتے ہیں۔

سچ پوچھئے تو پر امن شادی شدہ زندگی کا راز نازک مواقع پر خاموشی اختیار کرنے میں ہی پنہاں ہے۔ میری ایک عزیز دوست کی نظر خاصی کمزور تھی جب ان کی شادی کی بات چلنی شروع ہوئی تو انہوں نے لینس استمعال کرنے شرو ع کر دیے جس کی وجہ سی کسی کو ان کی کمزوری نظر کا علم نہ ہو سکا۔ شا دی کی اگلی صبح بے دھیانی میں چشمہ لگا ے کھانے کے میز پر پہنچیں تو ساس صاحبہ نے آ ڑے ہاتھوں لیا۔ ارشاد فرمایا میکے کی عزت کا بڑا خیال تھا وہاں چشمہ نہیں لگایا اب ہماری کوئی عزت نہیں کہ یہاں آتے ہی چشمہ لگا کر بیٹھ گئیں۔ اب آپ بتا ییئے کیا سسرالی عزت اتنی نازک ہوتی ہے کہ نظر کا چشمہ لگانے سی مجروح ہو جائے۔ خیر ہماری دوست نے معاملہ فہمی کا ثبوت دیتے ہوئے خاموشی اختیار کی اور سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کی اس واردات کو در گزر کر دیا۔

دیکھا تو یہ گیا ہے کہ نو بیاہتا لڑکی کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے جیسے اس نیے آ شیانے میں ہر شخص ایک نا دیدہ خورد بینی عینک لگا ئے ہوئے ہے جس کی مدد سے آنے والی مخلوق کے عیب ہزاروں گنا بڑے کر کے دیکھے جا رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اس عینک میں آنے والی کی خوبیاں خود کار طریقے سے حذف ہوتی جا رہی ہیں۔

بسا اوقات شوہر صا حب کی آزادی بھی بیوی کی آمد سے سلب ہو جاتی ہے۔ اوپر سے اہلیہ صاحبہ بھی اس پرندے کے پر کتر کر اتنی ہی اڑان بھرنے کی اجازت دیتی ہیں کہ کنٹرول ٹاور سے زیادہ دور نہ جا سکے۔ انہی نا مسا عد حالات کی بنا پر یہ معصوم پرندے صیاد کے میکے کے قصد کا سن کر اتنا اظہار خوشی کرتے ہیں کہ ان کی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلیہ اپنا سفر ملتوی کر دیتی ہیں۔

ہماری تو یہی تجویز ہے کہ ہنسی خوشی زندگی گزاریں، کہی سنی نظر انداز کر کے اپنی اپنی تلواریں نیام میں رکھ لیں۔ جئیں اور جینے دیں۔ رضائے الہی نے ساری کائینات میں آپ دونوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے، اس ساتھ کو نا گوار باتوں پر خا مو شی اختیار کر کے خوشگوار بنا ئیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں