گڑھ مہاراجہ، مختارمسعود اور خیابان پہلوی


عدنان خان کاکڑ نے اپنے کالم میں آخرکار ہمارے شہر گڑھ مہاراجہ کو بھی کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔ بات تو ان کی ٹھیک تھی کیونکہ آٹھ عشرے ہونے کو ہیں ہندو راجے مہاراجے بغلوں میں بت دبائے رام رام کرتے ہندوستان سدھار گئے، مگر ظلم یہ کہ ہمارے شہر کا نام آج تک گڑھ مہاراجہ رہا۔

اس لئے ہم نے کاکڑ صاحب کے صائب مشورے پر سنجیدگی سے غور کر کے“ گڑھ مہاراجہ“ کو ” گڑھ مسلمانہ“ سے موسوم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر ہم ٹھہرے پکے مسلمان تو نام کے ساتھ ساتھ اس کی ہندوانہ ترکیب اور وزن سے بھی جان چھڑانے کی سوجھی، اس لئے نیا نام ”مسلم آباد“ تجویز ہوا جو کہ خالصتا اسلامی ہے۔ الحمدللہ۔

غیراسلامی ناموں سے کسی بھی وقت اسلام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس لئے برادران اسلامی کا بنیادفریضہ ہے کہ جہاں کسی قصبے، شہر، سڑک یا گلی کوچے کا غیراسلامی نام نظر آئے فورا تبدیل کریں خواہ ایسے ناموں سے کتنی ہی تاریخی یادیں کیوں نہ جڑی ہوں۔
سلطانی ”اسلام“ کا آتا ہے زمانہ۔ جو ”نام کہن“ تم کو نظر آئے مٹا دو

اب کوئی یہ سوال نہ کرے کہ ”حجاز مقدس“ جیسے تاریخی نام کو جو حضرت ابراہیم کے دور سے چلا آ رہا تھا بیسویں صدی میں اسے تبدیل کرکے سعودی عریبیہ کیوں رکھ دیا گیا؟ کیا حجاز بھی غیراسلامی نام تھا؟ یا اخی! ایسا مہمل سوال مت کریں جس سے ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔

اوّل خویش بعد درویش کا کچھ لحاظ کرتے ہوئے آج سعودی عرب نہیں پہلے اپنے ہمسایہ ایران چلتے ہیں۔ برادران و خواہران! دیکھو تو انقلاب اسلامی کے بعد ملک کے گلی کوچوں اور دانشگاہوں کو کیسے وارد اسلام کیا گیا۔ آپ تعجّب مت کیجئے گا بس حق الیقین رکھیے کہ خیابانوں کا ہی نہیں تعلیمی اداروں کا بھی کوئی نہ کوئی مسلک اور آئیڈیالوجی ہوتی ہے۔ اسی لئے تہران کی آریامہر یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکےصنعتی شریف یونیورسٹی رکھا گیا۔ آریامہر شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا لقب تھا جس نے یہ شاندار یونیورسٹی بنوائی تھی۔ بنوائی ہوگی! لے جاتا اپنی باقیات الصالحات کو اپنے ساتھ۔ ہم تو اس کا نام کہن مٹا کر دم لیں گے۔ تاریخی حقائق مسخ ہوتے ہیں تو بھلے ہوں، اسلام کو خطرات سے بچاؤ۔ ایران میں سائنسی علوم کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی جو کوششیں ہوئیں وہ خود ایک داستان ہے جس کا ذکر پھر کبھی۔ کاکڑ صاحب اب آپ اوپن یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی پر یہ کہہ کر تعجّب مت کیجئے کہ:“ پیپلز یونیورسٹی اب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کہلانے لگی ہے۔ پیپلز کا بھلا تعلیم سے کیا لینا دینا؟ ویسے بھی یہ گمراہ کن نام ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کی یاد دلاتا تھا“۔

مارچ 2009 میں تعلیم کے حصول کے لئے ایران جانا ہوا تو تہران اپنا مسکن ٹھہرا۔ دو چار ماہ میں گھوم پھر کے شہر کے بیشر پارک، بازار، شاہی محل، میوزیم اور کتابخانے دیکھ ڈالے۔ خیابانوں اور شاہراہوں کے نام تک ازبر ہوگئے۔ انہی دنوں مختار مسعود کی کتاب ”لوح ایّام“ ہاتھ لگی تو تہران کے بارے میں جہاں معلومات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا وہاں ایک مشکل یہ پیش آئی کہ وہ تہران کے جس پارک، بازار اور خیابان کا تذکرہ کرتے مجھے لگتا شایدمیں نے اسے نہیں دیکھا، حالانکہ میں تو شہر کے تقریبا تمام قابل دید اور معروف مقامات دیکھ چکا تھا۔ دراصل مختار مسعود نے بیسویں صدی میں تہران کے جن پارکوں اور خیابانوں کا نام لیا تھا وہ نام ہماری اکیسویں صدی میں قصّہ پارینہ بن چکے تھے۔ یا الوالالباب! کیا انقلاب سے قبل اور انقلاب کے بعد خیابانوں کے نام ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟

مختار مسعود صاحب 1978ء میں آر۔ سی۔ ڈی تنظیم (موجودہ ای۔ سی۔ او) کے ڈائریکٹر کے طور پر تہران گئے۔ پہلوی دور حکومت کے آخری چند ماہ دیکھے، انقلاب آتا دیکھا اور 1982 تک وہاں رہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب پرکیا شاندار کتاب لکھی۔ تاریخ اور ادب دونوں میں لاثانی شاہکار۔ لوح ایّام اور تہران کے تعلق پر تفصیلی تبصرہ کسی اور کالم میں، (انشاللہ)۔

بات ہو رہی تھی پارکوں اور خیابانوں کے ناموں کی تو پرانے نام مجھے کون بتاتا۔ انقلاب کو آئے تین عشرے ہوچکے تھے۔ پہلوی دور کی سب یادیں مٹ چکی تھیں۔ وہ انقلاب ہی کیا جو نقش کہن کو مٹانے کی صلاحیّت سے عاری ہو۔ میں نے تیس سال پیچھے جاکر پہلوی دور کے تہران کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا شہر کے مرکز میں واقع خوبصورت ”پارک لالہ“ (جہاں میں ہر صبح ورزش کے لئے جاتا تھا) وہی پارک ہے جسے مختار مسعود نے ”پارک فرح“ کے نام سے یاد کیا ہے۔ اب میں سمجھا بھلا رضا شاہ پہلوی کی ملکہ فرح دیبا کے نام سے موسوم اس پارک کا نام اسلامی حکومت میں کیونکر باقی رہ سکتا تھا۔ تہران یونیورسٹی سے چند میٹر کے فاصلے پر موجود شہر کا سب سے بڑا چوک (جہاں آئے روز میں پرانی کتابوں کی دکانوں پر نایاب کتابوں کی تلاش میں آتا تھا) جسے ”میدان انقلاب“ کہا جاتا ہے یہ پہلوی دور میں خیابان شاہ رضا کہلاتا تھا۔ بھلا پہلوی شہنشاہ کے نام کا چوک کیونکر محفوظ رہتا۔

ارباب انقلاب نے ہر اس چیز کا نام بدل دیا جو کسی طرح بھی پہلوی دور کی یاد تازہ کرسکتی تھی۔ شہنشاہ کورش (خسرو/ ذوالقرنین) ایرانیوں کے ہاں خاص احترام رکھتا ہے مگرتہران میں اس کے نام سے موسوم خیابان کورش اور اس سے ملحقہ پارک کورش کا نام بھی بدل کر خیابان شریعتی اور پارک شریعتی رکھ دیا گیا۔ عظیم ساسانی بادشاہ کورش کی یاد شاید اس لئے مٹانے کی کوشش کی گئی کہ رضا شاہ پہلوی نے تخت جمشید اورقدیمی شہر پاسرگاد میں کورش کی قبر پر ایرانی شاہنشاہیت کا ڈھائی سو سالہ پرشکوہ جشن منعقد کیا تھا۔

تہران میں ہی انقلاب کی برکت سے خیابان اتاترک کا نام بدل کر خیابان کاشانی، خیابان اشرف پہلوی(رضا شاہ پہلوی کی بہن) کا نام خیابان دستغیب، خیابان تخت جمشید کا نام خیابان طالقانی اور خیابان پہلوی کا نام خیابان مصدّق رکھ دیا گیا۔ جب محمد رضا شاہ پہلوی کے نام سے جڑی سب یادوں کو محو کرنے میں مصلحت سمجھی گئی تو بھلا اس کے مغربی آقاؤں کے نام سے موسوم خیابانوں کے نام کیسے باقی رہ سکتے تھے۔ اس لئے خیابان روزویلٹ، خیابان آئیزنہاور، خیابان چرچل اور خیابان الیزہ بیتھ وغیرہ کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے۔ البتہ بھلا ہو انقلابیوں کا جنہوں نے ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال کے نام پر موجود خیابان دکتر اقبال میں جزوی تبدیلی پر اکتفا کیا اور اسے خیابان اقبال لاہوری بنا دیا۔ اس طرح اقبال کا اقبال بلند رہا اور کسی ناخوشگوار افتاد سے محفوظ رہا۔ ویسے بھی اقبال ہمارے تھوڑی ہیں وہ آدھے سے زیادہ تو ایرانیوں کے ہیں ایسے ہی جیسے جمال الدین افغانی اور مولانا رومی پر بلاشرکت غیرے ان کا قبضہ ہے۔

ہلاکو خان بغداد میں داخل ہوا تو خلافت بنو عباس کے خاتمہ کے بعد فقط شہر کو تاراج کرنے پر اکتفا کر بیتھا۔ ناسمجھ پورے بغدادشہر کا نہیں تو اس کے کسی ایک محلّے، خیابان یا تعلیمی ادارے کا نام ہی بدل کر اپنے اقتدار کا ثبوت چھوڑ جاتا۔ الغرض، دنیائے شرق میں بادشاہت آئی تو خلافت کے آثار مٹا دیے، مذہبی انقلاب آئے تو بادشاہت کے دور کی یادوں کو نابود کر دیا، جمہوریت آئی تو وہ گزشتہ حکومتوں کی بنائی گئی یادگاروں اور ان کے ناموں تک کو محو کرنا اپنا فریضہ سمجھ بیٹھی۔ ہر صاحب اقتدار گروہ نہ جانے اپنے ماقبل افراد کی تعمیر کردہ عمارت کو گرا کر ہی اس کے ڈھیر پر اپنے نام کی عمارت کیوں کھڑی کرتا رہا؟ کیا خدا کی زمین اتنی تنگ ہے کہ انسانیت کی فلاح کے لئے نئے شہر بسا کر اپنے نام سے نئے خیابان، نئے پارک، نئے اسپتال اور نئی یونیورسٹیاں نہیں بنائی جا سکتیں؟


اسی بارے میں

لاہور کا نام ”بدھو کا آوا“ رکھا جائے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
قسور عباس خان کی دیگر تحریریں
قسور عباس خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں