معصوم لڑکیوں کے ناکارہ شوہر


میں رانیہ کے فیصلے سے بہت خوش تھی۔ پچھلے بہت دنوں سے اس کو دلاسے اور تسلیاں کرتے ہوئے گزر گئے تھے۔ اس کو سمجھاتے ہوئے، ہمت اور حوصلہ دیتے ہوئے میں نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ وہ بہت کمزور قوتِ فیصلہ رکھتی ہے یہ تو مجھے بہت اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا بہت دن پہلے ہی۔ لیکن اب اس نے اپنی والدہ اور والد کو بھی اپنے فیصلے اور اپنے آپ سے اتنے دنوں سے جاری جنگ کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اور اسمیں کوئی شک نہیں کہ والدہ کو اپنے شوہر کے بارے میں سب کچھ بتانے کے لئے بھی میں نے ہی مجبور کیا تھا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ وہ میرے ادارے میں میری نئی کولیگ اور ماتحت بھی تھی، انتہائی خوبصورت اور محنتی جب وہ ہمارے ادارے میں آئی تو اس وقت اس کی شادی کو چھ ماہ ہی ہوئے تھے لیکن اس کی طبیعت اور برتاؤ میں اندر سے پھوٹتی ہوئی خوشی کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا، اس کی ہنسی میں کھوکھلا پن صاف محسوس ہوتا تھا گو کہ وہ اکثر اپنے شوہر اور باقی گھر والوں کی باتیں اور تعریفیں کرتی رہتی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں میری چھٹی حس کیوں کہیں کچھ غلط ہے کا الارم دیتی رہتی تھی اور اسی تجسس اور آہستہ آہستہ ہماری اکثر ہونے والی بات چیت کے بعد وہ میرے ساتھ اپنے دل کی باتیں زبان پر لے ہی آئی۔ اور جو کچھ مجھے اس نے اپنے اور شوہر کے تعلقات کے بارے میں بتایا وہ انتہائی پریشان کن اور چونکا دینے والا تھا۔ ایسا سب کچھ میں نے کہانیوں میں تو بہت پڑھ رکھا تھا لیکن حقیقت میں بھی ایسا ہوتا ہے اور کوئی مرد اپنی کمزوری چھپانے کے لئے کیسے کسی معصوم لڑکی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔

شادی کی پہلی رات سے لے کر اب تک چھ ماہ گزرنے کے بعد تک رانیہ کنواری تھی، اس کا شوہر قدرتی طور پر رانیہ تو کیا کسی بھی لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے قابل ہی نہیں تھا۔ رانیہ نے یہ بات نہ صرف اپنے والدین سے اب تک چھپا کر رکھی تھی بلکہ شوہر کی ماں سے بھی۔ نام نہاد شوہر جو کہ ایک امیر باپ کا بگڑا ہوا بیٹا تھا گو کہ باپ کے کاروبار میں ہاتھ بھی بٹاتا تھا۔ وہ نارمل طریقے سے حق زوجیت ادا کرنے کے قابل تو تھا ہی نہیں تھا لیکن بجائے اس کے کہ وہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرتا وہ رانیہ کو ہی مختلف طریقوں سے تنگ کرتا جو کہ میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں قلمبند کر سکوں۔

بہر حال میں نے رانیہ کی والدہ سے بات کی، وہ ایک ماں ہونے کے ناطے ظاہر ہے بہت پریشان ہوئیں۔ لیکن انہوں نے ایک سمجھدار ماں ہونے کا ثبوت دیا اور رانیہ کے والد کو اعتماد میں لیتے ہوئے رانیہ کے سسرال والوں سے بات کی۔ ان لوگوں کا ری ایکشن اور پھر بعد میں ہونے والے واقعات ایک الگ اور تکلیف دہ داستان ہے، رانیہ کے شوہر نے اس کو دولت، اور جائیداد کا لالچ دیتے ہوئے ڈرایا دھمکایا کہ میں طلاق نہیں دوں گا اور اس کے والدین نے بجائے اس کی کجی اور کمی کا علاج کروانے کی بات کرنے کے رانیہ پر آوارہ اور بد چلن ہونے کے الزامات لگانے شروع کر دیے۔ بہر حال ایک طویل جدوجہد اور دونوں خاندانوں کے بزرگوں کو درمیان میں ڈال کر رانیہ اس آدمی سے طلاق لینے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کی اس ساری جدوجہد کے پیچھے میں بھی ہر لمحہ موجود تھی۔

اس ساری کہانی کے بیان کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ والدین کو اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اتنا اعتماد بھی دیں کہ وہ اپنی زندگی میں مشکل حالات کا مقابلہ اور بڑے فیصلے کرنے کے قابل بھی بنیں۔ رانیہ کے والدین تو پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ تھے جو ہر قدم اپنی بیٹی کے ساتھ رہے لیکن ہمارے ہی معاشرے میں ایسے ہی حالات کا اپنے سسرال میں سامنا کرتی ہوئی ہزاروں لڑکیاں موجود ہیں جو دوسروں کی جتنے منہ اتنی باتوں اور والدین کی عزت کے ڈر سے ساری زندگی گزار دیتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں