کمال اینڈ کمپنی اور الطاف حسین


تنویر آرائیں

tanvir

3 مارچ سے ڈیفنس کراچی کے ایک بنگلے سے اٹھنے والے شعلوں نے ملکی اور بالخصوص کراچی کی سیاست میں طلاطم برپا کیا ہوا ہے۔ مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی جو کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اہم نہیں بلکہ طاقتور ترین رہنما تصور کیے جاتے تھے انہوں نے اپنے سابقہ قائد کو اسی طاقت سے للکارنا شروع کر دیا جس طاقت سے وہ متحدہ میں ہوتے ہوئے دیگر لوگوں کو للکارتے تھے اور الطاف حسین یا ایم کیو ایم الطاف پر دو دہایوں سے بھی پہلے سے لگنے والے الزامات کو دوہراتے ہوئے انھیں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے ایجنٹ کے لقب سے نواز ڈالا بلکہ الطاف حسین کو اردو بولنے والوں کا دشمن اور ان سے غداری کا مرتکب ٹھہرا دیا۔ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے دونوں حضرات ابھی تک کوئی مؤثر دلائل یا ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

یہ وہی مصطفیٰ کمال ہے جنہیں دو اڑھائی دہائیاں پہلے الطاف حسین گلی کوچوں سے پکڑ کر نائن زیرو لاۓ تھے اور ایک ٹیلیفون آپریٹر سے بہترین میئر تک کا سفر انگلی پکڑ کر طے کروایا تھا اور موصوف ایک معروف شخصیت بن کر ابھرے ۔ جی بالکل!  یہ وہی مصطفیٰ کمال ہے جو الطاف حسین کو “را” کا ایجنٹ، اردو بولنے والوں کا دشمن، یا غدار نہیں بلکہ الطاف بھائی، قائد تحریک، کہتا تھا اور ان کے خلاف بات کرنے والوں کو براہ راست ٹی وی ٹاک شوز میں سیکنڈز میں بے عزت کر دیتا تھا یہاں تک کہ دھمکیاں تک دیتا تھا۔ مصطفیٰ کمال واحد نہیں جو الطاف حسین کے ہاتھوں سے تراشہ گیا ایسے بیش بہا لوگ ایم کیو ایم کے اندر اور باہر موجود ہیں۔ جن میں سے چند ایک مصطفیٰ کمال کے ڈیفنس والے بنگلے میں رکھی گئی نئی نویلی کرسیوں پر براجمان ہیں۔ ایسے کئی چہرے ہیں جنہیں الطاف حسین نے تراش کر پاکستان کی سیاست میں اہم چہروں کے طور پر ابھارا ہے۔

آج پاکستان کی تقریباً سبھی سیاسی پارٹیاں یا سیاسی کھمبے الطاف حسین کی فیکٹری سے بننے والی پروڈکٹ کے الزامات پر یقین باندھے الطاف حسین یا ایم کیو ایم کو تو نفرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں یا ان کے خلاف خطابت فرما رہے ہیں، مگر اس نومولود نامعلوم سیاسی پارٹی کے اکابرین پر کوئی بھی سوال اٹھانے کے لئے تیار نہیں کہ بھئی! یہ جو ضمیر نامی شے آج جاگی ہے یہ گزشتہ دو اڑھائی دہائیوں میں کیوں حرکت نہ کر سکی ؟ الطاف حسین کے ایجنٹ ہونے کی وہی 1990 میں نظامی گروپ کے قیام یا اس کے بعد “حقیقی” یا پھر “بیک گروپ” کے وجود میں آتے وقت کیوں کر یہ ضمیر سویا رہا ؟ ایم کیو ایم پر بھرتی خفیہ ایجنسی سے مدد یا رقم لینے کے الزامات تو پرانے ہیں اور جرائم میں ملوث ہونے کی خبریں بھی عرصہ دراز سے مختلف جریدوں یا کمیشن یا پھر کمیٹیوں کے صفحات کی زینت بنتی آ رہی ہیں، یہ ضمیر اس وقت کیوں نہ جاگا ؟ آج آپ پر یہ الہام کیسے ہوا کہ ساؤتھ افریقہ یا بھارت کے سیٹ اپ کے لڑکے کراچی میں کام کر رہے ہیں، ماضی میں اس کی خبر کیوں نہ ہوئی ؟ جب کہ آپ دونوں ایم کیو ایم کے ہر فعل سے واقف تھے۔

ہمارے ملک میں بیٹھے سیاسی یا صحافتی اکابر جو اس وقت کمال اینڈ کمپنی کی “جے جے” کر رہے ہیں وہ یہ سوال کبھی نہیں پوچھیں گے کیوں کے ایک ہی آقا کی خوشنودی کے لئے دونوں کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی آقا ہے جو اس ملک کے فیصلے کرتا ہے اور جس نے 1992 میں ایم کیو ایم کے دو رہنماؤں آفاق احمد اور عامر خان پر مشتمل “ایم کیو ایم-حقیقی” کی بنیاد ڈالی تھی اور دونوں کو آدھا آدھا کراچی بانٹ دیا تھا، دونوں کے مسلح لوگ “انہیں” کی مدد سے ایم کیو ایم الطاف کے سیکٹروں اور یونٹوں کے عہدیداران اور دفتروں پر دھاوا بول رہے تھے اور علاقوں پر قبضہ جما رہے تھے۔ اس وقت کراچی کو انڈرورلڈ بنا کر دو گینگز میں بانٹا گیا تھا اور ان گینگز کو اسلحے سے لیس کیا گیا تھا۔ یہ گینگز قتل و غارت میں مصروف عمل تھے اور گینگز کی مدد “وہ” کر رہے تھے۔ اس وہ کا ذکر خود مصطفیٰ کمال بھی کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ “ٹرکوں میں بھر بھر کے لاۓ گئے”۔

مصطفیٰ کمال اور انیس قائمخانی متحدہ کے طاقتور ترین رہنما تھے اور ان کی پارٹی میں اہمیت اور طاقت میں خود اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے دوران دیکھ چکا ہوں۔ یہ دونوں پاکستان میں متحدہ کے طاقتور ترین رہنما تصور کے جاتے تھے جبکہ محمّد انور اور طارق میر لندن میں متحدہ کے طاقتور ترین رہنما ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انیس قائمخانی شہر میں مبینہ طور پر جرائم یا بھتہ خوری کی وارداتوں کے احکامات حماد صدیقی کے ذریعے دیا کرتے تھے۔

متحدہ کے ایک سابقہ رہنما، جو اب متحدہ میں نہیں ہیں، نے مجھے بتایا کے کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابقہ انچارج حماد صدیقی، انیس قائمخانی، محمّد انور اور طارق میر متحدہ میں ایک چین تھے۔ اس چین کی اجازت اور خوشنودی کے سوا کوئی بھی متحدہ رہنما، MPA، MNA، یا ذمہ دار الطاف حسین سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کے ان کی شکایات الطاف حسین تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ جبکہ انیس قائمخانی جو کہ خوف کی علامت تھے ان سے بھڑنے کا خطرہ کوئی بھی نہیں مول لیتا تھا۔

اگر الطاف حسین “را” کے ایجنٹ ہیں تو یہ بھی اس کے سہولت کار رہے ہیں اس جرم کی پاداش میں ایم کیو ایم رہنما قمر منصور اور کیف الوری کی طرح رینجرز کو انھیں بھی تحویل میں لینا چاہیے مگر اس کے برعکس انہیں سیکورٹی مل رہی ہے اور خاردار تاروں سے ان کے گھر کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

ایم کیو ایم کے خلاف بننے والا یہ چوتھا دھڑا بھی ماضی کے تینوں دھڑوں کی طرح ناکام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور ایم کیو ایم کے ورکرز کے دلوں میں الطاف حسین یا متحدہ کے خلاف نفرت اور اپنے لئے موزوں رویہ رکھنے میں ناکام ہو گا۔ ایم کے ایم کے خلاف بننے والے دھڑوں کی ناکامی کی وجہ الطاف حسین کا نظریہ ہے جس کے مد مقابل کوئی بھی دھڑا متبادل نظریہ نہیں دے سکا ہے یا دینے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ متحدہ کے ورکرز الطاف حسین کے نظریاتی کارکن ہیں جس کی سب سے اہم مثال یہ ہے کے 90 دن تک رینجرز کی تحویل یا کسی اور ادارے کی تحویل میں رہنے کے باوجود چھوٹتے ہی سب سے پہلے متحدہ مرکز نائن زیرو پر پہنچتے ہیں۔ متحدہ کے خلاف دھڑے بنانے والوں کو وہ دھڑے کامیاب اور متحدہ کو نقصان پہنچانے کے لئے الطاف حسین کے نظریے کا متبادل ایک مظبوط نظریہ دینے کی ضرورت ہے جو کے “ان” کے بس کی بات نہیں۔ باقی یہ جو لوگ ڈیفنس میں کھچڑی پکا رہے ہیں ان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ یہ اردو بولنے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے کوئی نظریہ دیں۔


Comments

FB Login Required - comments