چاکلیٹ کے پگھلتے شہر کے گلِ پریشاں


inam-rana

سیاحت نوجوانی سے میرا جنون رہا ہے۔ اور شاید ہر اس نوجوان کا جنون جو مستنصر حسین تارڑ کی تحریر کے سحر میں مبتلا ہوا۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ زیادہ پیسے کمانے کا کیا فائدہ ہے تو میں فوراً کہوں گا کہ آپ جہاں چاہے، جب چاہے سیر کو جا سکتے ہیں۔ سفر کا ایک دن انسان کو اس سے زیادہ سبق سکھا جاتا ہے جو وہ کئی کتب پڑھنے کے بعد حاصل کر پاتا ہے۔ شاید تبھی رب نے بھی سیاحت کا حکم دیا۔ سو سیاحت کا یہی شوق تھا جسکے ہاتھوں میں ایک رات کے لیے چھوٹے سے بیلجیئم کے اس سے بھی چھوٹے دارلحکومت برسلز میں تھا۔ تین دن قبل لندن میں رات کو گپیں مارتے اچانک مجھے، زاہد اور باصر(فرضی نام ہیں، اب تو ظالم دوست دھمکی والا فون کرتے ہیں کہ اگر کسی تحریر میں ہمارا نام آیا تو تیری خیر نہیں) کو یکایک یہ احساس ہوا کہ ہم تینوں کی بیویاں خوش قسمتی سے ہمارے ساتھ نہیں اور اس آزادی کا فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت بھی ہے اور ناشکری بھی۔ چنانچہ اگلے ہی دن ہم گاڑی چلاتے ہالینڈ پہنچ گئے۔ ہالینڈ سے تھکے ٹوٹے جب ہم وسطی برسلز پہنچے تو لگا ہم کسی کتاب میں آ گئے ہیں 12443256_10154048493346667_73104688_nاور ہم تینوں برسلز کے سحر کا شکار ہو گئے۔

جب بھی بیلجیئم کے پاس سے گزرو تو لگتا ہے جیسے یہ شہر بھی گھنٹا گھر ہے۔ جہاں کو جاؤ جدھر سے بھی جاؤ برسلز ضرور آ جاتا ہے۔ صرف تیس ہزار مربع کلومیٹر کا یہ ملک جرمنی، فرانس اور ہالینڈ کے درمیان کچھ یوں ہے کہ ایک سے دوسرے ملک جانا ہو تو آپ کو بیلجیئم سے ضرور گزرنا ہے۔ آبادی فقط ایک کروڑ پندرہ لاکھ کے قریب ہے اور اتنی ہی سادہ اور محنتی ہے جتنے ہمارے پٹھان۔ بس یہ نسوار نہیں کھاتے اور غصے کے تیز بھی نہیں۔ برسلز کی ایک مشہوری (جسے وہ شہرت ہی سمجھتے ہیں) انکی غیر محتاط ڈرائیونگ ہے۔ پورے یورپ میں جب کوئی گاڑی غلط چلائے تو کہتے ہیں، بیلجیئم کا لگتا ہے۔ پہلی بار جب میں اپنے سسرال شریف گاڑی چلا کر گیا تو زوجہ ماجدہ نے برسلز سے قبل تنبیہ کی کہ اب محتاط ہو جاؤ بیلجیئم شروع ہے۔ اور واقعی ظالموں کی ڈرائیونگ ایسی ہے کہ اگر میں لاہور کا سکھایا نہ ہوتا تو حادثہ یقینی تھا۔ دوسری وجہ شہرت ہے چاکلیٹ۔ گو سوس چاکلیٹ کا اپنا مقام ہے مگر بیلجیئم نے چاکلیٹ کو ایک آرٹ بنا دیا۔ آپ کو اتنی اقسام کی چاکلیٹوں کی اتنی زیادہ دوکانیں نظر آتی ہیں کہ شہر ہی چاکلیٹ سے بنا لگتا ہے۔

12899739_10154048493191667_682159593_n

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ یہ بیلجیئم ایک ملک تھا ہی نہیں۔ ایک عرصہ تک تو یہ فقط ایک ایسا خطہ زمین تھا کہ جن دو ملکوں کو جنگ لڑنی ہوتی وہ اس میدان میں آ جاتے مگر اپنا حصہ کوئی نہ بناتا۔ اسی لیے اسے یورپ کا میدان جنگ کہتے تھے، آپ یورپ کا پانی پت کہہ لیں۔ پھر جب ہالینڈ کی سلطنت ریاست متحدہ ہائے ہالینڈ بنی تو اسے بھی شفقت کرتے ہوے اپنا حصہ مان لیا۔ مگر سلوک اور حقوق ان کو بھی وہی ملے جو ہم نے گلگت بلتستان کو دے رکھے ہیں۔ سو سن 1830 میں یہ اٹھ پڑے اور آزادی کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان سن کر ہالینڈ کی ہنسی نکل گئی۔ اتنی زیادہ کہ اگلے نو سال تک انھوں سے اس اعلان کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں اور بس ہنستے ہی رہے۔ آخر یورپ کے باقی ملکوں نے ہالینڈ کو سمجھایا، اعلان لندن ہوا اور بیلجیئم ایک ملک بن گیا۔ کل تک جسے کوئی بھی ملک اپنا حصہ بنانے پر تیار نہ تھا، آزادی ملتے ہی اس نے ایسی محنت کی کہ ایک قوم کے طور پر کھڑا ہو گیا۔

12443255_10154048494326667_1323954128_n

جنگ عظیم اوّل میں جرمنوں نے فرانس کی طرف جاتے جاتے، یونہی بیلجیئم کو ذرا فتح کر لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے بیلجیئم کو پیغام بھیجا کہ آج رات گزریں گے، خوامخواہ بیچ میں مت آنا ہمیں فرانس فتح کرنا ہے۔ اس موقع پر بادشاہ لیوپولڈ نے وہ تاریخی جملہ کہا جو اسے امر کر گیا۔ “میں ایک قوم کا بادشاہ ہوں، سڑک کا نہیں”۔ چنانچہ جو تھوڑی سی مزاحمت بیلجیئم کر سکا اس نے باقی یورپ کو جرمنوں کے مقابل سنبھالا دے دیا۔ اسی کے بعد بیلجیئم کو عزت کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور آج برسلز یوروپین یونین کا مرکز ہے اور یورپی پارلیمنٹ کا مقام بھی۔ سو میں اسی برسلز میں تھا۔

برسلز اتنا چھوٹا ہے کہ ایک سیاحتی گروپ کے ساتھ تین گھنٹے کے پیدل مارچ میں ہم نے سارا شہر دیکھ ڈالا۔ مشہور بلجین چپس، قرطبہ چٹنی ڈال کر بھی کھا لیے اور ہر وہ چیز دیکھ لی جسے دیکھنا یا تاڑنا، تارڑ سیاحت کا لازمی جزو ہے۔ جب کرنے کو اور کچھ نہ رہا تو میں اور باصر چاکلیٹ کی دوکان میں داخل ہو گئے۔ اور آگے کھڑا تھا پیارا گل خان۔ چاکلیٹ کی اتنی بڑی دوکان میں نے پہلے کبھی شاید ہی دیکھی ہو۔ عموماً یہاں دوکاندار گاہک کے ساتھ ساتھ پھر کر اسے پراڈکٹ نہیں دکھاتا مگر گل خان چاکلٹ کے ڈبے یوں آگے ڈھیر کرتا تھا جیسے اوریگا سینٹر لاہور میں پٹھان کپڑے کے ڈھیر۔ ہم جو فقط اتنی اقسام اور شکلوں اور رنگوں کی چاکلیٹ دیکھ کر بچوں کی طرح خوش تھے، خریدنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھے کہ اچھی تھیں مگر مہنگی تھیں۔ سو ہم بس گل خان کے آگے کیے ہوے سیمپل کھاتے تھے اور پھر اگلا سیمپل کھاتے تھے۔ اتنے میں پیچھے سے زاہد آیا۔

آپ کو بھی پتہ ہے کہ ہر شخص کا ایک دوست ہوتا ہے جو بہت کمینہ ہوتا ہے اور آپ کو مروا دیتا ہے۔ سو زاہد نے جو شاید ہم کو سنجیدگی کے ساتھ گل خان کی چاکلیٹ دیکھتے، اسکی باتیں سنتے اور سیمپل کھاتے دیکھ کر جل ہی گیا بولا، خان ساب یہ مفت سیمپل کھا رہے ہیں انھوں نے خریدنی تو نہیں۔ سنتے ہی جیسے ہم پر گھڑوں پانی پڑ گیا مگر گل خان فورا بولا “کوئی بات نہیں ام تو اپنا پاکستانی بائی کا کھدمت کرتا ہے، نہ لے کون سا امارا باپ کا دوکان اے”۔ بس اس جملے پر اس گل خان سے وہ خوشبو پھوٹی جو یورپ کیا پاکستان کے گلاب میں بھی نہیں۔ اگلا آدھا گھنٹا چاکلیٹ بھی کھائی اور پھر دل میں زاہد کو گالیاں دیتے چاکلیٹ کے دو تین ڈبے بھی خریدے۔

belgium-paris-attacks

گل خان نے بتایا کہ وہ اور اسکے کئی دوست ایک لاہوری کی چاکلیٹ کی دوکانوں پہ کام کرتے ہیں۔ میں نے امیگریشن کے حالات پوچھے تو بولا بھائی یہ بیلجی اچھے ہیں ، میرے اور بہت سوں کے پاس کاغذ نہیں ہیں۔ پر ہم کام کرتے ہیں، پولیس تنگ نہیں کرتی۔ بس کوئی جھگڑا وغیرہ ہو تو پکڑتی ہے ورنہ تو کبھی یہ بھی نہیں پوچھتے کہ کہاں سے ہو۔ گل خان خوش تھا کہ بارہ سو یورو مہینہ کما کر پاکستان میں گھر اچھا چلا لیتا ہے۔ آج برسلز میں دھماکے ہوے ہیں اور بائیس بے گناہ مارے گئے۔ کس نے مارے اور کیوں مارے کی بحث نہی جانتا لیکن آپ خواہ دیسی لبرل کی پھبتی کسیں یا کچھ اور کہیں، بائیس بے گناہ مارے گئے ہیں۔ چاکلیٹ بارود کی تپش سے پگھلنے لگی ہے۔ اب سختی ہو گی، گل خان کے کاغذ بھی چیک ہوں گے اور وہ ڈی پورٹ ہو جائے گا۔ سوچتا ہوں مرنے والے بے گناہوں کے خون کی سزا اب بے گناہ گل خان بھگتے گا۔

This slideshow requires JavaScript.


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

4 thoughts on “چاکلیٹ کے پگھلتے شہر کے گلِ پریشاں

  • 23-03-2016 at 11:17 am
    Permalink

    بے گناہوں کے خون کی سزا جانے کتنے بےگناہوں کو ملتی ہے۔ چاکلیٹ اور خون کے ذائقے اور دیسی گلاب کی خوشبو سے ملی جلی ایک عمدہ تحریر۔

  • 23-03-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    شکریہ سر

  • 23-03-2016 at 4:08 pm
    Permalink

    جیوے میرا استاد
    ❤❤❤❤❤

  • 23-03-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    بیلجیئم کے بادشاہ نے کہا تھا “میں ایک قوم کا بادشاہ ہوں، سڑک کا نہیں”
    لیکن پاکستان کے “بادشاہ” نے تو کہا تھا جی حضور شمسی آئیر بیس جارج واشنگٹن کے باپ کے دہیج میں آئی تھی…. یہ لیجیے!!!

Comments are closed.