قرار داد اور خواب کے درمیاں۔۔۔


ramish-fatimaخواب دیکھنے پہ کس کی اجارہ داری ہے؟ کون ہے جو پابندی لگا سکے خواب دیکھنے پر؟ ہزار بار ٹوٹیں… ہم ہزار بار نئے خواب بُن سکتے ہیں۔۔۔ خواب کی تان ہر بار گھروندے پہ آ کے ٹوٹتی ہے۔ جتنی بار گھروندے بنائیں، وہ ٹوٹ ہی جاتے ہیں۔ ہمت ہے مگر حضرتِ انسان کی خوش فہم طبیعت کی، آپ لاکھ بار خواب ٹوٹتے دیکھیں، گھروندے بناتے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر سے نئے خوابوں کی طرف چل پڑتے ہیں۔ قراردادِ لاہور والے مگر اپنے خواب کے سچے نکلے، اسے جنگِ عظیم دوم کا شاخسانہ کہیئے یا کوئی اور بات ڈھونڈ لائیں۔۔۔ جیسے تیسے خواب دیکھا، کسی طور پورا ہو ہی گیا۔

لیکن خواب دیکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ تعبیر پانے تک کا مرحلہ شوق دشوار ہوا کرتا ہے۔  کسی طوفان کا اندیشہ ہو یا کسی خون ریزی کا امکان۔۔۔ اسے خواب دیکھنے والوں کی کوتاہ نظری کہیئے کہ وہ اس جانب نظر نہیں کرتے۔  ان کی نظر آسمانوں پہ ہوتی ہے، اور زمین پہ وہ تب ہی لوٹتے ہیں، کھوٹے سکے وہ تب ہی دیکھتے ہیں، جب ٹھوکر لگتی ہے، کیا ہے نا۔۔۔

خود فریبی سی خود فریبی ہے

پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

پھر چاہے تعبیر دو طرفہ خون خرابے کی صورت میں ہو، لٹنے میں اور لُوٹے جانے میں ہو، مقاصد کی زلفِ دراز اس بیچ آ جاتی ہے، کہیں نظریہ ضرورت کے نام پر تماشا ہو۔۔۔ تو کہیں 1953 میں احمدی کمیونٹی کے خلاف فسادات۔۔۔ کبھی مذہب کا تڑکا لگے تو کبھی جنگی جنون حاوی ہو جائے، مسائل کا ادراک نہیں کرتے، گھروندے توڑ بیٹھتے ہیں اور الزام تک اپنے سر نہیں لے سکتے۔  کبھی شراب کے خلاف ہو کے گھر بچاتے ہیں تو کبھی حد کا سہارا لیتے ہیں، اپنے ہی گھر کی بنیادوں میں زہر بھر لیتے ہیں، سچ کا سامنا نہیں کرتے اور جھوٹ کا ڈھول گلے میں ڈالے بجاتے پھرتے ہیں۔  کبھی ڈالروں کے عوض جہاد بیچتے ہیں، کبھی بارود جمع کرتے ہیں کہ دوسرے کے گھر آگ لگائیں گے

ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے

مد و جزر اسلام سے گزر کر، حجازی کی تحاریر پڑھ کے خون گرماتے ہیں، ناہید کے خطوں کا انتظار کرتے ہیں، اپنے ہی گھر پہ چڑھائی کرتے نہیں تھکتے۔ تو کیا اب خواب دیکھنا چھوڑ دیں ؟

سرکار خواب تو ہم دیکھیں گے، پھر سے دیکھیں گے، دیسی ٹھرا پینے والوں کا محفوظ تفریح پہ حق تسلیم کر لیتے تو ہر سال زہریلی شراب کی ہلاکتوں کی خبر ہمارے اخبار کی زینت نہ بنتیں، لیکن کیا ہے نا۔۔۔ ہمارے بھائی اسلام الدین کا دل کچھ نازک ہے، کھلونا ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ اپنا کام کریں، ہمارا کام خواب دیکھنا ہے۔ ہم ذاتی زندگی پہ فرد کا حق تسلیم کرتے ہیں اور یہی خواب ہے کہ آپ بھی اس حق کو تسلیم کریں۔  آپ بےشک خواب دیکھنے والے کو سگریٹ کی مثال دیں کہ ایک سرے پہ آگ اور دوسرے سرے پہ احمق ہے لیکن کیا ہے نا۔۔۔ خواب دیوانے ہی دیکھتے ہیں کہ یہ کام انہی کا ہے۔ آپ کبھی کہیں ٹھہر جاتے ہیں، کبھی کہیں حجت کرتے ہیں۔  ہم ہر ستم کا بوجھ اپنے کندھے پہ اٹھائے چل رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تھا جس کا انتظار، یہ وہ سحر تو نہیں۔۔۔ پھر بھی چلتے ہیں کہ مل ہی جائے گی کہیں نا کہیں۔۔۔

اتنے خواب تو ہم اب بھی دیکھتے ہیں کہ اختلاف پہ کسی کا گھر نہیں جلائیں گے، زندگی پہ سب کا حق تسلیم کریں گے، ہمارے نظریات کو ٹھیس پہنچے گی تو کسی کو جان سے نہیں ماریں گے۔۔۔ اور یہ کہ کسی روز منزل تک پہنچ ہی جائیں گے، بس سفر شرط ہے۔ اور ہاں آپ سے درخواست ہے کہ اس سفر کے ہجے انگریزی والے سفر سے خلط ملط نہ کریں۔ خیال رہے کہ قرار داد آپ کے ہاتھ میں ہے اور خواب ہمارے پاس ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “قرار داد اور خواب کے درمیاں۔۔۔

  • 23-03-2016 at 9:09 am
    Permalink

    بہت خوب۔۔۔۔ تھا جس کا انتظار، یہ وہ سحر تو نہیں 🙁

  • 23-03-2016 at 12:37 pm
    Permalink

    چلے چلو کہ مل جائے گی منزل کہیں نا کہیں

  • 24-03-2016 at 12:06 am
    Permalink

    ایک اور بے معنی مضمون۔ سمجھ نہی آئی مصنف کیا کہنا چاہتا ہے

  • 25-03-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    بلاشبہ بے
    سود سی کوشش کی ہے عبث باتیں نہ کوئی آغاز نہ احتیتام

Comments are closed.